قومی زبان

بہ خدا ہیں تیری ہندو بت مے خوار آنکھیں

بہ خدا ہیں تیری ہندو بت مے خوار آنکھیں نشہ کی ڈوری نہیں پہنیں ہیں زنار آنکھیں نذر دل مانگتی ہیں آپ کی سرشار آنکھیں عین مستی میں رہا کرتی ہیں ہوشیار آنکھیں مجھ کو نظارہ ہے اس پردہ نشیں کا منظور کاش بن جائیں مری روزن دیوار آنکھیں چشم آہو سے غرض تھی نہ مجھے نرگس سے تری آنکھوں سے ...

مزید پڑھیے

سرخ روئی تو دے رو سیاہی نہ دے

سرخ روئی تو دے رو سیاہی نہ دے میرے اللہ عہد تباہی نہ دے کر دے آنکھوں کو نور بصیرت عطا کم نگاہی نہ دے کم نگاہی نہ دے دل نہ فخر و تکبر سے آلودہ ہو تاج شاہی نہ دے تخت شاہی نہ دے دے خلوص و وفا کا جو ہو آئنہ بغض و کینہ بھرا دل الٰہی نہ دے دور نظروں سے ہے ساحل مدعا کشتیٔ جاں کو سیل ...

مزید پڑھیے

اہل دولت بھی کچھ لوگ کیا ہو گئے

اہل دولت بھی کچھ لوگ کیا ہو گئے مال و زر ان کے جیسے خدا ہو گئے حال مت پوچھئے مجھ سے اس دور کا لوگ یوں غرق موج بلا ہو گئے کارواں کیسے محفوظ رہ پائے گا جو تھے رہزن وہی رہنما ہو گئے جن کی ہر شام رندوں میں گزری کبھی وہ بھی کچھ روز سے پارسا ہو گئے واعظ محترم کو سر میکدہ دیکھ کر لوگ ...

مزید پڑھیے

زمیں ٹھہر نہ سکی اور نہ آسماں ٹھہرا

زمیں ٹھہر نہ سکی اور نہ آسماں ٹھہرا مرا ہی ذوق جنوں میرا پاسباں ٹھہرا لگائی جس کے لئے تخت و تاج کو ٹھوکر اسی کی بزم میں میں مثل داستاں ٹھہرا ہمارا نقش قدم ہے وہاں وہاں روشن وفا کی راہ میں تھک کر جہاں جہاں ٹھہرا لپٹ کے دامن گل سے کہا یہ بلبل نے نگاہ برق میں میرا ہی آشیاں ...

مزید پڑھیے

واللہ ان شہیدوں کا معیار دیکھ کر

واللہ ان شہیدوں کا معیار دیکھ کر ہے مرگ شوق اور سوا دار دیکھ کر ان پر بھی کھل سکا نہ افق کا طلسمی راز حیران کن کرشمۂ فن کار دیکھ کر شوریدگیٔ آبلہ پائی کے باوجود جذبے نہ کم ہوئے رہ پر خار دیکھ کر اس ماجرۂ لطف پہ پہروں سکوت شب حیراں تھا خود کو اپنا ہی غم خوار دیکھ کر دامن چھڑا ...

مزید پڑھیے

بیکسی میں جو یاد گھر آیا

بیکسی میں جو یاد گھر آیا آنکھ کے ساتھ دل بھی بھر آیا میری منزل نہ تیرا گھر آیا میرے حصے میں بس سفر آیا اک پری وش خیال پر آیا ایک سایہ سا مجھ میں در آیا میں نے بیعت سے کر دیا انکار اب کے نیزے پہ میرا سر آیا زندگی جب زوال پر آئی فن مرا تب عروج پر آیا خون دل سے ادھر غزل لکھی نقش ...

مزید پڑھیے

ظلم سے درگزر نہیں آتا

ظلم سے درگزر نہیں آتا ہاں مجھے یہ ہنر نہیں آتا جب تلک میرے سر نہیں آتا ان کا الزام بر نہیں آتا تب فلک پر قمر نہیں آتا یار جب بام پر نہیں آتا فرق زیر و زبر نہیں آتا مجھ کو کچھ بھی نظر نہیں آتا ہجرتوں کی اندھیری راہوں میں چلتا جاتا ہوں گھر نہیں آتا چشم نرگس اداس رہتی ہے اب کوئی ...

مزید پڑھیے

حرف انکار کہ اقرار وفا تھا کیا تھا

حرف انکار کہ اقرار وفا تھا کیا تھا خط میں اک جملۂ مبہم سا لکھا تھا کیا تھا اس کا چہرہ تھا قمر تھا کہ تصور میرا کل منڈیری پہ کوئی جلوہ نما تھا کیا تھا یک بیک ہو گیا اوجھل وہ نظر کے آگے دھند کا ایک بگولہ سا اٹھا تھا کیا تھا مسکراتا تھا مگر آنکھ بھی نم تھی اس کی اس کے سینے میں کوئی ...

مزید پڑھیے

بساط دل کی بھلا کیا نگاہ یار میں ہے

بساط دل کی بھلا کیا نگاہ یار میں ہے یہ شیشہ ٹوٹ بھی جائے تو کس شمار میں ہے یہ جانتے ہیں کہ وہ اس طرف نہ آئے گا عجب مزا سا مگر اس کے انتظار میں ہے بس ایک زخم خلش عمر بھر کی تنہائی وہی تو دو گے تمہارے جو اختیار میں ہے وہ کھیل کھیلنے بیٹھے ہیں خاتمہ جس کا تمہاری جیت میں ہے اور ہماری ...

مزید پڑھیے

سر اٹھا کر نہ کبھی دیکھا کہاں بیٹھے تھے

سر اٹھا کر نہ کبھی دیکھا کہاں بیٹھے تھے گرتی دیوار کا سایہ تھا جہاں بیٹھے تھے سب تھے مصروف اندھیروں کی خریداری میں ہم سجائے ہوئے شمعوں کی دکاں بیٹھے تھے یہی شہرت کا سبب ہوں گے یہ معلوم نہ تھا ہم چھپائے ہوئے زخموں کے نشاں بیٹھے تھے لوگ تو بجھتے چراغوں کے دھوئیں سے خوش تھے ہم ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3897 سے 6203