قومی زبان

جی چاہتا ہے جینا جذبات کے مطابق

جی چاہتا ہے جینا جذبات کے مطابق حالات کر رہے ہیں حالات کے مطابق جس درجہ ہجر رت میں آنکھیں برس رہی ہیں غزلیں بھی اگ رہی ہیں برسات کے مطابق سکھ چین اور خوشی کا اندازہ مت لگاؤ اسباب و مال و زر کی بہتات کے مطابق ہو شہر کے مطابق حاصل ہر اک سہولت ماحول پر سکوں ہو دیہات کے ...

مزید پڑھیے

جو دوسروں کی خطائیں معاف کرتے ہیں

جو دوسروں کی خطائیں معاف کرتے ہیں دراصل دل سے کدورت وہ صاف کرتے ہیں ہر ایک بات میں حامی نہیں بھری جاتی انہیں گلہ ہے کہ ہم اختلاف کرتے ہیں کبھی گمان کی صورت کبھی یقین کے ساتھ دلوں کے راز کا ہم انکشاف کرتے ہیں ہمیں یقیں بھی دلاتے ہیں ساتھ دینے کا وہ سازشیں بھی ہمارے خلاف کرتے ...

مزید پڑھیے

تقدیر وفا کا پھوٹ جانا

تقدیر وفا کا پھوٹ جانا میں بھولا نہ دل کا ٹوٹ جانا کیا دیتا رہے گا دل پہ دستک اک جملہ جو میں نے جھوٹ جانا اک صورت اتارنا غزل میں لفظوں کا پسینا چھوٹ جانا کیا روؤں تجھے اے دھیان درپن پل بھر میں ہے تجھ کو ٹوٹ جانا کس درجہ سرور بخش تھا وہ اس کوچے میں جھوٹ موٹ جانا رک جائے گا ساتھ ...

مزید پڑھیے

آگ کے ساتھ ہی پانی بھی بہم رکھنا تھا

آگ کے ساتھ ہی پانی بھی بہم رکھنا تھا دل میں تھا عشق تو آنکھوں کو بھی نم رکھنا تھا مجھ کو معلوم تھا بدلی ہوئی رت کا انجام پھر بھی بے تاب امنگوں کا بھرم رکھنا تھا اب کہاں دل کی طلب عقل سے ہو کچھ امداد اک ذرا سوچ کے پہلا ہی قدم رکھنا تھا ان سے امید نہ رکھتا میں وفا کی کیسے دست الفت ...

مزید پڑھیے

چشم دل جس کی راہ تکتی ہے

چشم دل جس کی راہ تکتی ہے اب وہ بجلی کہاں چمکتی ہے دیر لگتی ہے جس کو جلنے میں آگ وہ دیر تک دہکتی ہے تجھ سے ملنے کی آس کی چڑیا صحن دل میں بہت چہکتی ہے دل دہلتا ہے دوسری کا بھی ایک دیوار جب درکتی ہے چھپنے والی نہیں مری چاہت تیری آنکھوں میں جو چمکتی ہے تشنگی میری جس سے ہے منسوب وہ ...

مزید پڑھیے

کیوں کسی سے ہو شکایت آپ کو

کیوں کسی سے ہو شکایت آپ کو آپ ہی سے ہے محبت آپ کو ہر طرف رقصاں فریب التفات مسکرانے کی ہے عادت آپ کو جانے کب تک صبر کرنا ہے ہمیں جانے کب ہوگی ندامت آپ کو قوت برداشت میری کم نہ ہو اور خدا رکھے سلامت آپ کو فرق پڑتا کچھ تو کرتا عرض کچھ کیا سناؤں دل کی درگت آپ کو مسکرا دیتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

مصیبت میں زمیں بھی کم نہیں ہے

مصیبت میں زمیں بھی کم نہیں ہے سو بے چینی کہیں بھی کم نہیں ہے تمہارے دل میں کیا ہے کچھ تو بولو تمہارا کچھ نہیں بھی کم نہیں ہے نہیں جھکتا کسی کے خوف سے دل یہ ننھی سی جبیں بھی کم نہیں ہے مشام جاں معطر اور دل بھی تری خوشبو کہیں بھی کم نہیں ہے اگرچہ بے یقینی بھی ہے تھوڑی اسے مجھ پر ...

مزید پڑھیے

کیا ہے قسمت میں قلب مائل کی

کیا ہے قسمت میں قلب مائل کی حد نہیں رنج کے وسائل کی دست بردار ہے مسیحائی دیکھ حالت اب اپنے گھائل کی وہ کہ ہر مسئلے کا میرے حل میں کہ جڑ اس کے سب مسائل کی کتنا پھیلا ہے زہر وحشت کا کتنی تاثیر ہم نے زائل کی کاسۂ عشق میں وفا کی بھیک اور کیا آرزو تھی سائل کی ان کی ضد کا تھا سامنا ...

مزید پڑھیے

چشم تر کو زبان کر بیٹھے

چشم تر کو زبان کر بیٹھے حال دل کا بیان کر بیٹھے تم نے رسماً مجھے سلام کیا لوگ کیا کیا گمان کر بیٹھے ایک پل بھی کہاں سکون ملا آپ کو جب سے جان کر بیٹھے پستیوں میں کبھی گرا ڈالا اور کبھی آسمان کر بیٹھے آس کی شمع ٹمٹماتی رہی ہم کہاں ہار مان کر بیٹھے ایک پل کا یقیں نہیں راغبؔ اک ...

مزید پڑھیے

چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل

چاہتوں کا سلسلہ ہے مستقل سبز موسم کرب کا ہے مستقل کیا بتاؤں دل میں کس کی یاد کا ایک کانٹا چبھ رہا ہے مستقل بڑھ رہا ہے مستقل قحط شجر زہر آلودہ فضا ہے مستقل راہ الفت میں کہاں آسانیاں پر خطر یہ راستہ ہے مستقل آ گئی ہے فصل آزادی مگر خوف کا پودا ہرا ہے مستقل دشمنی کے سب دریچے بند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3792 سے 6203