قومی زبان

بے وفا نا مہرباں یہ سچ ہے وہ ایسا تو تھا

بے وفا نا مہرباں یہ سچ ہے وہ ایسا تو تھا مت کہو کچھ اس کو یارو جو بھی تھا میرا تو تھا بھیڑ اتنی ہے نگر میں کس جگہ ڈھونڈوں اسے ایک چہرہ کچھ دنوں پہلے کہیں دیکھا تو تھا رات آئی اور آ کے مجھ کو تنہا کر گئی کم سے کم دن تھا تو میرے ساتھ اک سایہ تو تھا اب تو اک مدت ہوئی کوئی صدا آتی ...

مزید پڑھیے

جھلسے بدن نہ سلگیں آنکھیں ایسے ہیں دن رات مرے

جھلسے بدن نہ سلگیں آنکھیں ایسے ہیں دن رات مرے کاش کبھی تم آ جاؤ بدلے ہیں حالات مرے میں کیا جانوں کس منزل کی کن راہوں کی کھوج میں ہوں میرا ٹھور ٹھکانا غم ہے کوئی نہ آئے ساتھ مرے تم رسونتی نرم لجیلی تازہ کونپل سبز کلی میں پت جھڑ کا مارا پیپل سوکھ چلے ہیں پات مرے تم کیا جانو ...

مزید پڑھیے

اپنی وجہ بربادی جانتے ہیں ہم لیکن کیا کریں بیاں لوگو

اپنی وجہ بربادی جانتے ہیں ہم لیکن کیا کریں بیاں لوگو مصلحت پرستی پر ہر قدم رہا ہم کو جرم کا گماں لوگو خیر ہم تو کانٹے تھے اور ہمیں کچلنا بھی وقت کا تقاضا تھا پھول جن کو سمجھے تھے اب سنا ہے ان سے بھی ہیں وہ سرگراں لوگو جس کے عشق کی ہم پر تہمتیں لگاتے ہو اس حسین پیکر پر ہم نے دل ہی ...

مزید پڑھیے

یقین ٹوٹ چکا ہے گمان باقی ہے

یقین ٹوٹ چکا ہے گمان باقی ہے ہمارے سر پہ ابھی آسمان باقی ہے چلے تو آئے ہیں ہم خواب سے حقیقت تک سفر طویل تھا اب تک تکان باقی ہے انہیں یہ زعم کہ فریاد کا چلن نہ رہا ہمیں یقین کہ منہ میں زبان باقی ہے ہر ایک سمت سے پتھراؤ ہے مگر اب تک لہولہان پرندے میں جان باقی ہے فسانہ شہر کی تعمیر ...

مزید پڑھیے

یہ ممکن ہے کہ مل جائیں تری کھوئی ہوئی چیزیں

یہ ممکن ہے کہ مل جائیں تری کھوئی ہوئی چیزیں قرینے سے سجا کر رکھا ذرا بکھری ہوئی چیزیں کبھی یوں بھی ہوا ہے ہنستے ہنستے توڑ دی ہم نے ہمیں معلوم تھا جڑتی نہیں ٹوٹی ہوئی چیزیں زمانے کے لئے جو ہیں بڑی نایاب اور مہنگی ہمارے دل سے سب کی سب ہیں وہ اتری ہوئی چیزیں دکھاتی ہیں ہمیں ...

مزید پڑھیے

اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو

اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو آباد ہوں ستارے زمیں ریگزار ہو اک شان یہ بھی جینے کی ہے جی رہے ہیں لوگ طوفان سے لگاؤ سمندر سے پیار ہو حالات میں کبھی یہ توازن دکھائی دے غم مستقل رہے نہ خوشی مستعار ہو نفرت کے سنگ ریزوں کی بارش تھمے کبھی دیر و حرم کے بیچ سفر خوش گوار ہو صدیوں سے ...

مزید پڑھیے

عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا

عشق کو پاس وفا آج بھی کرتے دیکھا ایک پتھر کے لیے جی سے گزرتے دیکھا پست غاروں کے اندھیروں میں جو لے جاتی ہیں وہ اڑانیں بھی تو انسان کو بھرتے دیکھا جبھی لائی ہے صبا موسم گل کی آہٹ برگ افسردہ ہوئے شاخوں کو ڈرتے دیکھا تری دہلیز پہ گردش کا گزر کیا معنی تجھ کو جب دیکھا ہے کچھ بنتے ...

مزید پڑھیے

لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے

لوگ صبح و شام کی نیرنگیاں دیکھا کیے اور ہم چپ چاپ ماضی کے نشاں دیکھا کیے عقل تو کرتی رہی دامان ہستی چاک چاک ہم مگر دست جنوں میں دھجیاں دیکھا کیے خنجروں کی تھی نمائش ہر گلی ہر موڑ پر اور ہم کمرے میں تصویر بتاں دیکھا کیے ہم تن آسانی کے خوگر ڈھونڈتے منزل کہاں دور ہی سے گرد راہ ...

مزید پڑھیے

ہر زخم دل سے انجمن آرائی مانگ لو

ہر زخم دل سے انجمن آرائی مانگ لو پھر شہر پر ہجوم سے تنہائی مانگ لو موسم کا ظلم سہتے ہیں کس خامشی کے ساتھ تم پتھروں سے طرز شکیبائی مانگ لو حسن تعلقات کی جو یادگار تھے ماضی سے ایسے لمحوں کی رعنائی مانگ لو مانگو سمندروں سے نہ ساحل کی بھیک تم ہاں فکر و فن کے واسطے گہرائی مانگ ...

مزید پڑھیے

کوئی غمگیں کوئی خوش ہو کر صدا دیتا رہا

کوئی غمگیں کوئی خوش ہو کر صدا دیتا رہا رات شہر دل کا ہر منظر صدا دیتا رہا سنگساری کی سزا ٹھہری تھی جن کے واسطے ان کو پہلے ہی سے ہر پتھر صدا دیتا رہا میرے کرب تشنگی پر رات شیشے رو پڑے خشک ہونٹوں کو مرے ساغر صدا دیتا رہا نشۂ صحرا نوردی میں تجھے کب ہوش تھا تجھ کو شہر گل کا اک اک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3898 سے 6203