قومی زبان

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر

شب کی دہلیز سے کس ہاتھ نے پھینکا پتھر ہو گیا صبح کا مہکا ہوا چہرہ پتھر کچھ انوکھی تو نہیں میری محبت کی شکست آئنے جب بھی مقابل ہوئے جیتا پتھر اس طلسمات کی وادی میں پلٹ کر بھی نہ دیکھ ورنہ ہو جائے گا خود تیرا سراپا پتھر یاد کی لہر بہا لائی ہے کس دیس مجھے ہے یہاں وقت کا بہتا ہوا ...

مزید پڑھیے

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے

نبھاؤ اب اسے جو وضع بھی بنا لی ہے وگرنہ دہر تو اہل وفا سے خالی ہے حریم دل میں تری آرزو نے روشن کی وہ آگ جس نے شب زندگی اجالی ہے تری نگاہ کرم ہے وگرنہ اے غم دوست زمانہ کیا ترے شیدائیوں سے خالی ہے ستم ہے میری طرف پیار سے نظر نہ کرے وہ بت کہ جس میں مرے فن نے جان ڈالی ہے بجا کہ حسن کا ...

مزید پڑھیے

پھاندتی پھرتی ہیں احساس کے جنگل روحیں

پھاندتی پھرتی ہیں احساس کے جنگل روحیں کب سکوں پائیں گی بھٹکی ہوئی بے کل روحیں پا شکستہ ہیں شب و روز کے ویرانے میں ڈھونڈتی ہیں کسے اس دشت میں پاگل روحیں جب بھی اٹھتے ہیں نگاہوں سے غم جاں کے حجاب دیکھ لیتی ہیں کسی شوخ کا آنچل روحیں رونما ہو چمن دہر میں اے ابر نشاط درد کی دھوپ میں ...

مزید پڑھیے

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستو

رات لمبی بھی ہے اور تاریک بھی شب گزاری کا ساماں کرو دوستو جانے پھر کب یہ ملنا مقدر میں ہو اپنی اپنی کہانی کہو دوستو کس پری چہرہ سے پیار تم نے کیا کون سے دیس کے شاہزادے ہو تم اپنی روداد الفت سنا کر بہم داستاں کوئی تشکیل دو دوستو مجھ کو احساس ہے تم بھی میری طرح جان و دل کوئے الفت ...

مزید پڑھیے

دل کو آمادۂ وفا رکھیے

دل کو آمادۂ وفا رکھیے آندھیاں ہیں دیا جلا رکھیے کتنی صدیوں کی برف پگھلی ہے سیل کا راستہ کھلا رکھیے بن کے لاوا بہے گا جوش نمو اب نہ اس آگ کو دبا رکھیے خون اہل نظر سے گلگوں ہے خاک کا نام کیمیا رکھیے جو سحر کی کرن سے پھوٹے ہیں ان اندھیروں کا نام کیا رکھیے جلتی شاموں کی اس چتا پہ ...

مزید پڑھیے

شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا

شمع رو جلوہ کناں تھا مجھے معلوم نہ تھا صاف پردے سے عیاں تھا مجھے معلوم نہ تھا گل میں بلبل میں ہر اک شاخ میں پتے میں بھی جا بجا اس کا نشاں تھا مجھے معلوم نہ تھا یہ غلط ہستئ موہوم کو سمجھے تھے مگر اور وطن اپنا یہاں تھا مجھے معلوم نہ تھا ایک مدت حرم و دیر میں ڈھونڈا ناحق سیم بر دل ...

مزید پڑھیے

سکون و صبر کی دنیا میں نام کرتا جا

سکون و صبر کی دنیا میں نام کرتا جا جو ہو سکا نہ کسی سے وہ کام کرتا جا نگاہ پھیر کے جا شوق سے خدا حافظ کسی غریب کا قصہ تمام کرتا جا تصورات میں آ آ کے بھاگنے والے بہشت قلب و نظر میں قیام کرتا جا گزار دوں گا ترے انتظار کی گھڑیاں مجھے اسیر غم صبح و شام کرتا جا حیاتؔ نے تو فقط تجھ ...

مزید پڑھیے

غم گوارا بھی نہیں غم سے کنارا بھی نہیں

غم گوارا بھی نہیں غم سے کنارا بھی نہیں اور اس زندگیٔ عشق سے چارا بھی نہیں کس نے الٹی ہے یہ اپنے رخ تاباں سے نقاب چاند تو چاند فلک پر کوئی تارا بھی نہیں میں انہیں اپنا کہوں مصلحتیں اس کے خلاف وہ مجھے غیر سمجھ لیں یہ گوارا بھی نہیں کیا کیا ہائے یہ احساس خود آگاہی نے اب وہاں ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

دامن کی ہوا یاد نہ زلفوں کی گھٹا یاد

دامن کی ہوا یاد نہ زلفوں کی گھٹا یاد اب کچھ بھی نہیں سوز غم دل کے سوا یاد سرگرم سفر تھا نہ رہا کچھ بھی مجھے یاد نقش کف پا یاد نہ منزل کا پتا یاد تم آ گئے جب یاد تو کچھ بھی نہ رہا یاد کب تم نے بھلایا مجھے کب تم نے کیا یاد اب کچھ بھی نہیں ایک غم دل کے سوا یاد پھر بھی ہے تری نیم نگاہی ...

مزید پڑھیے

عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے

عجیب حال ہے صحرا نشیں ہیں گھر والے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں ادھر ادھر والے نواح جسم نہیں گرچہ ریگزار سے کم یہاں بھی خطے کئی ہیں ہرے شجر والے اگرچہ شور بہت ہے در دعا پہ مگر زبانیں بند کیے بیٹھے ہیں اثر والے ہے راہ جاں یوں ہی سنسان ایک مدت سے نہ گرد اڑی نہ دکھائی دیے سفر والے بغیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3929 سے 6203