وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں
وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں جو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں ابھی مجھے خبر نہیں میں کس لئے اداس ہوں جو حزن ہے ملال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں غبار آرزو چھٹے تو پھر کوئی خبر ملے یہ ہجر ہے وصال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں فقیہ شہر ایک جام پی کے دیکھ لوں ...