ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے
ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے خبر کیا تھی کہ اپنا ہی تماشا دیکھنا ہے ڈسے گا بے بسی کا ناگ جانے اور کب تک نہ جانے اور کتنے دن یہ نقشہ دیکھنا ہے دعا کا شامیانہ بھی نہیں ہے اب تو سر پر سو خود کو حدت غم میں جھلستا دیکھنا ہے نہیں اب سوچنا کیا ہو چکا کیا ہوگا آگے بس اب تو ہاتھ ...