شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر
شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر ہو گیا صبح کا مہکا ہوا چہرہ پتھر کچھ انوکھی تو نہیں میری محبت کی شکست آئنے جب بھی مقابل ہوئے جیتا پتھر اس طلسمات کی وادی میں پلٹ کر بھی نہ دیکھ ورنہ ہو جائے گا خود تیرا سراپا پتھر یاد کی لہر بہا لائی ہے کس دیس مجھے ہے یہاں وقت کا بہتا ہوا ...