قومی زبان

ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے

ارادہ تھا کہ اب کے رنگ دنیا دیکھنا ہے خبر کیا تھی کہ اپنا ہی تماشا دیکھنا ہے ڈسے گا بے بسی کا ناگ جانے اور کب تک نہ جانے اور کتنے دن یہ نقشہ دیکھنا ہے دعا کا شامیانہ بھی نہیں ہے اب تو سر پر سو خود کو حدت غم میں جھلستا دیکھنا ہے نہیں اب سوچنا کیا ہو چکا کیا ہوگا آگے بس اب تو ہاتھ ...

مزید پڑھیے

گلاب سرخ سے آراستہ دالان کرنا ہے

گلاب سرخ سے آراستہ دالان کرنا ہے پھر اک شام وصال آگیں تجھے مہمان کرنا ہے سوا تیرے ہر اک شے کو ہٹا دینا ہے منظر سے اور اس کے بعد خود کو بے سر و سامان کرنا ہے میں اپنا دشت اپنے ساتھ لے کر گھر سے نکلا ہوں فنا کرنا ہے خود کو اور علی الاعلان کرنا ہے وفا کے گوشوارے میں مرا پہلا خسارہ ...

مزید پڑھیے

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے

ہمیں تو خواہش دنیا نے رسوا کر دیا ہے بہت تنہا تھے اس نے اور تنہا کر دیا ہے اب اکثر آئینے میں اپنا چہرہ ڈھونڈتے ہیں ہم ایسے تو نہیں تھے تو نے جیسا کر دیا ہے دھڑکتی قربتوں کے خواب سے جاگے تو جانا ذرا سے وصل نے کتنا اکیلا کر دیا ہے اگرچہ دل میں گنجائش نہیں تھی پھر بھی ہم نے ترے غم ...

مزید پڑھیے

تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے

تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے پھر یوں ہوا ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے قربت کے موسموں کی ادا یاد رہ گئی گزری رفاقتوں کا اثر بھولنے لگے ازبر ہیں یوں تو کوچۂ جاناں کے سب نشاں لیکن ہم اس کی راہ گزر بھولنے لگے پہنچے تھے ہم بھی شہر طلسمات میں مگر وہ اسم جس سے کھلنا تھا در بھولنے ...

مزید پڑھیے

ایک بے نام سا ڈر سینے میں آ بیٹھا ہے

ایک بے نام سا ڈر سینے میں آ بیٹھا ہے جیسے اک بھیڑیا ہر در سے لگا بیٹھا ہے ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے لٹ جانے کا گویا پہرے پہ کوئی خواجہ سرا بیٹھا ہے حرمتیں صنعت آہن کی طرح بکتی ہیں جس کو دیکھو وہ خریدار بنا بیٹھا ہے اور کیا رب سے وہ مانگیں گے فضیلت جن کے ذہن کورے ہیں مگر سر پہ ہما ...

مزید پڑھیے

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں

ہم پریوں کے چاہنے والے خواب میں دیکھیں پریاں دور سے روپ کا صدقہ بانٹیں ہاتھ نہ آئیں پریاں راہ میں حائل قاف پہاڑ اور ہاتھ چراغ سے خالی کیونکر جنوں کے چنگل سے ہم چھڑوائیں پریاں آشاؤں کی سوہنی سحری سیج سجائے رکھوں جانے کون گھڑی میرے گھر میں آن براجیں پریاں سارے شہر کو چاندنی کی ...

مزید پڑھیے

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے

میں تلاش میں کسی اور کی مجھے ڈھونڈھتا کوئی اور ہے میں سوال ہوں کسی اور کا میرا مسئلہ کوئی اور ہے کبھی چاند چہروں کی بھیڑ سے جو نکل کے آیا تو یہ کھلا وہ جو اصل تھا اسے کھو دیا جسے پا لیا کوئی اور ہے کٹی عمر ایک اسی چاہ میں اسے دیکھتے کسی راہ میں مگر اک زمانے کے بعد جو ہوا آشنا کوئی ...

مزید پڑھیے

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے

ریا کاریوں سے مسلح یہ لشکر مجھے مار دیں گے میں بچ بھی گیا تو نئے حملہ آور مجھے مار دیں گے بظاہر یہ اہل محبت ہیں لیکن منافق بہت ہیں یہ اک روز دام محبت میں لا کر مجھے مار دیں گے میں اپنی ہی آواز اپنے ہی سائے سے ڈرنے لگا ہوں اور اب خوف یہ ہے کہ میرے یہی ڈر مجھے مار دیں گے اسی میں ...

مزید پڑھیے

درخت

وہ ایک درخت کھڑا ہی رہتا تھا ہمیشہ ہمیشہ سے کتنی بار بدلے موسم کتنی کونپلیں پھوٹی اور جانے کتنی بار سارے پتے سوکھ کر جھڑ گئے اسے ایک دم ننگا کر کھڑا رہا وہ پھر بھی گھونسلے بنتے رہے انڈے کچھ پھوٹے کچھ سانپوں نے ڈس لیے اور جو پنپ سکے اس کی چھایا میں وہ جس دن اونچا اڑ سکے اڑ ...

مزید پڑھیے

تری تلاش تری جستجو اترتی ہے

تری تلاش تری جستجو اترتی ہے مرے شعور کے کاغذ پہ تو اترتی ہے سنوارنے کے بجائے سنورنے لگتا ہے جب آئنے کے مقابل میں تو اترتی ہے تو میرے نام سے منسوب ہے زمانے میں تو کچھ کرے تو مری آبرو اترتی ہے میں دل کے پاک سے خانے میں اس کو رکھتا ہوں تمہاری یاد بہت با وضو اترتی ہے میں ایسا رند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3942 سے 6203