قومی زبان

یہ دنیا دور تک کا سلسلہ نئیں

یہ دنیا دور تک کا سلسلہ نئیں ہمیں اس کے لئے کچھ سوچنا نئیں یہ پتلا اس قدر مغرور کیوں ہے تو کیا یہ آسمانوں سے گرا نئیں بہت پہلے یہ دن آنے سے پہلے جو ہونا تھا ابھی تک بھی ہوا نئیں سبھی حق فیصلے کے منتظر ہیں کسی نے خون کا بدلہ لیا نئیں ابھی سورج میں تھوڑی روشنی ہے زمیں کا رنگ بھی ...

مزید پڑھیے

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے

کوئی پوچھے مرے مہتاب سے میرے ستاروں سے چھلکتا کیوں نہیں سیلاب میں پانی کناروں سے مکمل ہو تو سچائی کہاں تقسیم ہوتی ہے یہ کہنا ہے محبت کے وفا کے حصہ داروں سے ٹھہر جائے در و دیوار پر جب تیسرا موسم نہیں کچھ فرق پڑتا پھر خزاؤں سے بہاروں سے بگولے آگ کے رقصاں رہے تا دیر ساحل پر سمندر ...

مزید پڑھیے

کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گا

کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گا پوری بات اور پورا قصہ کون لکھے گا دن اور رات کے آدھے آدھے بٹوارے میں کتنا کم تھا کس کا حصہ کون لکھے گا کن ہاتھوں نے کیسے کیسے پتھر کاٹے کیسے دن کا بوجھ اٹھایا کون لکھے گا کتنی دیر کو ہریالی نے آنکھیں کھولیں کتنی دیر کو بادل برسا کون لکھے ...

مزید پڑھیے

تعلق کے بہاؤ کا مقدم استعارہ کس جگہ ہے

تعلق کے بہاؤ کا مقدم استعارہ کس جگہ ہے مرے گہرے سمندر تیری وحشت کا کنارہ کس جگہ ہے بتا اے روز و شب کی بے ثباتی میں توازن رکھنے والے جسے کل ٹوٹنا ہے آج وہ روشن ستارہ کس جگہ ہے بتا سرسبز کھیتوں سے گزرنے والے بے آواز دریا اچانک پیچ کھا کر رخ بدلنے کا اشارہ کس جگہ ہے بشارت جس کے ...

مزید پڑھیے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے ایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتے اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے پاس آ جائیں تو بے نوری مقدر ٹھہرے دور بھی اتنے ستارے نہیں اچھے ...

مزید پڑھیے

جاگتے سوتے ہوئے لکھتے ہیں

جاگتے سوتے ہوئے لکھتے ہیں شعر ہم روتے ہوئے لکھتے ہیں جب بھی لکھتے ہیں مکمل خود کو کہیں کم ہوتے ہوئے لکھتے ہیں صبح سے شام تلک بھاگتے ہیں زندگی ڈھوتے ہوئے لکھتے ہیں کبھی اڑتے ہیں ستاروں کی طرف ان میں گم ہوتے ہوئے لکھتے ہیں خود بخود سونا اگلتی ہے زمین ہم تو دکھ بوتے ہوئے لکھتے ...

مزید پڑھیے

مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت

مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت یہ چراغ جلنے لگا ہے اس کو بجھاؤ مت مجھے جاگنا ہے تمام عمر اسی طرح مجھے صبح و شام کے سلسلے میں ملاؤ مت مجھے علم ہے مرے خال و خد میں کمی ہے کیا مجھے آئنے کا طلسم کوئی دکھاؤ مت میں خلوص دل کی بلندیوں کے سفر پہ ہوں مجھے داستان فریب کوئی سناؤ مت مجھے ...

مزید پڑھیے

راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوں

راستے کی سمت اکثر دیکھتے رہتے ہیں کیوں خاک اپنے فیصلوں کی چھانتے رہتے ہیں کیوں کیوں جلا رکھتے ہیں ہم اپنے تجسس کا دیا جس کو پا لیتے ہیں اس کو ڈھونڈتے رہتے ہیں کیوں ہم مہک کے استعارے کو بدلتے کیوں نہیں تحفۂ خوشبو گلوں سے مانگتے رہتے ہیں کیوں تجربہ ہم توڑنے کا کیوں اسے کرتے ...

مزید پڑھیے

رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہے

رسائی کا قرینہ آنکھ میں ہے زہے قسمت مدینہ آنکھ میں ہے میں تیرے شہر کی جانب رواں ہوں سر دریا سفینہ آنکھ میں ہے ترے دست رسا میں باب رحمت شفاعت کا خزینہ آنکھ میں ہے نہ چٹخے دیکھنا یہ تشنگی سے طلب کا آبگینہ آنکھ میں ہے جلا دے اس کو اپنی روشنی سے دعاؤں کا نگینہ آنکھ میں ہے

مزید پڑھیے

سبک ہوتی ہوا سے تیز چلنا چاہتی ہوں

سبک ہوتی ہوا سے تیز چلنا چاہتی ہوں میں اک جلتے دیے کے ساتھ جلنا چاہتی ہوں غبار بے یقینی نے مجھے روکا ہوا ہے زمیں سے پھوٹ کر باہر نکلنا چاہتی ہوں میں خود سہمی ہوئی ہوں آئنے کے ٹوٹنے سے بہت آہستہ سطح دل پہ چلنا چاہتی ہوں نمود صبح سے پہلے کا لمحہ دیکھنے کو اندھیری رات کے پیکر میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 337 سے 6203