ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے
ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے مرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہے اسے موقع ملے تو پائی پائی چھین لیتا ہے یہاں بھائی کی خوشیاں اس کا بھائی چھین لیتا ہے بھلا فرصت کسے ہے جو یہاں رشتوں کو پہچانے یہ دور خود فریبی آشنائی چھین لیتا ہے جہالت میں وہ کامل ہے معلم بن گیا ...