ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے
ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے کہیں ...