قومی زبان

مرے ہی دل کو اپنا گھر سمجھنا

مرے ہی دل کو اپنا گھر سمجھنا اسے تم تاج سے بہتر سمجھنا نہ کرنا خیر خواہی تم کسی کی جو بہتر ہو اسے بہتر سمجھنا نہ اترانا کبھی شہرت پہ اپنی سدا اپنے کو تم احقر سمجھنا اڑا دے آدمی کو جو بموں سے اسے چنگیز کا لشکر سمجھنا ہے دھوکا دینا اپنے آپ کو بس کسی انسان کو بے پر سمجھنا بہت ...

مزید پڑھیے

سکوں پرور ہے جذباتی نہیں ہے

سکوں پرور ہے جذباتی نہیں ہے مرا ہمدم خرافاتی نہیں ہے جو کرتا تھا چراغاں سب کے گھر میں اسی کے گھر دیا باتی نہیں ہے مرا محبوب ہے محبوب کامل مرا محبوب جذباتی نہیں ہے تعلق رکھ کے بھی ہے بے تعلق سمجھ میں بات یہ آتی نہیں ہے جسے راس آ گئی عزلت نشینی طبیعت اس کی گھبراتی نہیں ...

مزید پڑھیے

چاہے صحرا میں چاہے گھر رہنا

چاہے صحرا میں چاہے گھر رہنا زندگی سے قریب تر رہنا جس کے گھر جانا مہماں بن کر اس کے گھر یار مختصر رہنا چاہتے ہو اگر ملے شہرت روز کی تازہ اک خبر رہنا یہ منافی ہے آدمیت کے بے خبر اور خود نگر رہنا آنچ آنے نہ پائے عزت پر تم گہر ہو سدا گہر رہنا کارناموں سے اپنے اے ہمدم تم امر ہو تو ...

مزید پڑھیے

کیا کیا ہیں گلے اس کو بتا کیوں نہیں دیتا

کیا کیا ہیں گلے اس کو بتا کیوں نہیں دیتا تعزیر خطا مجھ کو سنا کیوں نہیں دیتا ہیں ناوک دل دوز مرے یار کے تیور اک بار وہ سب تیر چلا کیوں نہیں دیتا یک طرفہ محبت کے تذبذب سے تو نکلوں اس راز سے پردہ وہ ہٹا کیوں نہیں دیتا لکھتا بھی ہے مجھ کو سر قرطاس محبت مذموم جو لگتا ہوں مٹا کیوں ...

مزید پڑھیے

آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورنا

آساں نہیں ہے جادۂ حیرت عبورنا حیراں ہوئے بغیر اسے مت عبورنا میرے خلاف کوئی بھی بکتا رہے مگر سیکھا ہے میں نے سرحد تہمت عبورنا صد آفریں خیال تو اچھا ہے واقعی آنکھوں کو بند کر کے محبت عبورنا آوارگان عشق ذرا احتیاط سے لذت کے بعد لذت شہوت عبورنا تعمیر ماہ و سال میں تاخیر کے ...

مزید پڑھیے

ملبے سے جو ملی ہیں وہ لاشیں دکھائیے

ملبے سے جو ملی ہیں وہ لاشیں دکھائیے صاحب نوادرات کی شکلیں دکھائیے ہم لوگ بے بصر ہیں مگر بد نظر نہیں عینک اتارئیے ہمیں آنکھیں دکھائیے دنیا کما کے سو گئے جو بے چراغ لوگ ان کو مرا خیال ہے قبریں دکھائیے جو دیکھنے سے باز نہیں آ رہے انہیں محشر کے دن کی آخری قسطیں دکھائیے میں ہوں ...

مزید پڑھیے

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا

ہر مشکل آسان بنانے والا تھا میں پتھر کے پان بنانے والا تھا خوابوں کی تاویل سمجھ سے باہر تھی جب میں پاکستان بنانے والا تھا حق باہو حق باہو کہہ کر ایک فقیر باہو کو سلطان بنانے والا تھا مجھ ایسا بہلول کہاں سے لاؤ گے نار سے جو ناران بنانے والا تھا شہزادی نے جس کی خاطر زہر پیا اک ...

مزید پڑھیے

در و دیوار خودکشی کر لیں

در و دیوار خودکشی کر لیں ہم جو ناچار خودکشی کر لیں پھر نہ کہنا مذاق تھا پیارے واقعی یار خودکشی کر لیں کام کرنا ہی شرط ہے تو پھر کیوں نہ اس بار خودکشی کر لیں جن چراغوں کو موت کا ڈر ہے وہ سر دار خودکشی کر لیں اس سے پہلے کہ سامعیں سیوم اہم کردار خودکشی کر لیں جو ہیں ناداں وہ ...

مزید پڑھیے

چاند کمرے کی کھڑکی میں ٹھہرا رہا چاندنی رات جادو جگانے لگی

چاند کمرے کی کھڑکی میں ٹھہرا رہا چاندنی رات جادو جگانے لگی چاندنی میرے بستر تلک آ گئی اور آنکھوں سے نیندیں اڑانے لگی یاد کی ڈائری میں نے کھولی ہے جب سوکھے پھولوں سے خوشبو سی آنے لگی تیز آندھی سی چلنے لگی درد کی اور اک اک ورق کو اڑانے لگی کھل رہے ہیں خیالوں کے سب بادباں کشتیاں ...

مزید پڑھیے

ہر سانس جیسے زہر کا اک جام ہو گئی

ہر سانس جیسے زہر کا اک جام ہو گئی اب زندگی بھی مورد الزام ہو گئی گم صم ہے چاند اور ستارے بھی ہیں خموش کیا تیرے درد دل کی خبر عام ہو گئی گل پر ہے اختیار نہ خوشبو کا اعتبار گلشن بھی کیا بہار بھی نیلام ہو گئی راہ وفا میں شوق کے جگنو چمک اٹھے منزل سے دور جب بھی کہیں شام ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3839 سے 6203