قومی زبان

درد اب دل کی دوا ہو جیسے

درد اب دل کی دوا ہو جیسے زندگی ایک سزا ہو جیسے حسن یوں عشق سے ناراض ہے اب پھول خوشبو سے خفا ہو جیسے اب کچھ اس طرح سے خاموش ہیں وہ پہلے کچھ بھی نہ کہا ہو جیسے یوں غم دل کی زباں مہکی ہے نکہت زلف دوتا ہو جیسے کتنا سنسان ہے رستہ دل کا قافلہ کوئی لٹا ہو جیسے

مزید پڑھیے

شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریب

شور دریائے وفا عشرت ساحل کے قریب رک گئے اپنے قدم آئے جو منزل کے قریب پھر یہ وارفتگئ شوق سمجھ میں آئے اک ذرا جا کے تو دیکھے کوئی بسمل کے قریب ان سے بچھڑے ہوئے مدت ہوئی لیکن اب بھی اک چبھن ہوتی ہے محسوس مجھے دل کے قریب عکس بازار یہاں بھی نہ ہو اس خوف سے ہم لوٹ لوٹ آئے ہیں جا کر تری ...

مزید پڑھیے

رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیں

رہ وفا سے میں اک گام بھی ہٹا تو نہیں لہولہان ہوا ہوں مگر ڈرا تو نہیں نظر میں شائبہ خوف کس لیے آئے یہ سیل جبر ہجوم برہنہ پا تو نہیں کھنچاؤ ہوتا ہے محسوس خوں کے قطروں میں یہ روح عصر کہیں روح کربلا تو نہیں عجب تناؤ ہے ماحول میں کہیں کس سے کہیں پہ آج کوئی حادثہ ہوا تو نہیں لبوں پہ ...

مزید پڑھیے

مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیں

مقتل کے اس سکوت پہ حیرت ہے کیا کہیں ایسی فضا تو ہو کہ جسے کربلا کہیں یہ کاروان عمر یہ صحرا یہ خامشی آتی ہے شرم خود پہ بس اب اور کیا کہیں لوگوں نے خامشی کی زباں سیکھ لی تو پھر کیا کر سکیں گے قاتل نطق و صدا کہیں وہ ضرب تھی کہ نطق کی زنجیر کھل گئی کیا اور مہربانیٔ دست جفا کہیں

مزید پڑھیے

تصور

اس شہر میں شام ہوتے ہی گلیوں کے نکڑ پر سڑکوں کے کنارے زندہ دل لوگ آنکھوں کے کٹورے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور شاخ گل کی طرح لچکتی مہکتی لڑکیاں حسن کی خیرات بانٹتی پھرتی ہیں خوبصورت تنو مند بچے پھولوں کی طرح مسکراتے ایک ہاتھ میں کھلونے ایک ہاتھ میں ماں کی انگلی پکڑے ہنستے کھیلتے ...

مزید پڑھیے

شوق

شام جب ڈھلتی ہے میں اپنے خرابے کی طرف لوٹتا ہوں سرنگوں، بوجھل قدم بارہ گھنٹوں کی مشقت اور تھکن بڑھ کے لے لیتی ہے مجھ کو گود میں اور سیل تیرگی میں ڈوب جاتی ہے امید و شوق کی اک اک کرن رہ گزار آرزو پر چار سو اڑتی ہے دھول اور اک آواز آتی ہے کہیں سے جو کہ انجانی بھی پہچانی بھی ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

حاصل

وہ لمحہ وہ پر شوق و پرسوز لمحہ جو ہم راہ تیرے گزارا تھا میں نے وہی زندگی تھا اور اب یہ جو مدت سے ہے آمد و شد نفس کی اسی ایک لمحہ کی قیمت ہے شاید

مزید پڑھیے

دنیا

دنیا ایک کنواری ماں ہے ہم سب ہیں ناجائز بچے جو اپنے نادیدہ پدر کی حرص و گنہ کے پچھتاوے کو اپنے اپنے کندھے پر لادے پھرتے ہیں مرنے کی دھن میں جیتے ہیں

مزید پڑھیے

آپ بیتی

زمانے کے صحرا میں گلے سے بچھڑی ہوئی بھیڑ تنہا پشیماں ہراساں ہراساں امید و محبت کی اک جوت آنکھوں میں اپنی جگائے ہر اک راہرو کی طرف دیکھتی ہے کہ ان میں ہی شاید کوئی میرے گلے کا بھی پاسباں ہو مگر اس بیاباں میں شاید سراب اور پرچھائیوں کے سوا کچھ نہیں ہے مجھے کون سینے سے اپنے لگائے کہ ...

مزید پڑھیے

باعث اضطراب خاموشی

باعث اضطراب خاموشی اک مسلسل عذاب خاموشی گفتگو ہے ابھی ہمہ تن گوش کر رہی ہے خطاب خاموشی کس قدر دل خراش ہے مت پوچھ خامشی کا جواب خاموشی سارے لفظوں نے ساتھ چھوڑ دیا جب ہوئی باریاب خاموشی خوش بیانی کا زعم ختم ہوا کر گئی لا جواب خاموشی اک طرف پر کشش مرے اشعار اک طرف اجتناب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3791 سے 6203