بہ خدا ہیں تیری ہندو بت مے خوار آنکھیں
بہ خدا ہیں تیری ہندو بت مے خوار آنکھیں نشہ کی ڈوری نہیں پہنیں ہیں زنار آنکھیں نذر دل مانگتی ہیں آپ کی سرشار آنکھیں عین مستی میں رہا کرتی ہیں ہوشیار آنکھیں مجھ کو نظارہ ہے اس پردہ نشیں کا منظور کاش بن جائیں مری روزن دیوار آنکھیں چشم آہو سے غرض تھی نہ مجھے نرگس سے تری آنکھوں سے ...