نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہا
نہ کوئے یار میں ٹھہرا نہ انجمن میں رہا ادائے ناز سے یہ دل سرائے فن میں رہا ہزاروں طوفاں اٹھائے ہیں وقت آنے پر لہو بھی خاص ادا سے مرے بدن میں رہا میں ایک رنگ تھا رنگ خیال آوارہ کسی دھنک میں کسی رت کے پیرہن میں رہا انا ہی تھی کہ نہ جھکنے دیا کبھی مجھ کو پہاڑ سر پہ اٹھا کر بھی ...