قومی زبان

رات گزری کہ شب وصل کا پیغام ملا

رات گزری کہ شب وصل کا پیغام ملا سو گئے خواب کی بانہوں میں جو آرام ملا ڈھونڈتے رہیے شب و روز امیدوں کے قدم کوچۂ زیست میں لے دے کے یہی کام ملا خوبئ بخت کہ جب بھول چکا تھا سب کچھ بے وفائی کا لب غیر سے الزام ملا پا پیادہ تھا مگر راہ میں وہ دھوم مچی جھک کے تعظیم سے شہزادۂ ایام ملا ہم ...

مزید پڑھیے

خواب ٹھہرا سر منزل نہ تہ بام کبھی

خواب ٹھہرا سر منزل نہ تہ بام کبھی اس مسافر نے اٹھایا نہیں آرام کبھی شب بخیر اس نے کہا تھا کہ ستارے لرزے ہم نہ بھولیں گے جدائی کا وہ ہنگام کبھی سرکشی اپنی ہوئی کم نہ امیدیں ٹوٹیں مجھ سے کچھ خوش نہ گیا موسم آلام کبھی ہم سے آواروں کی صحبت میں ہے وہ لطف کہ بس دو گھڑی مل تو سہی گردش ...

مزید پڑھیے

یہی تو غم ہے وہ شاعر نہ وہ سیانا تھا

یہی تو غم ہے وہ شاعر نہ وہ سیانا تھا جہاں پہ انگلیاں کٹتی تھیں سر کٹانا تھا مجھے بھی ابر کسی کوہ پر گنوا دیتا میں بچ گیا کہ سمندر کا میں خزانہ تھا تمام لوگ جو وحشی بنے تھے عاقل تھے وہ ایک شخص جو خاموش تھا دوانہ تھا پتا چلا یہ ہواؤں کو سر پٹکنے پر میں ریگ دشت نہ تھا سنگ صد زمانہ ...

مزید پڑھیے

آئی پت جھڑ گرے فصل گل کے نشاں رات بھر میں

آئی پت جھڑ گرے فصل گل کے نشاں رات بھر میں کٹ گئے کیسے کیسے سجیلے جواں رات بھر میں ٹوٹتی پتیوں کی نگاہوں میں بے چارگی ہے راکھ سی بجھ گئی پنچھیوں کی فغاں رات بھر میں دو گھڑی اور سن میری فرقت کے بیتاب نوحے ختم کیسے ہو اک عمر کی داستاں رات بھر میں تو جو آیا تو گزری بہاریں بھی ہم راہ ...

مزید پڑھیے

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں

جلتی ہوئی رتوں کے خریدار کون ہیں اے پیکر غزل ترے بیمار کون ہیں خوشبو کی ساعتوں کے طلب گار کون ہیں اس زلف مشک بو کے گرفتار کون ہیں کب تک چھپے رہیں گے ازل خامشی کے بھید شہر صدا کے محرم اسرار کون ہیں کرنوں کی رہ گزار پہ اڑتی ہے دھول سی جو اس طرف گئے ہیں وہ جی دار کون ہیں سینوں میں ...

مزید پڑھیے

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو

کر کے سنگ غم ہستی کے حوالے مجھ کو آئینہ کہتا ہے اب دل میں چھپا لے مجھ کو میں نہ دریا ہوں نہ ساحل نہ سفینہ نہ بھنور داور غم کسی سانچے میں تو ڈھالے مجھ کو اک تبسم کے عوض ہیچ نہیں جنس وفا ہنس کے جو بات کرے اپنا بنا لے مجھ کو اتنا بھرپور کہاں تھا مرے غم کا اظہار اجنبی لگتے ہیں اب اپنے ...

مزید پڑھیے

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے

یہ رات کاش اسی دل کشی سے ڈھلتی رہے افق کے پاس پہاڑوں میں آگ جلتی رہے دراز تر ہو خیالوں کی بستیوں کا سفر مری تلاش سدا زاویے بدلتی رہے کوئی چراغ نہ میرے حریم غم میں جلے خود اپنی آنچ میں یہ تیرگی پگھلتی رہے شکستہ ہو کے بھی نومید ہو نہ دل تیرا بجھے چراغ میں بھی روشنی مچلتی ...

مزید پڑھیے

آرزو کی ہما ہمی اور میں

آرزو کی ہما ہمی اور میں درد دل درد زندگی اور میں موجۂ‌ قلزم ابد اور تو چند بوندوں کی تشنگی اور میں رات بھر تیری راہ تکتے رہے تیرے کوچے کی روشنی اور میں چھپ کے ملتے ہیں تیری یادوں سے شب کی تنہائی چاندنی اور میں ایک ہی راہ کے مسافر ہیں بے کراں رات خامشی اور میں رات اس پیکر خیال ...

مزید پڑھیے

برسوں تری طلب میں سفینہ رواں رہا

برسوں تری طلب میں سفینہ رواں رہا اے میرے مہربان بھنور تو کہاں رہا ان سے ملی نظر تو پلٹ کر نہ آ سکی وہ رشتۂ نگاہ بھی کب درمیاں رہا کب عمر خضر خندۂ گل کا جواب ہے یاں دو گھڑی میں عمر ابد کا سماں رہا میں بھی ترے بغیر نہ آرام پا سکا تو بھی مری تلاش میں بے خانماں رہا مجھ کو گلہ ہے طبع ...

مزید پڑھیے

دل کی طرف نگاہ تغافل رہا کرے

دل کی طرف نگاہ تغافل رہا کرے اس خاک راہ کو بھی کوئی کیمیا کرے ہیرے کی کان دیکھ کے آتا ہے یہ خیال کاش اس زمیں سے دانۂ گندم اگا کرے ٹوٹے کسی طرح تو دھوئیں کا سیہ طلسم ہر شام اس دیار میں آندھی چلا کرے دھیمے دکھوں کی راکھ بدن پر ملی تو ہے وہ ڈال دے نظر تو مجھے آئنا کرے خوشبو مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3928 سے 6203