دو تصویریں
وہ چھتری کی طرح کھل کر ملی ہے گلی میں آج بارش پھر رہی ہے میں اس کی دھوپ میں بیٹھا ہوا ہوں یہ اس کے ساتھ پہلی جنوری ہے
وہ چھتری کی طرح کھل کر ملی ہے گلی میں آج بارش پھر رہی ہے میں اس کی دھوپ میں بیٹھا ہوا ہوں یہ اس کے ساتھ پہلی جنوری ہے
وہ الٹی شلوار پہن کر لوگوں سے یہ کہتا ہے سرکار بھی الٹی ہے شلوار بھی الٹی ہے
وطن کی دھرتی سے دور جب وطن کے مارے برہنہ تن اور تہی شکم کی طلب کی شدت سے ہو کے مجبور جلتے صحرا کی وسعتوں میں مقید نار ہو گئے ہیں نہ طوق آہن نہ بیڑیاں ہیں نہ ہے سلاسل کا بوجھ تن پر جھلستے صحرا کی وسعتوں میں سروں پہ سورج کی چھتریاں ہیں بدن سے آب مشقت بے سکوں کی نہریں رواں دواں ہیں
بحث تو اپنی ہے ہی نہیں طاقت والوں سے سارے دعوے ان کے الگ ہیں اپنی دلیلیں الگ سی ہیں وہ کہتے ہیں ان کا قہر قیامت بن کر کڑکے گا ہم کہتے ہیں موت کا کھیل ہمیں جی جان سے پیارا ہے اور اس کھیل کے ہوتے ہوئے بستی میں اجیارا ہے
خدا گواہ دل اک لمحہ بھی نہیں غافل تمہاری یاد بھی باقی ہے دکھ بھی باقی ہے وہ شام غم بھی اسی طرح دل پہ قائم ہے وہ روز سخت بھی سینے میں درد بن کر ہے جب ایک حملۂ دل تم پہ ظلم کرتا تھا عظیم شہر کے مرکز میں اک اداس سا گھر علاج سے محروم تمہارے دکھ میں تڑپنے کو دیکھ کر چپ تھا تو سارے شاہی ...
شہرت اور عزت کے زینے پر چڑھتے فن کار کا سایہ ذلت کے پاتال میں اترا جاتا ہے روتے شہروں دیہاتوں کو چھوڑ کے چوروں کی منڈلی سے مل کر اتراتے بل کھاتے ہو کبھی ذرا تاریخ کا آئینہ بھی دیکھو دیکھو تو کیا شرماتے ہو
طاقت ساری آپ کے بس میں ساری ذہانت آپ کی ہے ہم مجبور نہتے سارے پھر بھی ہمارے ساتھ ہیں سب تاریخ کے دھارے شب کے سب اسرار تمہارے صبح کا نور ہمارا ہے گم رستوں پر خون کے چھینٹے راہ دکھاتے تارے ہیں
روبرو بت کے دعا کی بھول ہو جائے تو پھر اور پھر وہ ہی دعا مقبول ہو جائے تو پھر میں بڑھاؤں ہاتھ جس کانٹے کی جانب شوق سے ہاتھ میں آ کر وہ کانٹا پھول ہو جائے تو پھر بادبانوں پر ہوا ہو مہرباں اور دفعتاً ٹکڑے ٹکڑے ناؤ کا مستول ہو جائے تو پھر نفرتیں بے زاریاں بغض و تعصب دشمنی زندگی کا ...
مرے چاروں طرف ایک آہنی دیوار کیوں ہے اگر سچا ہوں میں سچ کا مقدر ہار کیوں ہے نشاط و انبساط و شادمانی زیست ٹھہری تو بتلائے کوئی جینا مجھے آزار کیوں ہے مسافت زندگی ہے اور دنیا اک سرائے تو اس تمثیل میں طوفان کا کردار کیوں ہے جہاں سچ کی پذیرائی کے دعویدار ہیں سب اسی بزم سخن میں ...
میرے چاروں طرف دائرہ دائرہ اک فسوں حیات طرح دار ہے زندگی گامزن ہے اسی نہج پر سچ کی ترویج میں اور لٹکی ہوئی سر پہ تلوار ہے