قومی زبان

کیا جانے کس کی دھن میں رہا دل فگار چاند

کیا جانے کس کی دھن میں رہا دل فگار چاند سنگم پہ روز و شب کے ڈھلا بار بار چاند آئی نہ رات بھر کوئی پنگھٹ پہ سانولی پانی میں چھپ کے بیٹھا رہا بے قرار چاند کرنوں کی ڈوریوں سے الجھتے ہو کس لیے کچھ بھی نہ دے سکے گا تجھے داغدار چاند بازو کے دائرے وہ مہک چوڑیاں کھنک دو سائے زرد چاندنی ...

مزید پڑھیے

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا مختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیا پھول سے موسم کی برساتیں ہواؤں کی مہک اب کے موسم کی وہ سب شامیں سہانی لے گیا دے گیا مجھ کو سرابوں کا سکوت مستقل میرے اشکوں سے وہ دریا کی روانی لے گیا خاک اب اڑنے لگی میدان صحرا ہو گئے ریت کا طوفان دریاؤں سے ...

مزید پڑھیے

روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہی

روح جسموں سے باہر بھٹکتی رہی زخمی یادوں کو آنچل سے ڈھکتی رہی میرے ہاتھوں میں تھیں گرد کی چادریں زندگی تھی کے دامن جھٹکتی رہی چاندنی میں حسیں زہر گھلتا رہا سر کو مرمر پہ ناگن پٹکتی رہی میں گھٹاؤں سے خود کو بچاتی رہی تیغ بجلی کی سر پہ لٹکتی رہی میرے ہونٹوں کو کب مل سکی ...

مزید پڑھیے

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے

جسم و جاں کی بستی میں سلسلے نہیں ملتے اب کسی بھی مرکز سے دائرے نہیں ملتے دو قدم بچھڑنے سے قافلے نہیں ملتے منزلیں تو ملتی ہیں راستے نہیں ملتے بارہا تراشا ہے ہم نے آپ کا چہرہ آپ کو نہ جانے کیوں آئنہ نہیں ملتے وقت کی کمی کہہ کر جہل کو چھپاتے ہیں آج کل کتابوں میں حاشیے نہیں ...

مزید پڑھیے

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا

اگر وہ مل کے بچھڑنے کا حوصلہ رکھتا تو درمیاں نہ مقدر کا فیصلہ رکھتا وہ مجھ کو بھول چکا اب یقین ہے ورنہ وفا نہیں تو جفاؤں کا سلسلہ رکھتا بھٹک رہے ہیں مسافر تو راستے گم ہیں اندھیری رات میں دیپک کوئی جلا رکھتا مہک مہک کے بکھرتی ہیں اس کے آنگن میں وہ اپنے گھر کا دریچہ اگر کھلا ...

مزید پڑھیے

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے

ذہن و دل کے فاصلے تھے ہم جنہیں سہتے رہے ایک ہی گھر میں بہت سے اجنبی رہتے رہے دور تک ساحل پہ دل کے آبلوں کا عکس تھا کشتیاں شعلوں کی دریا موم کے بہتے رہے کیسے پہنچے منزلوں تک وحشتوں کے قافلے ہم سرابوں سے سفر کی داستاں کہتے رہے آنے والے موسموں کو تازگی ملتی گئی اپنی فصل آرزو کو ہم ...

مزید پڑھیے

بری زمینوں کے فاصلوں کو مٹاتے رہنا

بری زمینوں کے فاصلوں کو مٹاتے رہنا میں لوٹ آؤں گا مجھ کو واپس بلاتے رہنا یہ گرد بادوں کا مسئلہ ہے کہ مشغلہ ہے ہوا کے دامن پہ دائرے سے بناتے رہنا تری طلب کے علاوہ اپنا کوئی نہیں ہے قریب آ کر بھی کچھ نہ کچھ دور جاتے رہنا تمہاری آنکھیں تو زندگی سے بھری ہوئی ہیں ہمارے جیسوں کا ...

مزید پڑھیے

روح کو میری توجہ چاہیے

روح کو میری توجہ چاہیے زخم سے گہری توجہ چاہیے گھر کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں اب اسے کوئی توجہ چاہیے جم گئی ہے کائی سی دہلیز پر تیرے قدموں کی توجہ چاہیے پہلے مجھ کو چاہیے تھا تو مگر اب فقط تیری توجہ چاہیے ایک چشم تر کہیں گم ہو گئی اے مری مٹی توجہ چاہیے ڈوبتے سورج کے یہ الفاظ ...

مزید پڑھیے

اس سامنے بیٹھی لڑکی سے

اس سامنے بیٹھی لڑکی سے دل چاہتا ہے اک بات کروں وہ بات کہ جس کی کرنوں سے ہر سمت اجالا ہو جائے یہ حبس جو ہر سو پھیلا ہے خوشبو کا حوالہ ہو جائے اس چندن مورت لڑکی کی مہکار ہے سارے کمرے میں خاموش ہے وہ پھر بھی اس کی چہکار ہے سارے کمرے میں دل ہی دل میں دل کی باتیں روزانہ کہتا ہوں اس ...

مزید پڑھیے

تمہارے لئے میری پہلی نثری نظم

تم ان ساری عورتوں سے زیادہ خوب صورت ہو جنہوں نے میرے خیالات پر شعلوں کا ایک ہالہ سا بنائے رکھا اور جن کی محبت کا بوجھ برداشت کرتے ہوئے میرے قدم تم تک آ پہنچے تمہارا چہرہ بھلے میری نظروں سے گریزاں رہا میری آنکھیں روشن ہیں اس چمکیلے گلیشیئر کی طرح جو دھوپ میں دور سے نظر آ جائے یہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3815 سے 6203