قومی زبان

کل خواب میں دیکھا سکھی میں نے پیا کا گاؤں رے

کل خواب میں دیکھا سکھی میں نے پیا کا گاؤں رے کانٹا وہاں کا پھول تھا اور دھوپ جیسے چھاؤں رے جو دیکھنا چاہے انہیں آ کر مجھی کو دیکھ لے ان کا مرا اک روپ رے ان کا مرا اک ناؤں رے ہے ساتھ یوں دن رات کا کنگنا سے جیسے ہاتھ کا دل میں الجھا ہے یوں پائل میں جیسے پاؤں رے مہندی میں لالی جس ...

مزید پڑھیے

سب کی بگڑی کو بنانے نکلے

سب کی بگڑی کو بنانے نکلے یار ہم تم بھی دوانے نکلے دھول ہے ریت ہے صحرا ہے یہاں ہم کہاں پیاس بجھانے نکلے اتنی رونق ہے کہ جی ڈوبتا ہے شہر میں خاک اڑانے نکلے ان اندھیروں میں کرن جب ڈھونڈی سب کے ہنسنے کے بہانے نکلے کوئی تو چیز نئی مل جاتی درد بھی صدیوں پرانے نکلے چاند کو رات میں ...

مزید پڑھیے

کتنی مشکل سے بہلا تھا یہ کیا کر گئی شام

کتنی مشکل سے بہلا تھا یہ کیا کر گئی شام ہنستے گاتے دل کو پل میں تنہا کر گئی شام دور افق پر کس کی آنکھیں رو رو ہو گئیں لال ریت کنارے کس کا آنچل گیلا کر گئی شام آتا، چاہے کوئی نہ آتا آس تو تھی دن بھر اب کیا رستہ دیکھیں رستہ دھندلا کر گئی شام میرے بچھڑے دوست سے کتنی ملتی جلتی ہے آئی ...

مزید پڑھیے

عنایت کم محبت کم وفا کم

عنایت کم محبت کم وفا کم ملا سب کچھ ہمیں لیکن ملا کم بڑی رنگین بے حد خوش نما تھی تری دنیا میں لیکن جی لگا کم تم اپنے غم کی تلخی بھی ملا دو شراب زندگی میں ہے نشہ کم چلو یوں ہی سہی ہم بے وفا ہیں مگر اے بے وفا تجھ سے ذرا کم حسنؔ دنیا میں ہم نے یوں بسر کی عداوت کم شکایت کم گلہ کم

مزید پڑھیے

شاید جو زہر شہر میں تھا کام کر گیا

شاید جو زہر شہر میں تھا کام کر گیا خود سے ملے ہوئے بھی زمانہ گزر گیا پاگل کوئی اک اک سے یہی پوچھتا تھا کل ہم سب کا ایک گھر تھا بتاؤ کدھر گیا سورج کو جنم دے کے جھلسنے کے واسطے ٹھنڈی سی ریت چھوڑ سمندر اتر گیا سوچا تھا اپنے دل میں سنواروں گا میں تمہیں تم آئے تم کو دیکھ کے میں خود ...

مزید پڑھیے

دریا طوفان بہہ رہا ہے

دریا طوفان بہہ رہا ہے آنکھوں کا عجیب ماجرا ہے زاہد کو غرور زہد کا ہے رندوں کو خدا کا آسرا ہے ذکر ان کے دہن کا جا بجا ہے ہے کچھ بھی نہیں یہ بات کیا ہے دیوار کا ان کی سایہ ٹھہرا اک یہ بھی سعادت ہما ہے ہم چشمی اور ان کی انکھڑیوں سے نرگس تجھے کچھ بھی سوجھتا ہے پاؤں کے ہمارے گو ...

مزید پڑھیے

دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا

دیدۂ جوہر سے بینا ہو گیا آئنہ محو تماشا ہو گیا دیکھ کر آئینۂ زانو ترا آئنہ محو تماشا ہو گیا بعد موجد عالم ایجاد میں آئنہ محو تماشا ہو گیا کر دیا حیراں جسے دکھلائی شکل آئنہ محو تماشا ہو گیا وہ حلب پہنچا تو سن لینا یہ حال آئنہ محو تماشا ہو گیا پشت بر دیوار ہے تیری حضور آئنہ ...

مزید پڑھیے

ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں

ساتھ میں اغیار کے میں بھی صف مقتل میں ہوں صورت ترکیب موزوں مصرع مہمل میں ہوں مجھ سا رنگیں طبع ہے تیرہ درونوں میں خراب میں شراب ارغوانی ہوں مگر بوتل میں ہوں گندہاے نا تراشیدہ ہیں ہم صحبت مری ان دنوں تو میں بھی خوشبو کی طرح صندل میں ہوں آدمی بے حس و مس میں صورت مردم گیاہ شہر میں ...

مزید پڑھیے

اس کا حال کمر کھلا ہمدم

اس کا حال کمر کھلا ہمدم ہم کو ملک عدم ملا ہمدم حال دل مہرؔ کا کھلا ہمدم درد ہمدرد دل ہوا ہمدم والہ کاکل رسا ہمدم سر سودا کا ہو رہا ہمدم درد ہم کو ہوا دوا ہمدم اور للہ دل دکھا ہمدم دل کا حاصل ہو مدعا ہمدم رحم کر آ ادھر کو آ ہمدم اللہ اللہ لالہ‌‌ٔ کہسار گل لوح لحد ہوا ہمدم موسم ...

مزید پڑھیے

بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں

بتوں کا سامنا ہے اور میں ہوں خدا کا آسرا ہے اور میں ہوں یہاں آ کر کریں کیا یاس و امید دل بے مدعا ہے اور میں ہوں ملا جو خاک میں قدموں سے چھٹ کے وہ تیرا نقش پا ہے اور میں ہوں خدا جانے بتو ہوتا ہے کیا حال یہی گر دل مرا ہے اور میں ہوں ذرا آنے تو دے روز قیامت صنم تو ہے خدا ہے اور میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3896 سے 6203