قومی زبان

خورشید کی نگاہ سے شبنم کو آس کیا

خورشید کی نگاہ سے شبنم کو آس کیا تصویر روزگار سے دل ہے اداس کیا شہرت کی گرد خواب کے طوفاں غموں کی دھول ان کے سوا ہے اور زمانے کے پاس کیا ٹوٹا نہ زور غم نہ زمانے کا سر جھکا نکلے گی وصل یار سے دل کی بھڑاس کیا ہم کو کتاب زیست کا ہر باب حفظ ہے اک باب غم کا صرف پڑھیں اقتباس کیا نکلے ...

مزید پڑھیے

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے

خلا کے دشت میں یہ طرفہ ماجرا بھی ہے وہ آسمان جو سر پر تھا زیر پا بھی ہے ہوا کے دوش پہ اک سرمئی لکیر کے ساتھ مری تلاش میں شاید مری صدا بھی ہے ڈرا ہوں یوں کبھی تنہائیوں کی آہٹ سے کہ جیسے مجھ میں کوئی شے مرے سوا بھی ہے بہت عزیز ہے مجھ کو یہ برگ‌ نو جس میں زمیں کا حسن بھی ہے شوخیٔ صبا ...

مزید پڑھیے

رفتگاں

یہیں کچھ لوگ رہتے تھے کہ جن کے دھول مٹی سے اٹے جسموں کی خوشبو اب ہمارے دل کی دھڑکن ہے جو دکھ کی راکھ کو اپنے لہو کی آنچ دے کر زمانے میں مسرت کی توانائی لٹاتے تھے جو لوگوں بیکسوں نادار انسانوں کی خاطر اپنی خوشیاں بھول جاتے ہیں یہی وہ لوگ تھے وہ دل ربا انساں جو انسانوں سے بڑھ کر خوب ...

مزید پڑھیے

بیان شوق بنا حرف اضطراب بنا

بیان شوق بنا حرف اضطراب بنا وہ اک سوال کہ جس کا نہ کچھ جواب بنا میں ایک باب تھا افسانۂ وفا کا مگر تمہاری بزم سے اٹھا تو اک کتاب بنا مجھے سفیر بنا اپنا کو بہ کو اے عشق کسے ہوس ہے کہ دنیا میں کامیاب بنا میں جس خیال کو اپنا جنوں سمجھتا تھا وہی خیال زمانے کا حسن خواب بنا کبھی تو وجہ ...

مزید پڑھیے

کسی حبیب نے لفظوں کا ہار بھیجا ہے

کسی حبیب نے لفظوں کا ہار بھیجا ہے بسا کے عطر میں دل کا غبار بھیجا ہے ہوئی جو شام تو اپنا لباس پہنا کر شفق کو جیسے دم انتظار بھیجا ہے کسی نے ڈوبتی صبحوں تڑپتی شاموں کو غزل کے جام میں شب کا خمار بھیجا ہے سجا کے دامن گل کو شرارۂ نم سے کسی نے تاج دل داغ دار بھیجا ہے کسے بلانے کو اس ...

مزید پڑھیے

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے

کچھ اصولوں کا نشہ تھا کچھ مقدس خواب تھے ہر زمانے میں شہادت کے یہی اسباب تھے کوہ سے نیچے اتر کر کنکری چنتے ہیں اب عشق میں جو آب جو تھے جنگ میں سیلاب تھے ساز و ساماں تھے ظفر کے پر وہ شب میں لٹ گئے خاک و خوں کے درمیاں کچھ خواب کچھ کم خواب تھے کیا دم رخصت نظر آتے خطوط دلبری نقش تھے اس ...

مزید پڑھیے

جب کبھی میرے قدم سوئے چمن آئے ہیں

جب کبھی میرے قدم سوئے چمن آئے ہیں اپنا دکھ درد لیے سرو و سمن آئے ہیں پاؤں سے لگ کے کھڑی ہے یہ غریب الوطنی اس کو سمجھاؤ کہ ہم اپنے وطن آئے ہیں جھاڑ لو گرد مسرت کو، بٹھا لو دل میں بھولے بھٹکے ہوئے کچھ رنج و محن آئے ہیں جب لہو روئے ہیں برسوں تو کھلی زلف خیال یوں نہ اس ناگ کو لہرانے ...

مزید پڑھیے

خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے

خیر سے دل کو تری یاد سے کچھ کام تو ہے وصل کی شب نہ سہی ہجر کا ہنگام تو ہے نور افلاک سے روشن ہو شب غم کہ نہ ہو چاند تاروں سے مرا نامہ و پیغام تو ہے کم نہیں اے دل بیتاب متاع امید دست مے خوار میں خالی ہی سہی جام تو ہے بام خورشید سے اترے کہ نہ اترے کوئی صبح خیمۂ شب میں بہت دیر سے کہرام ...

مزید پڑھیے

ایک بھی حرف نہ تھا خوش خبری کا لکھا

ایک بھی حرف نہ تھا خوش خبری کا لکھا نامۂ وقت ملا اور کسی کا لکھا آ بسے کتنے نئے لوگ مکان جاں میں بام و در پر ہے مگر نام اسی کا لکھا موجۂ اشک سے بھیگی نہ کبھی نوک قلم وہ انا تھی کہ کبھی درد نہ جی کا لکھا کوئی جدت تو کوئی حسن تغزل سمجھا مرثیہ جب بھی کوئی اپنی صدی کا لکھا بات شیریں ...

مزید پڑھیے

غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا

غم سے بکھرا نہ پائمال ہوا میں تو غم سے ہی بے مثال ہوا وقت گزرا تو موجۂ گل تھا وقت ٹھہرا تو ماہ و سال ہوا ہم گئے جس شجر کے سائے میں اس کے گرنے کا احتمال ہوا بس کہ وحشت تھی کار دنیا سے کچھ بھی حاصل نہ حسب حال ہوا سن کے ایران کے نئے قصے کچھ عجب صوفیوں کا حال ہوا جانے زنداں میں کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3927 سے 6203