قومی زبان

ہم تربت بوسیدہ سے مردار نکالیں

ہم تربت بوسیدہ سے مردار نکالیں اوروں کی زمینوں سے جو اشعار نکالیں پٹ جاتا ہے پڑھتے ہی سر بزم وہ شہکار آپ اپنے تئیں جیسا بھی شہکار نکالیں جاں کاوی ہے یہ کام نہیں آپ کے بس کا اشعار نہیں شام کا اخبار نکالیں کھل جائے گا سارا ہی بھرم خوش سخنی کا محفل سے ذرا حاشیہ بردار ...

مزید پڑھیے

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی فریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانی اگر محبت ترا رویہ ہے پھر پرایا تو باز آیا اگر زمانے تری روش ہے وہی پرانی تو ہار مانی ہم اپنا جیون ہم اپنی خوشیاں ہم اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں اگر ہے پھر بھی ہماری قسمت میں رائگانی تو ہار ...

مزید پڑھیے

بوسہ نہ دے گلے نہ لگا ہاتھ مت ملا

بوسہ نہ دے گلے نہ لگا ہاتھ مت ملا اے یار خوش جمال مگر سامنے تو آ دو چار گز کے فاصلے سے مسکرا کے دیکھ دو چار گز کے فاصلے تک آ کے لوٹ جا یا گھر میں بیٹھ اور مجھے تصویر بھیج دے فصل وبا میں وصل کا انداز ہے جدا کھڑکی سے جھانک جھانک کے خوش ہو اے روئے خوش پٹ کھول دیکھ دیکھ کے کچھ دیر ...

مزید پڑھیے

منافقین سے اظلام سے مقابلہ ہے

منافقین سے اظلام سے مقابلہ ہے مدینے والے ہیں اور شام سے مقابلہ ہے خدا کے آخری پیغام سے مقابلہ ہے جناب شیخ کا اسلام سے مقابلہ ہے ہمارے شعر کا آورد سے تقابل چھوڑ ہمارے شعر کا الہام سے مقابلہ ہے وہ پاس بیٹھا ہے اور وسوسے جدائی کے مرے یقین کا اوہام سے مقابلہ ہے بدن کمان ہوا اور ...

مزید پڑھیے

شہر علم کے دروازے پر

کبھی کبھی دل یہ سوچتا ہے نہ جانے ہم بے یقین لوگوں کو نام حیدر سے ربط کیوں ہے حکیم جانے وہ کیسی حکمت سے آشنا تھا شجیع جانے کہ بدر و خیبر کی فتح مندی کا راز کیا تھا علیم جانے وہ علم کے کون سے سفینوں کا نا خدا تھا مجھے تو بس صرف یہ خبر ہے وہ میرے مولا کی خوشبوؤں میں رچا بسا تھا وہ ان کے ...

مزید پڑھیے

مرا ذہن مجھ کو رہا کرے

مرا ذہن دل کا رفیق ہے مرا دل رفیق ہے جسم کا مرا جسم ہے مری آنکھ میں مری آنکھ اس کے بدن میں ہے وہ بدن کہ بوسۂ آتشیں میں جلا بھی پھر بھی ہرا رہا وہ بدن کہ لمس کی بارشوں میں دھلا بھی پھر بھی نیا رہا وہ بدن کی وصل کے فاصلے پہ رہا بھی پھر بھی مرا رہا مجھے اعتراف! مرے وجود پہ ایک چراغ کا ایک ...

مزید پڑھیے

سوغات

گل دانوں میں سجے ہوئے پھولوں کو میں نے رات اپنی آغوش میں لے کر اتنا بھینچا سارے رنگ اور ساری خوشبو انگ انگ میں بسی ہوئی ہے ساری دنیا نئی ہوئی ہے پر مجھ کو ان سب رنگوں اور خوشبوؤں سے ڈر لگتا ہے جن کا مقدر تنہائی ہو یا پھر ایسی رسوائی ہو جس کی آگ میں برس برس کے سجے ہوئے منظر جل ...

مزید پڑھیے

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے تمہاری جیت ہو جائے ہماری ہار سے پہلے کسی لمحے تمہارا وار کاری ہو بھی سکتا ہے مگر یہ سر ہی جائے گا مری دستار سے پہلے بتا کتنا گرا سکتا ہوں خود کو تیری خواہش پر مرا معیار بھی تو ہے ترے معیار سے پہلے نظارہ ہائے دل کش سے گزر جاتا تھا ...

مزید پڑھیے

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے یعنی پھولوں کی خیر مانگی ہے یہ خبر ہے کہ بادلوں نے ابھی تیری زلفوں کی خیر مانگی ہے سارے بجھتے ہوئے چراغوں نے جلتی آنکھوں کی خیر مانگی ہے کچھ فقیروں نے دان کے بدلے کج کلاہوں کی خیر مانگی ہے ڈولتے تخت اڑتے تاجوں نے بادشاہوں کی خیر مانگی ہے تیری ...

مزید پڑھیے

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے

ہم صد ہزار بار تجھے دیکھتے رہے تھا شوق بے مہار تجھے دیکھتے رہے کچھ نے تو مسکرا کے کہا الوداع مگر کچھ لوگ اشک بار تجھے دیکھتے رہے پھر یوں ہوا کہ سارے بدن پر نکل پڑیں آنکھیں کئی ہزار تجھے دیکھتے رہے دیوار جاں سے نقش تو تحلیل ہو گئے مژگاں کے آر پار تجھے دیکھتے رہے اے حسن لا زوال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3824 سے 6203