قومی زبان

رات یہ کون مرے خواب میں آیا ہوا تھا

رات یہ کون مرے خواب میں آیا ہوا تھا صبح میں وادئ شاداب میں آیا ہوا تھا اک پرندے کی طرح اڑ گیا کچھ دیر ہوئی عکس اس شخص کا تالاب میں آیا ہوا تھا میں بھی اس کے لیے بیٹھا رہا چھت پر شب بھر وہ بھی میرے لیے مہتاب میں آیا ہوا تھا سرد خطے میں سلگتا ہوا جنگل تھا بدن آگ سے نکلا تو برفاب میں ...

مزید پڑھیے

کوئی ایسا حل نکالیں سلسلہ یوں ہی رہے

کوئی ایسا حل نکالیں سلسلہ یوں ہی رہے مر بھی جائیں تو ہمارا رابطہ یوں ہی رہے چلتی جائے کشتی یوں ہی بادباں کھولے ہوئے یہ جزیرے یہ دھواں آب و ہوا یوں ہی رہے ختم ہو جائے دکھوں کا یہ پہاڑی سلسلہ اور قائم دو دلوں کا حوصلہ یوں ہی رہے میری آنکھوں میں سدا کھلتے رہیں اشکوں کے پھول اور ...

مزید پڑھیے

خواب میں نور برسنے کا سماں ہوتا ہے

خواب میں نور برسنے کا سماں ہوتا ہے آنکھ کھلتی ہے تو کمرے میں دھواں ہوتا ہے دھوپ ایسی در و دیوار پہ ٹھہری آ کر گھر پہ آسیب کے سائے کا گماں ہوتا ہے خواب میں جا کے اسے دیکھ تو آؤں لیکن اب وہ آنکھوں کے دریچوں میں کہاں ہوتا ہے دن کو ہوتی ہے جو لوگوں کے گزرنے کی جگہ شام کے بعد وہاں ...

مزید پڑھیے

اب تو آنکھ سے اتنا جادو کر لیتا ہوں

اب تو آنکھ سے اتنا جادو کر لیتا ہوں جس کو چاہوں اس کو قابو کر لیتا ہوں میرے ہاتھ میں جب سے اس کا ہاتھ آیا ہے خار کو پھول اور پھول کو خوشبو کر لیتا ہوں رات کی تنہائی میں جب بھی گھر سے نکلوں اس کی یادوں کو میں جگنو کر لیتا ہوں دل کا دریا صحرا ہونے سے پہلے ہی اپنی ہر اک خواہش آہو کر ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد

آنکھوں سے خواب دل سے تمنا تمام شد تم کیا گئے کہ شوق نظارہ تمام شد کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا دریا پہ ہونٹ رکھے تو دریا تمام شد دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی پہنچی دکھوں کی آنچ تو دنیا تمام شد شہر دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے کیا بچ گیا ہے راکھ میں اور کیا تمام ...

مزید پڑھیے

مکیں یہیں کا ہے لیکن مکاں سے باہر ہے

مکیں یہیں کا ہے لیکن مکاں سے باہر ہے ابھی وہ شخص مری داستاں سے باہر ہے اتر بھی سکتا ہے سرطان کی طرح مجھ میں وہ عشق جو مرے وہم و گماں سے باہر ہے سوال یہ نہیں مجھ سے ہے کیوں گریزاں وہ سوال یہ ہے کہ کیوں جسم و جاں سے باہر ہے نہ جانے کیسے ترازو ہوا مرے دل میں وہ ایک تیر جو تیری کماں سے ...

مزید پڑھیے

وصال گھڑیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں

وصال گھڑیوں میں ریزہ ریزہ بکھر رہے ہیں یہ کیسی رت ہے یہ کن عذابوں کے سلسلے ہیں مرے خدا اذن ہو کہ مہر سکوت توڑیں مرے خدا اب ترے تماشائی تھک چکے ہیں نہ جانے کتنی گلاب صبحیں خراج دے کر رسن رسن گھور اماوسوں میں گھرے ہوئے ہیں صدائیں دینے لگی تھیں ہجرت کی اپسرائیں مگر مرے پاؤں دھرتی ...

مزید پڑھیے

دشمن کو زد پر آ جانے دو دشنہ مل جائے گا

دشمن کو زد پر آ جانے دو دشنہ مل جائے گا زندانوں کو توڑ نکلنے کا رستہ مل جائے گا شاہ سوار کے کٹ جانے کا دکھ تو ہمیں بھی ہے لیکن تم پرچم تھامے رکھنا سالار سپہ مل جائے گا ہمیں خبر تھی شہر پنہ پر کھڑی سپاہ منافق ہے ہمیں یقیں تھا نقب زنوں سے یہ دستہ مل جائے گا سوچ کمان سلامت رکھنی ...

مزید پڑھیے

ہر ایک چہرے پہ کندہ حکایتیں دیکھو

ہر ایک چہرے پہ کندہ حکایتیں دیکھو خلوص دیکھ چکے ہو تو نفرتیں دیکھو جو اہل دل ہو تو احساس آگہی کے لیے بجھی نگاہوں میں تحریر آیتیں دیکھو رگوں میں کھولتے خوں کی قسم نہ کھاؤ کبھی گداز جسموں میں پنہاں صلاحیتیں دیکھو جو ہو سکے تو کبھی تپتی شاہراہوں پر ٹپکتے خون سے لکھی عبارتیں ...

مزید پڑھیے

نہ آرزؤں کا چاند چمکا نہ قربتوں کے گلاب مہکے

نہ آرزؤں کا چاند چمکا نہ قربتوں کے گلاب مہکے نہ ہجرتوں کا عذاب سہتے ہوئے مسافر گھروں کو لوٹے نہ آنگنوں میں درخت جاں پر وصال موسم کا بور جاگا نہ ڈالی ڈالی کسی پرندے نے خوشبوؤں کے ترانے چھیڑے ورق ورق زائچوں میں تحریر ایک سے تھے جواب لیکن سوال چکھنے کی خام خواہش میں ہم نے کیا کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3940 سے 6203