قومی زبان

غم و نشاط عجب تھا کہ سب فضا چپ تھی

غم و نشاط عجب تھا کہ سب فضا چپ تھی محبتوں کا شجر خشک تھا صبا چپ تھی عذاب جھیل رہا تھا کئی بلاؤں کے لبوں پہ ماں کے گزشتہ دنوں دعا چپ تھی بجھا دیا تھا چراغوں کو گھر کے بوڑھوں نے عجیب شہر میں وحشت تھی ہر صدا چپ تھی شکم کی آگ نے جھلسا دیا تھا جسم و جمال ہر ایک شخص پہ تھی بے حسی انا چپ ...

مزید پڑھیے

آسیب کا وحشت کے آنکھوں پہ اجارا ہے

آسیب کا وحشت کے آنکھوں پہ اجارا ہے تاریک مناظر ہیں جگنو ہے نہ تارا ہے کیا رت ہے کوئی پنچھی شاخوں پہ نہیں آتا ساکت ہیں شجر سارے بے رنگ نظارا ہے جب شہر میں آیا ہے مجھ سے بھی ملے گا وہ اس آس میں خود کو بھی گھر کو بھی سنوارا ہے کچھ اشک اداسی کے ہم راہ مسافر ہیں دریا میں تغافل کے چاہت ...

مزید پڑھیے

اساس تک پہنچ گئیں حواس تک پہنچ گئیں

اساس تک پہنچ گئیں حواس تک پہنچ گئیں نصیب کی سیاہیاں لباس تک پہنچ گئیں بس ایک سرد آہ سے لبوں پہ نیل پڑ گئے ہماری نارسائیاں ہراس تک پہنچ گئیں پھر آئے دن کی دشمنی محبتوں میں ڈھل گئی کہ گھٹتی گھٹتی تلخیاں مٹھاس تک پہنچ گئیں یہ عشق اور مشک بھی چھپائے کب چھپے بھلا نکل کے سب کہانیاں ...

مزید پڑھیے

کون ہے میرا خریدار نہیں دیکھتا میں

کون ہے میرا خریدار نہیں دیکھتا میں دھوپ میں سایۂ دیوار نہیں دیکھتا میں خواب پلکوں پہ چلے آتے ہیں آنسو بن کر اس لئے تجھ کو لگاتار نہیں دیکھتا میں تیرا اس بار مجھے دیکھنا بنتا ہے دوست اتنی امید سے ہر بار نہیں دیکھتا میں کب تلک تجھ کو یوں ہی دیکھتے رہنا ہوگا زندگی جا تجھے اس بار ...

مزید پڑھیے

کبھی تو چشم فلک میں حیا دکھائی دے

کبھی تو چشم فلک میں حیا دکھائی دے کہ دھوپ سر سے ہٹے اور گھٹا دکھائی دے میں اقتباس اذیت ہوں لوح دنیا پر سو مجھ میں غم کے سوا اور کیا دکھائی میں چاہتا ہوں کہ میرے لئے مرے مولیٰ لب عدو پہ بھی حرف دعا دکھائی دے چراغ بن کے سدا اس لئے جلے ہم لوگ ہماری ضد تھی کہ ہم کو ہوا دکھائی ...

مزید پڑھیے

جدا ہو کر سمندر سے کنارا کیا بنے گا

جدا ہو کر سمندر سے کنارا کیا بنے گا نہیں سوچا ہے اب تک وہ ہمارا کیا بنے گا مجھے یہ ایک عرصے سے زمیں سمجھا رہی ہے فلک سے ٹوٹ کر میرا ستارا کیا بنے گا میں ایسا لفظ ہوں جس کا کوئی مطلب نہیں ہے خدا ہی جانے میرا استعارا کیا بنے گا مصور اس لئے تم کو بنانا چاہتا ہے اسے معلوم ہے تم بن ...

مزید پڑھیے

جو چلا آتا ہے خوابوں کی طرف داری کو

جو چلا آتا ہے خوابوں کی طرف داری کو اس نے دیکھا ہی نہیں عالم بے زاری کو پیرہن چاک نہ ہو جائے مرے خوابوں کا کوئی تبدیل کرے رسم عزاداری کو چارہ گر جب تجھے احساس نہیں ہے تو پھر کون سمجھے بھلا بیمار کی بیماری کو میں نے سوچا تھا جو بکنے سے بچا لیں گے مجھے دوڑ کر آئے وہی میری خریداری ...

مزید پڑھیے

در امید مقفل نہیں ہوا اب تک

در امید مقفل نہیں ہوا اب تک میں تیرے ہجر میں پاگل نہیں ہوا اب تک تمام عمر خوشی ساتھ دے نہیں پائی نزول غم بھی مسلسل نہیں ہوا اب تک ترے بغیر جو اک مسئلہ بنا ہوا تھا تو مل گیا بھی تو وہ حل نہیں ہوا اب تک میں اس کو بھول چکا ہوں عجیب بات ہے یہ جو چہرہ آنکھ سے اوجھل نہیں ہوا اب ...

مزید پڑھیے

جیسا سوچو ویسا مطلب ہوتا ہے

جیسا سوچو ویسا مطلب ہوتا ہے ہلکی بات کا گہرا مطلب ہوتا ہے چہرہ پڑھ کر دیکھو گے تو جانو گے خاموشی کا کیا کیا مطلب ہوتا ہے ہجرت کو تم نقل مکانی کہتے ہو ہجرت کا مر جانا مطلب ہوتا ہے اپنی بات مکمل کر کے جاؤ تم آدھی بات کا الٹا مطلب ہوتا ہے شہزادی ہے دنیا مطلب والی یہ سب کا اپنا ...

مزید پڑھیے

سمجھنے والا مرا مرتبہ سمجھتا ہے

سمجھنے والا مرا مرتبہ سمجھتا ہے سو فرق پڑتا نہیں کون کیا سمجھتا ہے یہ تیری چارہ گری میری جان لے لے گی نہ تو مجھے نہ مرا مسئلہ سمجھتا ہے میں اپنی موت کو اب زندگی سمجھتا ہوں میں کیوں سمجھتا ہوں میرا خدا سمجھتا ہے میں اب کہانی سے باہر نکلنا چاہتا ہوں کہانی کار مرا مدعا سمجھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 3775 سے 6203