خورشید کی نگاہ سے شبنم کو آس کیا
خورشید کی نگاہ سے شبنم کو آس کیا تصویر روزگار سے دل ہے اداس کیا شہرت کی گرد خواب کے طوفاں غموں کی دھول ان کے سوا ہے اور زمانے کے پاس کیا ٹوٹا نہ زور غم نہ زمانے کا سر جھکا نکلے گی وصل یار سے دل کی بھڑاس کیا ہم کو کتاب زیست کا ہر باب حفظ ہے اک باب غم کا صرف پڑھیں اقتباس کیا نکلے ...