قومی زبان

جو دشت خوابوں میں اکثر دکھائی دیتا ہے

جو دشت خوابوں میں اکثر دکھائی دیتا ہے وہ جاگنے پہ مرا گھر دکھائی دیتا ہے ہماری خامہ طرازی سے بچ کے رہیے حضور کہ دست مست میں خنجر دکھائی دیتا ہے جو دور سے اسے دیکھو تو چاند جیسا لگے قریب جاؤ تو پتھر دکھائی دیتا ہے صنم تراش گرسنہ ہے ان دنوں شاید کہ ہر مجسمہ لاغر دکھائی دیتا ...

مزید پڑھیے

نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے

نئے گل کھلے نئے دل بنے نئے نقش کتنے ابھر گئے وہ پیمبران صد انقلاب جدھر جدھر سے گزر گئے جو شہید راہ وفا ہوئے وہ اسی خوشی میں مگن رہے کہ جو دن تھے ان کی حیات کے غم زندگی میں گزر گئے ابھی ساتھ ساتھ تو تھے مگر مجھے میرے حال پہ چھوڑ کر مرے ہم جلیس کہاں گئے مرے ہم صفیر کدھر گئے مری ...

مزید پڑھیے

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے یہ مانا شیشۂ دل رونق بازار الفت ہے مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداؤں کو چھپانے سے ...

مزید پڑھیے

وہ تنہا میرے ہی درپئے نہیں ہے

وہ تنہا میرے ہی درپئے نہیں ہے کسی سے خوش ہو یہ بھی طے نہیں ہے یہاں کی مسندیں سب کے لیے ہیں یہ میرا گھر ہے قصر کے نہیں ہے ابھی غنچہ ابھی گل اور ابھی تخم تو کیوں کہیے کہ ہستی ہے نہیں ہے تغیر ارتقا دستور فطرت نہ بدلے جو وہ کوئی شے نہیں ہے مگس کی خاک پا نطفہ عنب کا کشید گل مگس کی قے ...

مزید پڑھیے

قرطاس پہ نقشے ہمیں کیا کیا نظر آئے

قرطاس پہ نقشے ہمیں کیا کیا نظر آئے سب خشک نظر آئے جو دریا نظر آئے کس کو شب ہجراں کی گرانی کا ہو احساس جب دن چڑھے بازار میں تارا نظر آئے پتھر سا وہ لگتا ہے ٹٹولو نہ جو دل کو اور ہاتھ میں لے لو تو سراپا نظر آئے صحرا کی صدا جس کو سمجھتے رہے کل تک وہ حرف جنوں اب چمن آرا نظر آئے منزل ...

مزید پڑھیے

حالات سے فرار کی کیا جستجو کریں

حالات سے فرار کی کیا جستجو کریں جز یہ کہ شہر دار میں جشن سبو کریں آؤ علاج تلخئ کام و گلو کریں کچھ دیر شغل جام رہے گفتگو کریں اپنے کرم سے کیا وہ ہمیں سرخ رو کریں ہم ایسے بدمزاج کہ دل کو لہو کریں پہچان بھی نہ پائیں گے آپ اپنی شکل کو ٹوٹا ہے دل کا آئینہ کیا رو بہ رو کریں کچھ فیصلہ ...

مزید پڑھیے

ہو رہی ہے در بدر ایسی جبیں سائی کہ بس

ہو رہی ہے در بدر ایسی جبیں سائی کہ بس کیا ابھی باقی ہے کوئی اور رسوائی کہ بس آشنا راہیں بھی ہوتی جا رہی ہیں اجنبی اس طرح جاتی رہی آنکھوں سے بینائی کہ بس تا سحر کرتے رہے ہم انتظار مہر نو دیکھتے ہی دیکھتے ایسی گھٹا چھائی کہ بس ڈھونڈتے ہی رہ گئے ہم لعل و الماس و گہر کور بدبینوں نے ...

مزید پڑھیے

حضور یار بھی آزردگی نہیں جاتی

حضور یار بھی آزردگی نہیں جاتی کہ ہم سے اتنی بھی دوری سہی نہیں جاتی خود اپنے سر یہ بلا کون مول لیتا ہے محبت آپ سے ہوتی ہے کی نہیں جاتی لہو جلاتی ہے خاموشیوں میں پلتی ہے حکایت دل سوزاں کہی نہیں جاتی ہم اس کو کیا کریں تم کو ہے ناپسند مگر زبان حال سے برجستگی نہیں جاتی ملا دے خاک ...

مزید پڑھیے

پیش وہ ہر پل ہے صاحب

پیش وہ ہر پل ہے صاحب پھر بھی اوجھل ہے صاحب آدھی ادھوری دنیا میں کون مکمل ہے صاحب آج تو پل پل مرنا ہے جینا تو کل ہے صاحب اچھی خاصی وحشت ہے اور مسلسل ہے صاحب دور تلک تپتا صحرا اور اک چھاگل ہے صاحب پورے چاند کی آدھی رات رقصاں جنگل ہے صاحب جھیل کنارے تنہائی اور اک پاگل ہے ...

مزید پڑھیے

نقیب بخت سارے سو چکے ہیں

نقیب بخت سارے سو چکے ہیں بالآخر بے سہارے سو چکے ہیں کسی سے خواب میں ملنا ہے شاید کہ وہ گیسو سنوارے سو چکے ہیں مجھے بھی خود سے وحشت ہو رہی ہے سبھی جذبے تمہارے سو چکے ہیں کئی مایوس ماہی گیر آخر سمندر کے کنارے سو چکے ہیں شب تنہائی جوں توں کٹ رہی ہے غم فرقت کے مارے سو چکے ہیں مقفل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 381 سے 6203