یہ نصابوں میں لکھی اور لکھائی نہ گئی

یہ نصابوں میں لکھی اور لکھائی نہ گئی
زندگی ہم کو کتابوں میں پڑھائی نہ گئی


ایک طرفہ بھی نبھاتے ہیں نبھانے والے
تجھ سے دو طرفہ محبت بھی نبھائی نہ گئی


یوں مرا حافظہ کمزور بہت ہے مجھ سے
ایک لڑکی ہے جو دلی کی بھلائی نہ گئی


اس کے چہرے پہ نمایاں ہیں مرے ہجر کے داغ
اللہ رکھے اسے کیسے سر آئینہ گئی


جسم کی پیاس کسی طور بجھا لیتے ہیں
روح کی پیاس مگر ہم سے بجھائی نہ گئی


بھوک اگنے لگی گندم کی جگہ کھیتوں میں
حاکم وقت تری ہرزہ سرائی نہ گئی


نقشۂ دہر میں دو ملک ہیں ایسے جن میں
مدتوں بعد بھی سرحد کی لڑائی نہ گئی


بانوئے شہر سخن میرؔ کا بویا کاٹا
تیرے ہاشمؔ سے نئی فصل اگائی نہ گئی