قومی زبان

خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہے

خیمگیٔ شب ہے تشنگی دن ہے وہی دریا ہے اور وہی دن ہے اس قدر مت اداس ہو جیسے یہ محبت کا آخری دن ہے اک دیا دل کی روشنی کا سفیر ہو میسر تو رات بھی دن ہے خاک اڑاتے کہاں پہ جاؤ گے اب تو یہ دشت بھی کوئی دن ہے شام آئے گی شب ڈرائے گی تو ابھی لوٹ جا ابھی دن ہے اور وہ بام سے اتر بھی گیا لوگ ...

مزید پڑھیے

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے

ربط اسیروں کو ابھی اس گل تر سے کم ہے ایک رخنہ سا ہے دیوار میں در سے کم ہے حرف کی لو میں ادھر اور بڑھا دیتا ہوں آپ بتلائیں تو یہ خواب جدھر سے کم ہے ہاتھ دنیا کا بھی ہے دل کی خرابی میں بہت پھر بھی اے دوست تری ایک نظر سے کم ہے سوچ لو میں بھی ہوا چپ تو گراں گزرے گا یہ اندھیرا جو مرے شور ...

مزید پڑھیے

میں اسے سوچتا رہا یعنی

میں اسے سوچتا رہا یعنی وہ مرا خواب ہے خدا یعنی ہجر سے ہجر تک تھی یہ ہجرت وہ ملا یعنی کھو گیا یعنی گردش مہر و ماہ کا حاصل یعنی میرا وجود لا یعنی دل کہاں شہسوار دنیا تھا سو گرا گر کے مر گیا یعنی تو مجھے اس کا نام بھول گیا ہو گیا میں بھی لاپتا یعنی کام کی بات پوچھتے کیا ہو کچھ ہوا ...

مزید پڑھیے

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں

خموش رہ کے زوال سخن کا غم کئے جائیں سوال یہ ہے کہ یوں کتنی دیر ہم کئے جائیں یہ نقش گر کے لیے سہل بھی نہ ہو شاید کہ ہم سے اور بھی اس خاک پر رقم کئے جائیں کئی گزشتہ زمانے کئی شکستہ نجوم جو دسترس میں ہیں لفظوں میں کیسے ضم کئے جائیں یہ گوشوارے زباں کے بہت سنبھال چکے سو شعر کاٹ دیے ...

مزید پڑھیے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے

روشنی کی ڈور تھامے زندگی تک آ گئے چور عہد سامری کے جل پری تک آ گئے واعظان خوش ہوس کی جھڑکیاں سنتے ہوئے لا شعوری طور پر ہم سر خوشی تک آ گئے ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور خالی پیٹ ہم ہنستے گاتے تھاپ سنتے ڈھولچی تک آ گئے واہموں کی ناتمامی کا علاقہ چھوڑ کر کچھ پرندے ہاتھ باندھے ...

مزید پڑھیے

جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہے

جسم کے خول میں اک شہر انا رکھا ہے نام جیون کا تبھی ہم نے سزا رکھا ہے ہم مکینوں کو نہیں کوئی خوشی سے مطلب فیصلہ شہر کے والی نے سنا رکھا ہے خوشیاں جا بیٹھیں کہیں اونچی سی اک ٹہنی پر دل کے بہلانے کو اک لفظ قضا رکھا ہے آنکھوں میں خواب چبھن سونے نہیں دیتی ہے ایک مدت سے ہمیں تو نے جگا ...

مزید پڑھیے

بن کے حسرت سما گیا اک شخص

بن کے حسرت سما گیا اک شخص مجھ کو آنسو بنا گیا اک شخص سوچ ہالے پہ انتظار لکھا اور رستے دکھا گیا اک شخص میرے جیون کی ڈائری میں لکھا باب قسمت مٹا گیا اک شخص کربلا میں ہے روزگار الم کام کیسا لگا گیا اک شخص میں نے اس سے وفا کا ذکر کیا پر برا کیوں منا گیا اک شخص کر کے جیون سے بے نیاز ...

مزید پڑھیے

ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہے

ہنسنا آہ و فغاں سے سیکھا ہے یہ ہنر بھی جہاں سے سیکھا ہے ہر خوشی سے نظر چرا لینا اک عجب مہرباں سے سیکھا ہے دوڑ سے خود کو یوں الگ رکھنا منزل بے نشاں سے سیکھا ہے سب سے کہنا خوشی کے آنسو ہیں یہ بھرم آستاں سے سیکھا ہے ایسے خود کو اذیتیں دینا تو نے فرخؔ کہاں سے سیکھا ہے

مزید پڑھیے

جو جنوں تھا سو وہ اب نہیں

جو جنوں تھا سو وہ اب نہیں مجھے اب تمہاری طلب نہیں تجھے کیا خبر مرے حال کی جو کہا تجھے وہی سب نہیں یہ الگ کہ تجھ کو صدا نہ دیں ہمیں یاد ورنہ تو کب نہیں میں خوشی میں گھر کے اداس ہوں کوئی اور اس کا سبب نہیں

مزید پڑھیے

بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہے

بندہ پتلا خطا کا ہوتا ہے مسئلہ تو انا کا ہوتا ہے وہی مستول ڈھیلا کرتے ہیں جن پہ تکیہ بلا کا ہوتا ہے ہم یونہی خواب بنتے رہتے ہیں کھیل سارا قضا کا ہوتا ہے سوختہ تن کی راکھ پر شاید ظلم باقی ہوا کا ہوتا ہے جس کو شبنم ملے نہ حصے کی پھول وہ ادھ کھلا سا ہوتا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 3837 سے 6203