جو غم کے شعلوں سے بجھ گئے تھے ہم ان کے داغوں کا ہار لائے
جو غم کے شعلوں سے بجھ گئے تھے ہم ان کے داغوں کا ہار لائے کسی کے گھر سے دیا اٹھایا کسی کے دامن کا تار لائے یہ کوہساروں کی تربیت ہے کہ اپنا خیمہ جما ہوا ہے ہزار طوفاں سناں چلائے ہزار فوج غبار لائے کسے بتائیں کہ غم کے صحرا کو خلد دانش بنایا کیسے کہاں سے آب رواں کو موڑا کہاں سے باد ...