قومی زبان

وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں

وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں جو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں ابھی مجھے خبر نہیں میں کس لئے اداس ہوں جو حزن ہے ملال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں غبار آرزو چھٹے تو پھر کوئی خبر ملے یہ ہجر ہے وصال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں فقیہ شہر ایک جام پی کے دیکھ لوں ...

مزید پڑھیے

زخم جب گفتگو نہیں کرتا

زخم جب گفتگو نہیں کرتا چارہ گر بھی رفو نہیں کرتا شہر الفت کا وہ منافق ہے بات جو روبرو نہیں کرتا بات بے بات مسکراتا ہوں غم کو میں سرخ رو نہیں کرتا ہوک اندر سے اٹھ رہی ہے میاں میں دکھانے کو ہو نہیں کرتا ضبط کی آخری نشانی ہے میں اگر ہاؤ ہو نہیں کرتا ٹھیک ہے دیکھ بھال کرتا ہے زخم ...

مزید پڑھیے

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ دروں کا شور مری خامشی سے شرمندہ کہو تو آج ذرا سا سنوار لوں خود کو کہ آئینے ہیں مری سادگی سے شرمندہ عجیب دوہری عزت کا سامنا ہے انہیں کوئی کسی سے تو کوئی کسی سے شرمندہ ہمارے ہاتھ جو دستک نہ دے سکے در پر ہمارے ہاتھ رہے اس کجی سے شرمندہ ہم اپنی خاک ...

مزید پڑھیے

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے لوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والے تو مری آنکھ کو بھایا ہے مرے دل کو نہیں تیرے اطوار تو لگتے ہیں زمانے والے عمر بھر تجھ کو مرا خواب نہیں آئے گا وصل کی شام مرا ہجر منانے والے یعنی کچھ روز تجھے چھوڑ کے میں بھی خوش تھا مجھ کو یہ بات بتاتے ہیں بتانے ...

مزید پڑھیے

بحر بے کنار تو

بحر بے کنار تو میں ذرا سی آب جو عکس ہے خجل خجل آئینے کے رو بہ رو دوستوں نے دیکھ لی کر کے میری جستجو اب کئی دنوں سے ہوں میں ہی اپنے دو بدو پھول چن رہا تھا میں تم تھے محو گفتگو تیرے در کو چھوڑ کے پھر رہے ہیں کو بہ کو تذکرہ ہو چاند کا یا تمہاری گفتگو آئنے سے بات کر آ کبھی تو ...

مزید پڑھیے

ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا

ہوائے شام ذرا سا قیام ہوگا نا چراغ جاں کو جلاؤں کلام ہوگا نا بس ایک بات ہی پوچھی بچھڑنے والے نے کبھی کہیں پہ ملے تو سلام ہوگا نا رخ جمال پہ شکنیں ہی جب سجی ہوں گی تو پھر ہمارا رویہ بھی خام ہوگا نا تری بہشت میں حور و قصور ہوں گے مگر قرار جاں کا بھی کچھ انتظام ہوگا نا کبھی کبھار ...

مزید پڑھیے

انتباہ

ہنڈولا جھولنے والے زمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے کی چاہ رکھتے ہیں تو پھر جھولیں مگر یہ یاد رکھیں زمیں سے کٹ کے اونچا جھولنے والے فضاؤں میں معلق ہی رہیں گے جھلانے والے کے رحم و کرم پر دائرہ در دائرہ گردش کریں گے اور زمیں پر لوٹ کر بھی بے زمینی کے الم سہتے رہیں گے ہنڈولا جھولنے ...

مزید پڑھیے

التجا

مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میں بس اب سلامتیٔ جاں کی حد تلک اڑان چاہتا ہوں میں مرے شکاریو امان چاہتا ہوں میں میں ایک بار پہلے بھی ہرے بھرے دنوں کی آرزو میں زیر دام آ چکا ہوں مجھ کو بخش دو میں اس سے پہلے بھی تو سایۂ شجر کی جستجو میں اتنے زخم کھا چکا ہوں مجھ کو بخش دو مرے شکاریو امان ...

مزید پڑھیے

کوچ

جس روز ہمارا کوچ ہوگا پھولوں کی دکانیں بند ہوں گی شیریں سخنوں کے حرف دشنام بے مہر زبانیں بند ہوں گی پلکوں پہ نمی کا ذکر ہی کیا یادوں کا سراغ تک نہ ہوگا ہمواریٔ ہر نفس سلامت دل پر کوئی داغ تک نہ ہوگا پامالیٔ خواب کی کہانی کہنے کو چراغ تک نہ ہوگا معبود اس آخری سفر میں تنہائی کو ...

مزید پڑھیے

ایک تھا راجہ چھوٹا سا

علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو تتلیوں کے قریب جانے سے روکئے اسے روکئے کہ پڑوسیوں کے گھروں میں جھولے پڑے ہوئے ہیں تو اس سے کیا اسے کیا پڑی کہ کبوتروں کو بتائے کیسے ہوائیں اس کی پتنگ چھین کے لے گئیں علی افتخارؔ کی ماں سے میں نے بتا دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3825 سے 6203