قومی زبان

تم حقیقت نہیں حکایت ہو

تم حقیقت نہیں حکایت ہو اک پرستان سے روایت ہو میں تمہیں خود بھی چھو نہیں سکتا تم مرا پاس میری حرمت ہو میں تمہیں چاہتا ہوں صدیوں سے تم ازل سے مجھے ودیعت ہو مجھ سے تم خرچ کیوں نہیں ہوتے کیا کسی اور کی امانت ہو تم تسلسل ہو میری سانسوں کا تم مرے جسم کی حرارت ہو تم مرا گوشوارۂ شب و ...

مزید پڑھیے

شاخ گل پر لچک رہی ہوگی

شاخ گل پر لچک رہی ہوگی ایک چڑیا چہک رہی ہوگی تم نے جس شاخ کو چھوا ہوگا وہ ابھی تک مہک رہی ہوگی شوخ لہروں نے بڑھ کے غسل دیا اب وہ زلفیں جھٹک رہی ہوگی جانتا ہوں کہ وہ خفا ہو کر مجھ کو چھپ چھپ کے تک رہی ہوگی میں ہی گریاں نہیں ہوں وہ بھی ضرور منہ چھپا کر بلک رہی ہوگی ترک الفت تو صرف ...

مزید پڑھیے

تقصیر کیا ہے حسرت دیدار ہی تو ہے

تقصیر کیا ہے حسرت دیدار ہی تو ہے پاداش اس کی حسن کا پندار ہی تو ہے کیا پوچھتے ہو میرا فسانہ نیا نہیں کیا دیکھتے ہو عشق سر دار ہی تو ہے بند قبا چٹکتا ہوا غنچۂ گلاب پہلوئے یار نکہت گلزار ہی تو ہے ہمسائیگی میں اس کی ہے کیا لطف ان دنوں لیکن یہ لطف سایۂ دیوار ہی تو ہے اے باغباں بنام ...

مزید پڑھیے

ابھی تو حوصلۂ کاروبار باقی ہے

ابھی تو حوصلۂ کاروبار باقی ہے یہ کم کہ آمد فصل بہار باقی ہے ابھی تو شہر کے کھنڈروں میں جھانکنا ہے مجھے یہ دیکھنا بھی تو ہے کوئی یار باقی ہے ابھی تو کانٹوں بھرے دشت کی کرو باتیں ابھی تو جیب و گریباں میں تار باقی ہے ابھی تو کاٹنا ہے تیشوں سے چٹانوں کو ابھی تو مرحلۂ کوہسار باقی ...

مزید پڑھیے

کوئی رہبر کوئی ساتھی کوئی اپنا نہ ملا

میں وہ کشتی ہوں کبھی جس کو کنارا نہ ملا لے لیا اپنی جوانی کا سہارا میں نے جب مجھے قوم کے ہاتھوں کا سہارا نہ ملا ہو کے مجبور جہنم کو بسایا میں نے جب مجھے مندر و مسجد میں ٹھکانا نہ ملا کل حقارت سے جو کہتے تھے بھکارن مجھ کو آج کہتے ہیں کہ گلشن میں نیا پھول کھلا کوئی سمجھا نہ میری روح ...

مزید پڑھیے

لبوں پہ شکوۂ ایام بھی نہیں ہوتا

لبوں پہ شکوۂ ایام بھی نہیں ہوتا زباں پہ اب تو ترا نام بھی نہیں ہوتا کبھی کبھی اسے سوچوں تو سوچ لیتا ہوں کبھی کبھار یہ اک کام بھی نہیں ہوتا یہ مے کدہ ہے نہیں مے کشو یہ دھوکا ہے یہاں تو نشہ تہہ جام بھی نہیں ہوتا نہیں یہ درد نہیں یہ ضرور ہے کچھ اور کہ اس میں تو مجھے آرام بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

روشنی کا سبب عشق ہے

روشنی کا سبب عشق ہے نغمگی کا سبب عشق ہے خاک ناپاک کی خلق پر برتری کا سبب عشق ہے روح میں کھلتے جذبات کی تازگی کا سبب عشق ہے مجھ سے بے باک انسان کی بے بسی کا سبب عشق ہے مجھ فقیر کم آمیز کی سروری کا سبب عشق ہے سرکشی کا سبب ہے ہوس بندگی کا سبب عشق ہے باعث عشق ہے زندگی زندگی کا سبب ...

مزید پڑھیے

اس بہانے کے بعد کیسا عشق

اس بہانے کے بعد کیسا عشق بھول جانے کے بعد کیسا عشق یعنی تم مجھ کو آزماؤ گے آزمانے کے بعد کیسا عشق ضبط تو اصل ہے محبت کی غم جتانے کے بعد کیسا عشق یہ ترا وہم ہے فقط اک وہم تیرے جانے کے بعد کیسا عشق اک کمی کا کسک کا نام ہے یہ عشق پانے کے بعد کیسا عشق

مزید پڑھیے

آزار و اذیت ہے یک طرفہ محبت بھی

آزار و اذیت ہے یک طرفہ محبت بھی اک طرفہ قیامت ہے یک طرفہ محبت بھی سنتے تھے کہ قصہ ہے افسانوں کا حصہ ہے جانا کہ حقیقت ہے یک طرفہ محبت بھی خود سے ہی چھپاتے ہیں خود کو ہی جلاتے ہیں خود سے ہی رقابت ہے یک طرفہ محبت بھی اک شخص سے وابستہ جذبات ہیں صف بستہ اک طرز عقیدت ہے یک طرفہ محبت ...

مزید پڑھیے

مر ہی جاؤں جو ملے موت قرینے والی

مر ہی جاؤں جو ملے موت قرینے والی زندگی تو مجھے لگتی نہیں جینے والی حضرت شیخ نے پابند کیا ہے ورنہ ایک ہی چیز مجھے لگتی ہے پینے والی یہ مرے سارے گھرانے کے لیے کافی ہے یہ کمائی ہے مرے خون پسینے والی جس کسی نے بھی سنائی ہے ادھوری ہی سنائی اک کہانی کسی مدفون خزینے والی مجھ کو لگتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 382 سے 6203