قومی زبان

ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے

ستم ہو جائے تمہید کرم ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں بتا اے ضبط غم ایسا بھی ہوتا ہے بھلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری تری تمکین بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنج ناکامی امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی ہوتا ہے مرے پاس وفا کی بدگمانی ہے بجا تم سے کہیں ...

مزید پڑھیے

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا

دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا شیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا اک نظر بھی تری کافی تھی پئے راحت جاں کچھ بھی دشوار نہ تھا مجھ کو شکیبا کرنا ان کو یاں وعدے پہ آ لینے دے اے ابر بہار جس قدر چاہنا پھر بعد میں برسا کرنا شام ہو یا کہ سحر یاد انہیں کی رکھنی دن ہو یا رات ہمیں ذکر ...

مزید پڑھیے

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی

خو سمجھ میں نہیں آتی ترے دیوانوں کی دامنوں کی نہ خبر ہے نہ گریبانوں کی جلوۂ ساغر و مینا ہے جو ہمرنگ بہار رونقیں طرفہ ترقی پہ ہیں مے خانوں کی ہر طرف بے خودی و بے خبری کی ہے نمود قابل دید ہے دنیا ترے حیرانوں کی سہل اس سے تو یہی ہے کہ سنبھالیں دل کو منتیں کون کرے آپ کے دربانوں ...

مزید پڑھیے

یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا

یوں تو عاشق ترا زمانہ ہوا مجھ سا جاں باز دوسرا نہ ہوا خودبخود بوئے یار پھیل گئی کوئی منت کش صبا نہ ہوا میں گرفتار الفت صیاد دام سے چھٹ کے بھی رہا نہ ہوا خبر اس بے خبر کی لا دیتی تجھ سے اتنا بھی اے صبا نہ ہوا ان سے عرض کرم تو کیا کرتے ہم سے خود شکوۂ جفا نہ ہوا ہو کے بے خود کلام ...

مزید پڑھیے

کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں

کیسے چھپاؤں راز غم دیدۂ تر کو کیا کروں دل کی تپش کو کیا کروں سوز جگر کو کیا کروں شورش عاشقی کہاں اور میری سادگی کہاں حسن کو تیرے کیا کہوں اپنی نظر کو کیا کروں غم کا نہ دل میں ہو گزر وصل کی شب ہو یوں بسر سب یہ قبول ہے مگر خوف سحر کو کیا کروں حال میرا تھا جب بتر تب نہ ہوئی تمہیں ...

مزید پڑھیے

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے

توڑ کر عہد کرم نا آشنا ہو جائیے بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہو جائیے میرے عذر جرم پر مطلق نہ کیجے التفات بلکہ پہلے سے بھی بڑھ کر کج ادا ہو جائیے خاطر محروم کو کر دیجئے محو الم درپئے ایذائے جان مبتلا ہو جائیے راہ میں ملیے کبھی مجھ سے تو از راہ ستم ہونٹ اپنا کاٹ کر فوراً جدا ہو ...

مزید پڑھیے

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں

وصل کی بنتی ہیں ان باتوں سے تدبیریں کہیں آرزوؤں سے پھرا کرتی ہیں تقدیریں کہیں بے زبانی ترجمان شوق بے حد ہو تو ہو ورنہ پیش یار کام آتی ہیں تقریریں کہیں مٹ رہی ہیں دل سے یادیں روزگار عیش کی اب نظر کاہے کو آئیں گی یہ تصویریں کہیں التفات یار تھا اک خواب آغاز وفا سچ ہوا کرتی ہیں ان ...

مزید پڑھیے

ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی

ان کو جو شغل ناز سے فرصت نہ ہو سکی ہم نے یہ کہہ دیا کہ محبت نہ ہو سکی شکر جفا بھی اہل رضا نے کیا ادا ان سے یہی نہیں کہ شکایت نہ ہو سکی شب کا یہ حال ہے کہ تری یاد کے سوا دل کو کسی خیال سے راحت نہ ہو سکی پابوس کی بھی ہم کو اجازت نہ دے سکے اتنی بھی تم سے قدر محبت نہ ہو سکی غرق سرور و ...

مزید پڑھیے

دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی

دل میں کیا کیا ہوس دید بڑھائی نہ گئی روبرو ان کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی ہم رضا شیوہ ہیں تاویل ستم خود کر لیں کیا ہوا ان سے اگر بات بنائی نہ گئی یہ بھی آداب محبت نے گوارا نہ کیا ان کی تصویر بھی آنکھوں سے لگائی نہ گئی آہ وہ آنکھ جو ہر سمت رہی صاعقہ پاش وہ جو مجھ سے کسی عنوان ملائی ...

مزید پڑھیے

تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا

تجھ سے گرویدہ یک زمانہ رہا کچھ فقط میں ہی مبتلا نہ رہا آپ کو اب ہوئی ہے قدر وفا جب کہ میں لائق جفا نہ رہا راہ و رسم وفا وہ بھول گئے اب ہمیں بھی کوئی گلہ نہ رہا حسن خود ہو گیا غریب نواز عشق محتاج التجا نہ رہا بسکہ نظارہ سوز تھا وہ جمال ہوش نظارگی بجا نہ رہا میں کبھی تجھ سے بد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3915 سے 6203