قومی زبان

ہر کسی خواب کے چہرے پہ لکھوں نام ترا

ہر کسی خواب کے چہرے پہ لکھوں نام ترا میں اسے اپنا ہنر سمجھوں کہ انعام ترا تتلیاں پھول میں کیا ڈھونڈھتی رہتی ہیں سدا کیا کہیں باد صبا رکھ گئی پیغام ترا جس طرح رنگ شفق جھیل میں گھل جاتا ہے عکس لب ایسے اترتا ہے تہہ جام ترا رات آئے گی تو دکھلائے گا کچھ اور ہی رنگ وہ جو دن بھر تو ...

مزید پڑھیے

چنبیلی گھاس پر بکھری پڑی ہے

چنبیلی گھاس پر بکھری پڑی ہے ہوا یہ باغ میں کیسی چلی ہے لکیروں سے بنے اک آئینے میں کسی کی شکل الجھی رہ گئی ہے مری کھڑکی سے چڑیاں اڑ گئی ہیں منڈیروں کی مرمت جب سے کی ہے الٰہی خیر ہو یہ کون آیا بہت بے وقت گھنٹی بج رہی ہے نکل آئے اچانک گھاس میں پھول ستاروں نے انہیں آواز دی ہے خطیب ...

مزید پڑھیے

شکست شیشۂ دل کی دوا میں کیا کرتا

شکست شیشۂ دل کی دوا میں کیا کرتا ترے علاوہ کوئی دوسرا میں کیا کرتا میں غوطہ زن تھا تری یاد کے سمندر میں لباس اٹھا کے کوئی لے گیا میں کیا کرتا کسی کے جام کی جھوٹی شراب کیوں پیتا تمہارے حسن کی قاتل ادا میں کیا کرتا میں جب چلا مری منزل بھی چل پڑی آگے ہمارا کم نہ ہوا فاصلہ میں کیا ...

مزید پڑھیے

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر

آؤ پھر مل جائیں سب باتیں پرانی چھوڑ کر جا نہیں سکتے کہیں دریا روانی چھوڑ کر وہ مرے کاسے میں یادیں چھوڑ کر یوں چل دیا جس طرح الفاظ جاتے ہوں معانی چھوڑ کر تم مرے دل سے گئے ہو تو نگاہوں سے بھی جاؤ پھر وہاں ٹھہرا نہیں کرتے نشانی چھوڑ کر اب سنا ہے عام شہری کی طرح پھرتے ہو تم کیا ملا ...

مزید پڑھیے

تیری تخلیق ترا رنگ حوالہ تھا مرا

تیری تخلیق ترا رنگ حوالہ تھا مرا کون کہتا ہے کہ انداز نرالا تھا مرا میں جہاں پر تھا وہیں تو تھا مرے آئینہ گر تیری تصویروں سے بھرپور رسالہ تھا مرا چاہتا تھا میں دعا مانگتا پر کیا کرتا میرے ہاتھوں میں تو لبریز پیالہ تھا مرا مجھے پہلے کئی صدیوں کی سزا کاٹنا تھی منزل صبح سے کچھ ...

مزید پڑھیے

جب آفتاب سے چہرا چھپا رہی تھی ہوا

جب آفتاب سے چہرا چھپا رہی تھی ہوا نظر بچا کے ترے شہر جا رہی تھی ہوا میں اس کو روتا ہوا دیکھتا رہا چپ چاپ چنبیلی گھاس پہ ٹپ ٹپ گرا رہی تھی ہوا وہ ماں ہے آب رواں کی تبھی سمندر کو اٹھا کے گود میں جھولا جھلا رہی تھی ہوا وہ خواب تھا یا سفر آنے والے موسم کا مری پڑی تھی زمیں زہر کھا رہی ...

مزید پڑھیے

ہجر اچھا وصال اچھا ہے

ہجر اچھا وصال اچھا ہے ترک الفت خیال اچھا ہے ابتدا ہے نہ انتہا اچھی عشق میں اعتدال اچھا ہے کوئی صورت ہی بن رہی ہوگی چہرۂ خد و خال اچھا ہے زندگانی اسیر کرنے کو گیسوؤں کا یہ جال اچھا ہے کیا زمانہ ہے یہ زمانہ بھی اچھا بھی خال خال اچھا ہے عاشقی کے عروج کو حسانؔ اس انا پر زوال ...

مزید پڑھیے

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں دیکھ کر جن کو خد و خال سنوارے جائیں ایک ہی وصل کی تاثیر رہے گی قائم کون چاہے گا یہاں سال گزارے جائیں تیرے مژگاں ہیں کہ صورت کوئی قوسین کی ہے درمیاں آ کے کہیں لوگ نہ مارے جائیں ماہی اس پار کھڑا آپ کی رہ تکتا ہے آپ تعظیم کریں اور کنارے جائیں اب ...

مزید پڑھیے

عشق آزار کر دیا جائے

عشق آزار کر دیا جائے غم کو بیدار کر دیا جائے کر لو آباد ہجر یاراں کو گھر کا مختار کر دیا جائے ٹھوکریں کچھ بھلے ادھر کی لگیں ہم کو اس پار کر دیا جائے کوئی مٹی کے دام دینے لگے صاف انکار کر دیا جائے آؤ نکلیں جنوں کے سائے میں گھر کو مسمار کر دیا جائے ایسے کچھ رہنما میسر ہوں نیک ...

مزید پڑھیے

سر دربار خاموشی تہہ دربار خوشیاں ہیں

سر دربار خاموشی تہہ دربار خوشیاں ہیں در و دیوار کی باتیں در و دیوار خوشیاں ہیں تجھے تکنا تجھے سننا ترا ہنسنا مچل جانا ہمارے غم کے آنگن میں فقط دو چار خوشیاں ہیں کئی ہیں داستانیں دفن یاں یاروں کے سینے میں کہیں پر غم ہے خوشیوں میں کہیں غم خوار خوشیاں ہیں امیر شہر کیا جانے جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3907 سے 6203