قومی زبان

نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہا

نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہا ادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہا ہزاروں طوفاں اٹھائے ہیں وقت آنے پر لہو بھی خاص ادا سے مرے بدن میں رہا میں ایک رنگ تھا رنگ خیال آوارہ کسی دھنک میں کسی رت کے پیرہن میں رہا انا ہی تھی کہ نہ جھکنے دیا کبھی مجھ کو پہاڑ سر پہ اٹھا کر بھی ...

مزید پڑھیے

کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے

کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے تمام شہر کے چہروں کو پڑھنے نکلا ہوں اے میرے دوست مرے ہاتھ میں کتاب نہ دے غزل کے نام کو بدنام کر دیا اس نے کچھ اور دے مرے ساقی مجھے شراب نہ دے میں تجھ کو دیکھ کے تیرے بھرم کو جان سکوں اک آدمی ہوں ذرا سوچ ایسی تاب ...

مزید پڑھیے

دنیا لٹی تو دور سے تکتا ہی رہ گیا

دنیا لٹی تو دور سے تکتا ہی رہ گیا آنکھوں میں گھر کے خواب کا نقشہ ہی رہ گیا اس کے بدن کا لوچ تھا دریا کی موج میں ساحل سے میں بہاؤ کو تکتا ہی رہ گیا دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا وہ اپنا عکس بھول کے جانے لگا تو میں آواز دے کے اس کو بلاتا ہی رہ ...

مزید پڑھیے

مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھا

مشعل بکف کبھی تو کبھی دل بدست تھا میں سیل تیرگی میں تجلی پرست تھا ہر اک کمند عرصۂ آفاق ہی پہ تھی لیکن بلند جتنا ہوا اتنا پست تھا تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا مرنے کے ...

مزید پڑھیے

غزل ہو گئی جب بھی سوچا تمہیں

غزل ہو گئی جب بھی سوچا تمہیں فسانے بنے جب بھی لکھا تمہیں کبھی دھوپ ہو تم کبھی چاندنی سمجھ کر بھی کوئی نہ سمجھا تمہیں غرض کوئی سورج سے ہم کو نہیں سحر ہو گئی جب بھی دیکھا تمہیں مجھے اپنے دل پر بڑا ناز ہے بڑے ناز سے جس نے رکھا تمہیں کبھی میری آنکھوں میں جھانکو ذرا یہاں کوئی تم سا ...

مزید پڑھیے

مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو

مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو نہ چاٹ جائے کڑی دھوپ سرخیاں لب کی شجر کی چھاؤں کسی گھر کا سائباں دیکھو محبتوں کی تسلی بہت ضروری ہے ستم کے شہر میں اک یار مہرباں دیکھو کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں ...

مزید پڑھیے

کیوں بھلا ڈھونڈتے جاؤں ترے رستے جاناں

کیوں بھلا ڈھونڈتے جاؤں ترے رستے جاناں تو رگ جاں سے بھی نزدیک ہے میرے جاناں بے وفائی کی بھلا مجھ سے شکایت کیسی تو نے خود خود پہ لگائے ہیں یہ پہرے جاناں دل پہ سو بار رفو اور رفو کیا معنی زخم اتنے تو نہ تھے دل کے یہ گہرے جاناں میں تو کل بھی تھا وہی آج وہی کل بھی وہی لوگ چہرے پہ لگا ...

مزید پڑھیے

قربان جاؤں حسن قمر انتساب کے

قربان جاؤں حسن قمر انتساب کے عارض ہیں یا ہیں پھول شگفتہ گلاب کے اب دن کہاں رہے وہ ہمارے ثبات کے اک دھوپ تھی جو ساتھ گئی آفتاب کے ہر اک ادا میں اس کی ہے قوس قزح کا رنگ ہے گفتگو میں کتنے حوالے کتاب کے حالات نے جھنجھوڑ کے ہشیار تو کیا جاگے ہوئے ہیں پھر بھی تو آثار خواب کے پھیلا ...

مزید پڑھیے

سن سن کے چپ ہیں طعنۂ اغیار کیا کریں

سن سن کے چپ ہیں طعنۂ اغیار کیا کریں مجبور ہیں وفا کے پرستار کیا کریں روئیں لہو نہ دیدۂ خوں بار کیا کریں مجروح جب ہو عشق کا پندار کیا کریں اظہار حق کے واسطے منصور اب کہاں باطل پرست حوصلۂ دار کیا کریں ہو جائے شش جہت نہ کہیں یہ دھواں دھواں جوش جنوں میں آہ شرربار کیا کریں ساقی ...

مزید پڑھیے

نہ دے جو دل ہی دہائی تو کوئی بات نہیں

نہ دے جو دل ہی دہائی تو کوئی بات نہیں یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں جو مانگنا ہے تجھے صرف ایک در سے مانگ یہ در بدر کی گدائی تو کوئی بات نہیں اگرچہ خواہش منزل جنوں کے ناخن لے خرد کی عقدہ کشائی تو کوئی بات نہیں مزہ تو جب ہے بجھے تشنگیٔ خار الم جنون آبلہ پائی تو کوئی بات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3802 سے 6203