امید کا دیپک
اک رات اندھیری ہے اور وقت کی آندھی ہے طغیانی کے عالم میں اک رات گھروندا ہے امید کا دیپک ہے پروانے سا جذبہ ہے اک میں ہوں خدا بھی ہے اک روز سحر ہوگی اک روز سحر ہوگی
اک رات اندھیری ہے اور وقت کی آندھی ہے طغیانی کے عالم میں اک رات گھروندا ہے امید کا دیپک ہے پروانے سا جذبہ ہے اک میں ہوں خدا بھی ہے اک روز سحر ہوگی اک روز سحر ہوگی
دوست کچھ اور بھی ہیں تیرے علاوہ مرے دوست کئی صحرا مرے ہمدم کئی دریا مرے دوست تو بھی ہو میں بھی ہوں اک جگہ پہ اور وقت بھی ہو اتنی گنجائشیں رکھتی نہیں دنیا مرے دوست! تیری آنکھوں پہ مرا خواب سفر ختم ہوا جیسے ساحل پہ اتر جائے سفینہ مرے دوست! زیست بے معنی وہی بے سر و سامانی وہی پھر ...
وہ شہر اتفاق سے نہیں ملا ہمیں تو کچھ بھی خاک سے نہیں ملا نہیں میاں بجھا ہوا نہیں یہ دل نہیں ہمیں یہ طاق سے نہیں ملا کدھر گیا وہ کوزہ گر خبر نہیں کوئی سراغ چاک سے نہیں ملا سمندروں پہ سرسری نگاہ کی یہ دشت انہماک سے نہیں ملا سب آئنے یہ دھول دیکھتے رہے کوئی ترے ہلاک سے نہیں ملا
مرے قریب ہی مہتاب دیکھ سکتا تھا گئے دنوں میں یہ تالاب دیکھ سکتا تھا اک ایسے وقت میں سب پیڑ میں نے نقل کیے جہاں پہ میں انہیں شاداب دیکھ سکتا تھا زیادہ دیر اسی ناؤ میں ٹھہرنے سے میں اپنے آپ کو غرقاب دیکھ سکتا تھا کوئی بھی دل میں ذرا جم کے خاک اڑاتا تو ہزار گوہر نایاب دیکھ سکتا ...
دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کون ان زمانوں میں جو تھے ہی نہیں جاتا پھرے کون باغ میں ان سے ملاقات کا امکان بھی ہے صرف پھولوں کے لیے لوٹ کے آتا پھرے کون سیکھ رکھے ہیں پرندوں نے سب اشجار کے گیت آج کل موڈ ہی ایسا ہے کہ گاتا پھرے کون میں تو کہتا ہوں یہیں غار میں رہ لو جب تک وقت ...
ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسم تیرے آنے سے ہوا شہر میں اچھا موسم یہ مہ و مہر اضافی ہیں ترے سر کی قسم وقت بتلاتی ہیں آنکھیں تری چہرا موسم دھوپ میں چھاؤں کہیں موج میں طوفان کہیں جیسا اے دوست ترا موڈ ہے ویسا موسم رنگ و بو رکھتے ہیں سب پھول پھل اپنی اپنی چشم و ابرو سے الگ عارض و ...
انس تو ہوتا ہے دیوانے سے دیوانے کو کوئی اپنا کے دکھائے کبھی انجانے کو خودکشی جیسا کوئی جرم نہیں دنیا میں کوئی بتلاتا نہیں جا کے یہ پروانے کو ساقیٔ وقت نے جب چھین لی ہاتھوں سے شراب میں نے ٹکرا دیا پیمانے سے پیمانے کو خاک زادہ نہیں پیدا ہوا ایسا کوئی جو حقیقت میں بدل دے مرے ...
بے ضمیروں کے کبھی جھانسے میں میں آتا نہیں مشکلوں کی بھیڑ سے ہرگز میں گھبراتا نہیں مجھ سے اب اپنی زباں سے کچھ کہا جاتا نہیں جرم کر کے بھی کوئی مجرم سزا پاتا نہیں میری خودداری سدا کرتی ہے میری رہبری میں کبھی پتھر سے اپنے سر کو ٹکراتا نہیں حق شناسی میرا مسلک حق پرستی میرا کام میں ...
تم سا گر راہ بر نہیں ہوتا کوئی بھی راہ پر نہیں ہوتا راستے بھی فریب دیتے ہیں جب کوئی ہم سفر نہیں ہوتا اس کی یادیں جو ہم سفر ہوتیں تو سفر طول تر نہیں ہوتا اپنے سائے سے جو نہ ہو محروم ایسا کوئی شجر نہیں ہوتا ہاں میں اس کی اگر ملاتا ہاں دار پہ میرا سر نہیں ہوتا میں نکلتا ہوں جب سفر ...
خیال بد سے ہمہ وقت اجتناب کرو فضائے شہر کو دانستہ مت خراب کرو جہاں میں آئے ہو دو دن کی زندگی لے کر ہر اک محاذ پہ تم اس کو کامیاب کرو تمام شہر ہے ڈوبا ہوا اندھیرے میں تم اپنے چاند سے چہرے کو بے نقاب کرو ادھر خلوص ادھر بغض اور نفرت ہے عزیز کیا ہے تمہیں اس کا انتخاب کرو جو تم نے ...