قومی زبان

غم اتنے اپنے دامن دل سے لپٹ گئے

غم اتنے اپنے دامن دل سے لپٹ گئے تجھ سے بچھڑ کے ہم کئی قسطوں میں بٹ گئے کیوں یہ دیار میرے لیے تنگ سا لگا کیا بات ہے کہ دامن صحرا سمٹ گئے اس سے کہیں بھی نام تمہارا نہیں ملا ہم ہر ورق کتاب وفا کے پلٹ گئے تم غیر سے نبھاؤ وفا ہم کو بھول کر جاؤ تمہاری راہ سے ہم آج ہٹ گئے اب جھیلنا پڑے ...

مزید پڑھیے

حالت بیمار غم پر جس کو حیرانی نہیں

حالت بیمار غم پر جس کو حیرانی نہیں اصل میں اس آدمی میں خوئے انسانی نہیں ایسی بے دردی سے اس کو مت بہاؤ خاک پر خون انساں خون انساں ہے کوئی پانی نہیں روح کا رشتہ کبھی کیا توڑ پائی ہے قضا زندگی فانی ہے لیکن روح تو فانی نہیں جس کی خوشبو سے معطر رات بھر رہتا تھا میں میرے گھر کے پاس اب ...

مزید پڑھیے

آپ کی مجھ پہ جب بھی نوازش ہوئی

آپ کی مجھ پہ جب بھی نوازش ہوئی مجھ پہ سنگ ملامت کی بارش ہوئی زندگی بھر رہے گی مجھے یاد وہ عشق میں جو مری آزمائش ہوئی میرا بچپن مجھے یاد آنے لگا تتلیوں کی جہاں بھی نمائش ہوئی میرے دامن پہ کیچڑ اچھلتا نہیں کیا خبر کیا رقیبوں میں سازش ہوئی جھوٹ تو جھوٹ تھا جھوٹ ہی وہ رہا بارہا سچ ...

مزید پڑھیے

ہر اک شے اشتہاری ہو گئی ہے

ہر اک شے اشتہاری ہو گئی ہے یہ دنیا کاروباری ہو گئی ہے مرے دل میں جو تھی وہ بات اب تو مرے ہونٹوں پہ جاری ہو گئی ہے ستم جھیلے ہیں اتنے آگہی کے عجب حالت ہماری ہو گئی ہے تری یادوں کے صدقے وجہ راحت شب اختر شماری ہو گئی ہے کئی دن سے یہ کیسی بے خودی سی دل مضطر پہ طاری ہو گئی ہے یہ ممکن ...

مزید پڑھیے

ان کی نظروں میں نہ بن جائے تماشہ چہرہ

ان کی نظروں میں نہ بن جائے تماشہ چہرہ اس لیے ڈرتا ہوں دکھلانے سے اپنا چہرہ جانے کیا بات ہوئی شہر نگار جاں میں آج کیوں اجنبی لگتا ہے شناسا چہرہ بحر غم بھی ہے کبھی عاشق خستہ کے لیے ہے کبھی ساحل عشرت بھی تمہارا چہرہ ہم وہاں ہیں جہاں قائم ہے حکومت دل کی پھر بھی کیوں روز دکھاتا ہے ...

مزید پڑھیے

یہ دشت شوق کا لمبا سفر اچھا نہیں لگتا

یہ دشت شوق کا لمبا سفر اچھا نہیں لگتا مگر ٹھہروں کہاں کوئی شجر اچھا نہیں لگتا یہی اک بات اب میں سوچتا رہتا ہوں خلوت میں نہ جانے کیوں مجھے اب تیرا در اچھا نہیں لگتا کرم کرتے نہیں کیوں تم مرے قلب شکستہ پر مرا یوں غم زدہ رہنا اگر اچھا نہیں لگتا نگاہوں سے جو اوجھل اس گل رعنا کا ...

مزید پڑھیے

ترے قریب رہوں یا کہ میں سفر میں رہوں

ترے قریب رہوں یا کہ میں سفر میں رہوں یہ آرزو ہے ترے حلقۂ اثر میں رہوں شفق شفق مجھے دیکھے نگاہ حسن شعور نقیب‌ مہر بنوں نغمۂ سحر میں رہوں یقیں کی چھاؤں میں تجھ کو جو نیند آ جائے میں تیرے خواب کی صورت تری نظر میں رہوں جمال شاہد معنی پہ جب نکھار آئے خیال حسن بنوں اور شعر تر میں ...

مزید پڑھیے

یہ جو تیری آنکھوں میں معنیٔ وفا سا ہے

یہ جو تیری آنکھوں میں معنیٔ وفا سا ہے کاسۂ تمنا کے حرف مدعا سا ہے میرے خون کی سرخی سرخیٔ وفا ٹھہری جس سے روئے قاتل بھی سرخ رو بنا سا ہے قتل گاہ ارماں ہے جس کی محفل عشرت وہ نگار فتنہ زا پیکر وفا سا ہے جب سے مجھ کو حاصل ہے تیرے قرب کی دولت نقش سنگ پائندہ مجھ پہ آئنہ سا ہے لفظ اور ...

مزید پڑھیے

محبت پہ شاید زوال آ رہا ہے

محبت پہ شاید زوال آ رہا ہے کہ اب زندگی کا سوال آ رہا ہے فضا مہکی مہکی ہے صحن چمن کی جو آج اک یہاں گل مثال آ رہا ہے کروں کس طرح ان سے ترک تعلق مجھے ان کے دل کا خیال آ رہا ہے یہ کس کے تصور میں اے جان ارماں تجھے بھی سر بزم حال آ رہا ہے گزر سا گیا سانحہ کیا چمن میں گلوں پر جو رنگ ملال آ ...

مزید پڑھیے

ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی

ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی خیال و خواب میں پھولی پھلی ہے تنہائی ترے خیال ترے ہجر کے وسیلے سے تصورات میں ہم سے ملی ہے تنہائی جمال یار میں کھویا ہوا ہے سناٹا خیال یار میں ڈوبی ہوئی ہے تنہائی کسی کے شوخ بدن کی ضرورتوں کی طرح تمام رات سلگتی رہی ہے تنہائی تمہاری زلف معنبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 311 سے 6203