قومی زبان

یہ خاکی آگ سے ہو کر یہاں پہ پہنچا ہے

یہ خاکی آگ سے ہو کر یہاں پہ پہنچا ہے خمیر اٹھا تھا جہاں سے وہاں پہ پہنچا ہے نگاہ حسن نے ترتیب الٹی کر ڈالی کہ تیر نکلا نظر سے کماں پہ پہنچا ہے ابھی تلک جو فدائے بنام عشق رہا جو ہوش آیا تو سود و زیاں پہ پہنچا ہے میں ظاہراً تو سخن سے بہ خوب واقف ہوں دروں کا عکس اگرچہ زیاں پہ پہنچا ...

مزید پڑھیے

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں دیکھ کر جن کو خد و خال سنوارے جائیں ایک ہی وصل کی تاثیر رہے گی قائم کون چاہے گا یہاں سال گزارے جائیں تیرے ابرو ہیں کہ صورت کوئی قوسین کی ہے درمیاں آ کے کہیں لوگ نہ مارے جائیں ماہی اس پار کھڑا آپ کی راہ تکتا ہے آپ تعظیم کریں اور کنارے ...

مزید پڑھیے

اشک کی ایسی فراوانی پہ رشک آتا ہے

اشک کی ایسی فراوانی پہ رشک آتا ہے چشم نم تیری پریشانی پہ رشک آتا ہے جب کسی عالم حیرت کی خبر لگتی ہے رشک آتا ہے جہانبانی پہ رشک آتا ہے تابش ماہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے لیکن یار کے چہرۂ نورانی پہ رشک آتا ہے اوج افلاک پہ تنہائی کو لے آیا تھا اس لیے کوچۂ ویرانی پہ رشک آتا ہے حسنؔ ...

مزید پڑھیے

آنے والے شعر پہ رائے باری باری بیٹھے گی

آنے والے شعر پہ رائے باری باری بیٹھے گی اب کہ جو بھی نظم کہوں گا ذہن پہ ساری بیٹھے گی اس کے لیے پوشاک بناؤں گا میں اپنے ہاتھوں سے رنگ سپیدی بیچ میں ہوگا سرخ کناری بیٹھے گی کم گو ہیں اور اپنی عادت اپنی فکر پہ بھاری ہے ورنہ جب بھی بات کریں گے دھاک ہماری بیٹھے گی اچھے یاروں کی صحبت ...

مزید پڑھیے

دکھ میں محروم آس تھوڑی ہیں

دکھ میں محروم آس تھوڑی ہیں میرے سب شعر یاس تھوڑی ہیں یہ جو پہنے ہیں قیمتی پوشاک ان کے اپنے لباس تھوڑی ہیں ان کی یادیں ہیں اور میں ہوں بس وہ مرے آس پاس تھوڑی ہیں اک سمندر کے سوکھ جانے سے سات دریا اداس تھوڑی ہیں جتنے خود ساختہ ہیں یہ نقاد سارے غالبؔ شناس تھوڑی ہیں

مزید پڑھیے

کچھ عقل بھی رکھتا ہے جنوں زاد ہمارا

کچھ عقل بھی رکھتا ہے جنوں زاد ہمارا اب عشق میں پاگل نہیں فرہاد ہمارا خیموں سے ابھرنے لگیں ماتم کی صدائیں اور ہم سے خفا ہو گیا سجاد ہمارا اک پھول کے کھلنے سے بہت پہلے جہاں میں اک خواب ہوا جاتا ہے برباد ہمارا اک سوچ کہ محدود ہی رہتی ہے رہے گی اک دل کا پرندہ ہے کہ آزاد ہمارا یہ ...

مزید پڑھیے

تمام تاروں کو جیسے قمر سے جوڑا ہے

تمام تاروں کو جیسے قمر سے جوڑا ہے مری جبیں کو ترے سنگ در سے جوڑا ہے خدا نے خود کو بظاہر چھپا کے رکھا ہے ہمارے دل کو نہ جانے کدھر سے جوڑا ہے وصال و ہجر کی ترتیب الٹی رکھی ہے ادھر کا سلسلہ اس نے ادھر سے جوڑا ہے خدا نے سادہ قلم سے بنایا ہم سب کو ترے وجود کو اپنے ہنر سے جوڑا ہے یہ ...

مزید پڑھیے

جان محدود ہوتی جاتی ہے

جان محدود ہوتی جاتی ہے موت مقصود ہوتی جاتی ہے الاماں علم کی فراوانی فکر مفقود ہوتی جاتی ہے کر لی اصلاح اس تمدن کی سعی بے سود ہوتی جاتی ہے ہو سفر عشق کا کہ دانش کا راہ مسدود ہوتی جاتی ہے خود پرستی کا دور دورہ ہے ذات معبود ہوتی جاتی ہے دردؔ اس خلفشار عالم میں زیست نابود ہوتی ...

مزید پڑھیے

شاخ سے پھول کو پھر جدا کر دیا

شاخ سے پھول کو پھر جدا کر دیا زخم پیڑوں کا کس نے ہرا کر دیا ایک ٹکڑا خوشی کا تھا رکھا ہوا جانے کس شخص نے لاپتہ کر دیا کیوں تعلق کی بنیاد ڈھنے لگی بے یقینی کو کس نے کھڑا کر دیا پہلے منزل دکھائی مجھے اور پھر بند چاروں طرف راستہ کر دیا وقت خود اپنے چہرے سے ڈر جائے گا میں نے احساس ...

مزید پڑھیے

ظلمت ہی پہلے تھی جو حوالے میں رہ گئی

ظلمت ہی پہلے تھی جو حوالے میں رہ گئی تصویر کائنات اجالے میں رہ گئی آنکھوں کی ہی شراب تھی توبہ شکن ضرور کچھ اور بھی مے کی طرح پیالے میں رہ گئی کرتی ہے موت جیسے تعاقب حیات کا تتلی گری فضا سے تو جالے میں رہ گئی بد مزگئ سلوک کا گہرا اثر ہوا اک کنکری سی میرے نوالے میں رہ گئی

مزید پڑھیے
صفحہ 3908 سے 6203