قومی زبان

سال گرہ

یاد نہیں کیا بھرے پرے بازار سے جب میں خالی خالی لوٹ آیا تھا اور اک پھول تیرے چمکتے ہاتھ پہ رکھ کر میں نے کہا تھا تیری پسند کے رنگ کا کپڑا مل نہ سکے تو میرے کوٹ کی جیب میں رکھے نوٹ کی قیمت گر جاتی ہے

مزید پڑھیے

قصہ خوانی

سن کے بھی چپ ہی رہا تلخ باتیں مشک بار افغانی قہوے کے رسیلے گھونٹ میں گھل مل گئیں یہ حقیقت اور تھی کہ باپ دادا قصہ گو مشہور تھے اس لیے وہ چپ رہا تاریخ کے نقشے میں جن شہروں کی شہرت گونجتی ہے وہ خموشی کے اس ازلی رنگ سے ظاہر ہوئے جس سے شناسائی نہیں ہے اس ہجوم شور و شر کی اس نے سوچا یاد ...

مزید پڑھیے

یاد

کسی برباد علاقے سے نکلی ایک گلی ہے جس میں ہر شے اپنی موت کے بعد آتی ہے

مزید پڑھیے

قیدی

پھول تھے اور قہر خوشبو کا خوف کے گھنگھرو چھن سے بجنے لگے چاندنی کو فروغ تھا اتنا رات بھر اس طلسم کا فتنہ سر اٹھاتا رہا مرے اندر سحر میں قید آرزو میں گم سب کے سب ہم سب کے سب تم جان جوکھوں میں ڈال کر نکلے اک کشادہ مکان کی چھت پر نرگسی چہرے بال کھولے ہوئے ماتمی سر میں گیت گاتے ...

مزید پڑھیے

ایک بوڑھی عورت کا جنم دن

اک ٹھٹھرتی صبح ہے ڈاک خانے کی گلی میں زرد پتے اڑ رہے ہیں کپکپاتی انگلیوں سے لکھا ایڈریس ہر کوئی پڑھ لیتا ہے دوپہر کے باغ میں داؤدی پھولوں اور اس کے درمیاں نوجوانی کے دنوں کی ایک یاد دیر تک ہنستی رہی سہ پہر ہے اور وہ کونے والی شاپ سے اک غبارہ لے رہی ہے لفظ ہونٹوں سے اڑانیں بھر رہے ...

مزید پڑھیے

مقدر

چڑیا نے تو سوچی تھی اک اونچی پرواز لیکن ظالم باز

مزید پڑھیے

باغوں میں آئے گی کب بہار

نوحے لکھتے لکھتے یہ دل تھک جاتا ہے بکھرے ہوئے ہیں سب دل والے ہم متوالے تنہا ہیں روشنیوں کے بیٹے تاریکی میں آ کر چمکیں ہم راہوں میں تیار ملیں گے جو یلغار یہاں بھی ہوگی ہم اپنے خوں کے فواروں کو عام کریں گے ایک چراغاں کوچۂ رسوائی میں اک بالائے بام کریں گے ان روزوں میں یہ دل تھک کر سو ...

مزید پڑھیے

جلا وطن کی واپسی

زمین کا وجود میرے انتظار میں تھا میری صدا کو روشنی کی شناخت کے لیے سنا گیا جو ازلی پانیوں سے فوارے کی طرح پھیل رہی تھی میں تیز تیز آبشار کی طرح زمین کے منہ میں گر رہا تھا زمین کا منہ گلاب کے پھول کی طرح ہوا میں وا ہو رہا تھا پہلی بار جب میں آسمان سے گرا تھا زمین نے میری آواز کو ...

مزید پڑھیے

واپسی کی خواہش

وہ برفانی رات بادام اخروٹ اور ستو سرما کا شہد اور ساگ کی خوشبو اور اک لوک کہانی میں گم آگ کے گرد میں اور تم آؤ چلیں چرخے کی آواز میں ڈوبی اس بستی میں شام جہاں پر ایسے اترے جیسے کسی بیمار بدن میں جیون رس برف کی رت کا پہلا دن کتنا سفید اور آزردہ ہے دریا اپنی مجبوری کا گدلا پانی اور ...

مزید پڑھیے

الٹی گنگا

وہ الٹی شلوار پہن کر لوگوں سے یہ کہتا ہے سرکار بھی الٹی ہے شلوار بھی الٹی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 362 سے 6203