قومی زبان

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے

ترے درد سے جس کو نسبت نہیں ہے وہ راحت مصیبت ہے راحت نہیں ہے جنون محبت کا دیوانہ ہوں میں مرے سر میں سودائے حکمت نہیں ہے ترے غم کی دنیا میں اے جان عالم کوئی روح محروم راحت نہیں ہے مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے جھکی ہے ترے بار عرفاں سے گردن ہمیں سر ...

مزید پڑھیے

نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے

نظارۂ پیہم کا صلا میرے لیے ہے ہر سمت وہ رخ جلوہ نما میرے لیے ہے اس چہرۂ انور کی ضیا میرے لیے ہے وہ زلف سیہ تاب دوتا میرے لیے ہے زنہار اگر اہل ہوس تجھ پہ فدا ہوں یہ مرتبۂ صدق و صفا میرے لیے ہے بن کر میں رضاکار مہیائے فنا ہوں آوازۂ حق بانگ درا میرے لیے ہے خوشنودۂ فجار کے پیرو ہیں ...

مزید پڑھیے

تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی

تاثیر برق حسن جو ان کے سخن میں تھی اک لرزش خفی مرے سارے بدن میں تھی واں سے نکل کے پھر نہ فراغت ہوئی نصیب آسودگی کی جان تری انجمن میں تھی اک رنگ التفات بھی اس بے رخی میں تھا اک سادگی بھی اس نگہ سحر فن میں تھی محتاج بوئے عطر نہ تھا جسم خوب یار خوشبوئے دلبری تھی جو اس پیرہن میں ...

مزید پڑھیے

اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں

اس بت کے پجاری ہیں مسلمان ہزاروں بگڑے ہیں اسی کفر میں ایمان ہزاروں دنیا ہے کہ ان کے رخ و گیسو پہ مٹی ہے حیران ہزاروں ہیں پریشان ہزاروں تنہائی میں بھی تیرے تصور کی بدولت دل بستگئ غم کے ہیں سامان ہزاروں اے شوق تری پستئ ہمت کا برا ہو مشکل ہوئے جو کام تھے آسان ہزاروں آنکھوں نے ...

مزید پڑھیے

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا

یاد کر وہ دن کہ تیرا کوئی سودائی نہ تھا باوجود حسن تو آگاہ رعنائی نہ تھا عشق روزافزوں پہ اپنے مجھ کو حیرانی نہ تھی جلوۂ رنگیں پہ تجھ کو ناز یکتائی نہ تھا دید کے قابل تھی میرے عشق کی بھی سادگی جبکہ تیرا حسن سرگرم خود آرائی نہ تھا کیا ہوئے وہ دن کہ محو آرزو تھے حسن و عشق ربط تھا ...

مزید پڑھیے

کرشن

متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا دم بھرتی ہے آرزو اسی کا ہر ذرۂ سر زمین گوکل دارا ہے جمال دلبری کا برسانا و نند گاؤں میں بھی دیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کا پیغام حیات جاوداں تھا ہر نغمۂ کرشن بانسری کا وہ نور سیاہ یا کہ حسرت سر چشمہ فروغ آگہی کا

مزید پڑھیے

بہت دن تک کوئی چہرہ مجھے اچھا نہیں لگتا

بہت دن تک کوئی چہرہ مجھے اچھا نہیں لگتا متاع دید پہ قبضہ مجھے اچھا نہیں لگتا کنیزوں پہ بھی آ سکتا ہے دل ظل الٰہی کا نظام عشق میں شجرہ مجھے اچھا نہیں لگتا میں کچھ بھی سوچ سکتا ہوں میں کچھ بھی دیکھ سکتا ہوں خیال و خواب پہ پہرہ مجھے اچھا نہیں لگتا نہ کھڑکی ہے نہ آنگن ہے نہ روشن دان ...

مزید پڑھیے

تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا

تو نہیں ہے تو ترے ہم نام سے رشتہ رکھا ہم نے یوں بھی دل ناکام کو زندہ رکھا وہ مری جان کا دشمن کہ سر نہر وصال سب کو سیراب کیا بس مجھے پیاسا رکھا میرے مولا تری منطق بھی عجب منطق ہے ہونٹ پہ پیاس رکھی آنکھ میں دریا رکھا سب کے ہاتھوں کی لکیروں میں مقدر رکھ کے رکھنے والے نے مرے ہاتھ پہ ...

مزید پڑھیے

ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے

ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارا کر کے اپنے اس کام پہ وہ راتوں کو روتا ہوگا بیچ دیتا ہے جو ذرے کو ستارہ کر کے غم کے مارے ہوئے ہم لوگ مگر کالج میں دل بہل جاتا ہے پریوں کا نظارہ کر کے پھر وہی جوش وہی جذبہ عطا ہوتا ہے تم نے دیکھا ہی نہیں پیار دوبارہ کر ...

مزید پڑھیے

یہ نصابوں میں لکھی اور لکھائی نہ گئی

یہ نصابوں میں لکھی اور لکھائی نہ گئی زندگی ہم کو کتابوں میں پڑھائی نہ گئی ایک طرفہ بھی نبھاتے ہیں نبھانے والے تجھ سے دو طرفہ محبت بھی نبھائی نہ گئی یوں مرا حافظہ کمزور بہت ہے مجھ سے ایک لڑکی ہے جو دلی کی بھلائی نہ گئی اس کے چہرے پہ نمایاں ہیں مرے ہجر کے داغ اللہ رکھے اسے کیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3914 سے 6203