قومی زبان

ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے

ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے مرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہے اسے موقع ملے تو پائی پائی چھین لیتا ہے یہاں بھائی کی خوشیاں اس کا بھائی چھین لیتا ہے بھلا فرصت کسے ہے جو یہاں رشتوں کو پہچانے یہ دور خود فریبی آشنائی چھین لیتا ہے جہالت میں وہ کامل ہے معلم بن گیا ...

مزید پڑھیے

ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑا

ایسے لمحے پر ہمیں قربان ہو جانا پڑا ایک ہی لغزش میں جب انسان ہو جانا پڑا بے نیازانہ گزرنے پر اٹھیں جب انگلیاں مجھ کو اپنے عہد کی پہچان ہو جانا پڑا زندگی جب نا شناسی کی سزا بنتی گئی رابطوں کی خود مجھے میزان ہو جانا پڑا ریزہ ریزہ اپنا پیکر اک نئی ترتیب میں کینوس پر دیکھ کر حیران ...

مزید پڑھیے

ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنا

ہر غزل ہر شعر اپنا استعارہ آشنا فصل گل میں جیسے شاخ گل شرارا آشنا خون تھوکا دل جلایا نقد جاں قربان کی شہر فن میں میں رہا کتنا خسارا آشنا کہہ گیا اپنی نظر سے ان کہے قصے بھی وہ بزم حرف و صوت میں جو تھا اشارا آشنا اپنے ٹوٹے شہپروں کے نوحہ گر تو تھے بہت دشت فن میں تھا نہ کوئی سنگ ...

مزید پڑھیے

کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوں

کیا دعائے فرسودہ حرف بے اثر مانگوں تشنگی میں جینے کا اب کوئی ہنر مانگوں دھوپ دھوپ چل کر بھی جب تھکے نہ ہمراہی کیسے اپنی خاطر میں سایۂ شجر مانگوں آئنہ نوازی سے کچھ نہیں ہوا حاصل خود بنے جو آئینہ اب وہی ہنر مانگوں اک طرف تعصب ہے اک طرف ریاکاری ایسی بے پناہی میں کیا سکوں کا گھر ...

مزید پڑھیے

کچھ یقیں رہنے دیا کچھ واہمہ رہنے دیا

کچھ یقیں رہنے دیا کچھ واہمہ رہنے دیا سوچ کی دیوار میں اک در کھلا رہنے دیا کشتیاں ساری جلا ڈالیں انا کی جنگ میں میں نے بھی کب واپسی کا راستہ رہنے دیا میں نے ہر الزام اپنے سر لیا اس شہر میں با وفا لوگوں میں خود کو بے وفا رہنے دیا ایک نسبت ایک رشتہ ایک ہی گھر کے مکیں وقت نے دونوں ...

مزید پڑھیے

دیوار

سمندر خان اک پشتو کا شاعر جا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میں یک دم اک جھپاکا سا ہوا اور ذہن کے پردے پہ اک دھندلا ہیولیٰ بننے اور مٹنے لگا پر شومیٔ قسمت قلم ہی جیب میں تھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہ سمندر خان رک کر اور اک پتھر پہ ٹک کر میچ کر آنکھوں کو دنیا اور ما فیہا سے بیگانہ ...

مزید پڑھیے

تخلیق

ہوا کو جانے یہ کیا ہوا ہے وہ سر سے پاؤں تک آج کس سبز کپکپاہٹ میں مبتلا ہے وہ یوں درختوں میں چھپ رہی ہے کہ جیسے تخلیق کے عمل سے گزر رہی ہو ہوا کی سانسیں اکھڑ کے پھر سے سنبھل رہی ہیں وجود کیف و سرور اس کا عجیب مستی کے ساتھ مجھ سے گزر رہا ہے ہوا پہ مصرعہ اتر رہا ہے ہوا پہ مصرعہ اتر رہا ...

مزید پڑھیے

بے آباد گھروں کا نوحہ

بے آباد گھروں میں ایسا ہوتا ہے دور کے دیس کو جانے والا کولہو کا ایک بیل بنا ہے ہر پہلی کو ہرکارے کے ہاتھ میں ایک منی آرڈر کا رستہ تکتی باپ کی آنکھیں خوشی خوشی تسبیح کے دانے جلدی جلدی پھیر رہی ہیں بہنیں ڈالر کے تعویذ بنا کر گلے میں ڈالے گھوم رہی ہیں بھائی اپنے یاروں میں پردیس کے ...

مزید پڑھیے

ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہے

ہر آدمی کو خواب دکھانا محال ہے شعلوں میں جیسے پھول کھلانا محال ہے کاغذ کی ناؤ بھی ہے کھلونے بھی ہیں بہت بچپن سے پھر بھی ہاتھ ملانا محال ہے انساں کی شکل ہی میں درندے بھی ہیں مگر ہر عکس آئینے میں دکھانا محال ہے مشکل نہیں اتارنا سورج کو تھال میں لیکن چراغ اس سے جلانا محال ہے اک ...

مزید پڑھیے

اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں

اترے تو کئی بار صحیفے مرے گھر میں ملتے ہیں مگر صرف جریدے مرے گھر میں آواز میں لذت کا نیا شہد جو گھولیں اترے نہ کبھی ایسے پرندے مرے گھر میں نیزے تو شعاعوں کے رہے خون کے پیاسے نم دیدہ تھے دیوار کے سائے مرے گھر میں قندیل نوا لے کے سفر ہی میں رہا میں دھندلا گئے ارمانوں کے شیشے مرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 294 سے 6203