کرشن حسرتؔ موہانی 07 ستمبر 2020 شیئر کریں متھرا کہ نگر ہے عاشقی کا دم بھرتی ہے آرزو اسی کا ہر ذرۂ سر زمین گوکل دارا ہے جمال دلبری کا برسانا و نند گاؤں میں بھی دیکھ آئے ہیں جلوہ ہم کسی کا پیغام حیات جاوداں تھا ہر نغمۂ کرشن بانسری کا وہ نور سیاہ یا کہ حسرت سر چشمہ فروغ آگہی کا