سنگم
پریاگ میں ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا پگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا وہ ہیرا ان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا ان کی روانیاں ہیں شان خدائے یکتا سنگم کی سیڑھیوں پر موتی لڑھک رہا ہے
پریاگ میں ملی ہے جمنا سے آ کے گنگا پگھلا ہوا یہ نیلم بہتا ہوا وہ ہیرا ان کی جدائیوں نے کھینچا ہے نقش جوزا ان کی روانیاں ہیں شان خدائے یکتا سنگم کی سیڑھیوں پر موتی لڑھک رہا ہے
بارہا دیکھا ہے تو نے آسماں کا انقلاب کھول آنکھ اور دیکھ اب ہندوستاں کا انقلاب مغرب و مشرق نظر آنے لگے زیر و زبر انقلاب ہند ہے سارے جہاں کا انقلاب کر رہا ہے قصر آزادی کی بنیاد استوار فطرت طفل و زن و پیر و جواں کا انقلاب صبر والے چھا رہے ہیں جبر کی اقلیم پر ہو گیا فرسودہ شمشیر و سناں ...
اے نکتہ وران سخن آرا و سخن سنج اے نغمہ گران چمنستان معافی مانا کہ دل افروز ہے افسانۂ عذرا مانا کہ دل آویز ہے سلمیٰ کی کہانی مانا کہ اگر چھیڑ حسینوں سے چلی جائے کٹ جائے گا اس مشغلے میں عہد جوانی گرمائے گا یہ ہمہمہ افسردہ دلوں کو بڑھ جائے گی دریائے طبیعت کی روانی مانا کہ ہیں آپ ...
ہے کل کی ابھی بات کہ تھے ہند کے سرتاج دیتے تھے تمہیں آ کے سلاطین زمن باج کیا رنگ زمانے نے یہ بدلا ہے کہ تم کو دنیا کی ہر اک قوم سمجھتی ہے ذلیل آج دامان نگہ جس کی فضا کے لئے تھا تنگ وہ باغ ہوا دیکھتے ہی دیکھتے تاراج جب تک رہے تم دست نگر اپنے خدا کے ہونے نہ دیا اس نے تمہیں غیر کا ...
جب بھی ماضی کے نظارے کو نظر جائے گی شام اشکوں کے ستاروں سے سنور جائے گی کیا بتاؤں کہ کہاں تک یہ نظر جائے گی ایک دن حد تعین سے گزر جائے گی جب بھی اس کے رخ روشن کا خیال آئے گا چاندنی دل کے شبستاں میں اتر جائے گی ہر ستم کرنے سے پہلے یہ ذرا سوچ بھی لے میں جو بکھرا تو تری زلف بکھر جائے ...
کرشن آئے کہ دیں بھر بھر کے وحدت کے خمستاں سے شراب معرفت کا روح پرور جام ہندو کو کرشن آئے اور اس باطل ربا مقصد کے ساتھ آئے کہ دنیا بت پرستی کا نہ دے الزام ہندو کو کرشن آئے کہ تلواروں کی جھنکاروں میں دے جائیں حیات جاوداں کا سرمدی انعام ہندو کو اگر خوف خدا دل میں ہے پھر کیوں موت کا ڈر ...
وزیر چند نے پوچھا ظفر علی خاں سے شری کرشن سے کیا تم کو بھی ارادت ہے کہا یہ اس نے وہ تھے اپنے وقت کے ہادی اسی لیے ادب ان کا مری سعادت ہے فساد سے انہیں نفرت تھی جو ہے مجھ کو بھی اور اس پہ دے رہی فطرت مری شہادت ہے ہے اس وطن میں اک ایسا گروہ بھی موجود شری کرشن کی جو کر رہا عبادت ہے مگر ...
پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطف عام اس کا گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی دوئی کے نقش سب جھوٹے ہیں سچا ایک نام اس کا ہر اک ذرہ فضا کا داستان اس کی سناتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا میں اس کو کعبہ و بت خانہ میں ...
ناقوس سے غرض ہے نہ مطلب اذاں سے ہے مجھ کو اگر ہے عشق تو ہندوستاں سے ہے تہذیب ہند کا نہیں چشمہ اگر ازل یہ موج رنگ رنگ پھر آئی کہاں سے ہے ذرے میں گر تڑپ ہے تو اس ارض پاک سے سورج میں روشنی ہے تو اس آسماں سے ہے ہے اس کے دم سے گرمئی ہنگامۂ جہاں مغرب کی ساری رونق اسی اک دکاں سے ہے
محبت کی بلندی سے کبھی اترا نہیں جاتا ترا در چھوڑ کے مجھ سے کہیں جایا نہیں جاتا میں اپنی داستان غم سنا دیتا تجھے لیکن ترا اترا ہوا چہرہ مجھے دیکھا نہیں جاتا بزرگوں کی دعائیں بھی سفر میں ساتھ ہوتی ہیں بگاڑے گا کوئی کیا میں کہیں تنہا نہیں جاتا غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ...