چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا
چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا ہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیا میں تھا باغی خشک قطرہ بادلوں کے دیس کا سنگ دل لمحوں سے ٹکرایا تو جل تھل ہو گیا ہاں اتر آتی ہیں اس وادی میں پریاں چاند کی کہتے ہیں اک اجنبی سیاح پاگل ہو گیا رس بھری برسات میں کھلنے لگا دھرتی کا روپ جسم کا ...