قومی زبان

چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا

چل پڑے ہم دشت بے سایہ بھی جنگل ہو گیا ہم سفر جب مل گئے جنگل میں منگل ہو گیا میں تھا باغی خشک قطرہ بادلوں کے دیس کا سنگ دل لمحوں سے ٹکرایا تو جل تھل ہو گیا ہاں اتر آتی ہیں اس وادی میں پریاں چاند کی کہتے ہیں اک اجنبی سیاح پاگل ہو گیا رس بھری برسات میں کھلنے لگا دھرتی کا روپ جسم کا ...

مزید پڑھیے

آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے

آندھی ہے تیز دھول سے گھر اور اٹ نہ جائے ٹوٹے کواڑ بند کرو دم الٹ نہ جائے بے سمت زندگی کا سفر بن کی رات ہے ناگن سا وقت ڈس کے اچانک پلٹ نہ جائے اجڑا ہوا مکان ہے دستک نہ دیجیے سایہ کوئی کہیں سے نکل کر لپٹ نہ جائے چھوٹا سا گھر سہی اسے رکھیے سنبھال کے ملکوں کی قسمتوں کی طرح یہ بھی بٹ ...

مزید پڑھیے

خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ

خواب رنگوں سے بنی ہے یاد تازہ دھوپ لکھ لائی مبارک یاد تازہ پھر بہا لے جائے گا لاوا لہو کا سنگ دل پر گھر کی رکھ بنیاد تازہ آب تازہ خنجر خاموش کو دے ہے بریدہ لب پہ اک فریاد تازہ بے ستونی پھر اٹھائے سنگ سر ہے چاہتی ہے جوئے خوں فرہاد تازہ بے چراغاں بستیوں کو زندگی دے اک ستم ایسا ...

مزید پڑھیے

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں

کیوں میں حائل ہو جاتا ہوں اپنی ہی تنہائی میں ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں فطرت نے عطا کی ہے بے شک مجھ کو بھی کچھ عقل سلیم کون خلل انداز ہوا ہے میری ہر دانائی میں جھوٹ کی نمکینی سے باتوں میں آ جاتا ہے مزا کوئی نہیں لیتا دلچسپی پھیکی سی سچائی میں اپنے تھے بیگانے تھے ...

مزید پڑھیے

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا

تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب پینے کو تو اک بوند بھی پانی نہیں ملتا دنیا کے کرشموں میں معمہ تو یہی ہے دنیا کے کرشمات کا بانی نہیں ملتا میرا بھی تو اک دوست تھا غم بانٹنے والا اب دشت بلا میں وہی جانی ...

مزید پڑھیے

میرے نازک سوال میں اترو

میرے نازک سوال میں اترو ایک حرف جمال میں اترو نقش بندی مجھے بھی آتی ہے کوئی صورت خیال میں اترو پھینک دو دور آج سورج کو خود ہی اب ماہ و سال میں اترو خوب چمکو گی آؤ شمشیرو میرے زخموں کے جال میں اترو کچھ تو لطف تضاد آئے گا میرے غار زوال میں اترو خواہ پت جھڑ کی ہی ہوا بن کر پیڑ کی ...

مزید پڑھیے

جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا

جب بھی وہ مجھ سے ملا رونے لگا اور جب تنہا ہوا رونے لگا دوستوں نے ہنس کے جب بھی بات کی وہ ہنسا پھر چپ رہا رونے لگا جب بھی میرے پاؤں میں کانٹا چبھا پتہ پتہ باغ کا رونے لگا آبیاری کے لیے آیا تھا کون ہر شجر مرجھا گیا رونے لگا چاند نکلا جب محرم کا کہیں چپ سے دشت کربلا رونے لگا اس پہ ...

مزید پڑھیے

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں

میں زندگی کا نقشہ ترتیب دے رہا ہوں پھر اک جدید خاکہ ترتیب دے رہا ہوں ہر ساز کا ترنم یکسانیت نما ہے اک تازہ کار نغمہ ترتیب دے رہا ہوں جس میں تری تجلی خود آ کے جا گزیں ہو دل میں اک ایسا گوشہ ترتیب دے رہا ہوں لمحوں کے سلسلے میں جیتا رہا ہوں لیکن میں اپنا خاص لمحہ ترتیب دے رہا ...

مزید پڑھیے

بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئے

بڑھے کچھ اور کسی التجا سے کم نہ ہوئے مرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئے سیاہ رات میں دل کے مہیب سناٹے خروش نغمۂ شعلہ نوا سے کم نہ ہوئے وطن کو چھوڑ کے ہجرت بھی کس کو راس آئی مسائل ان کے وہاں بھی ذرا سے کم نہ ہوئے فراز خلق سے اپنا لہو بھی برسایا غبار پھر بھی دلوں کی فضا سے کم نہ ...

مزید پڑھیے

نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا

نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا کہ جیسے شب کا اندھیرا سحر پہ ڈال دیا سماعتیں ہوئیں پر شوق حادثوں کے لیے ذرا سا رنگ بیاں جب خبر پہ ڈال دیا تمام اس نے محاسن میں عیب ڈھونڈ لیے جو بار نقد و نظر دیدہ ور پہ ڈال دیا اب اس کو نفع کہیں یا خسارۂ الفت جو داغ اس نے دل معتبر پہ ڈال دیا قریب و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 302 سے 6203