قومی زبان

کسی کا ہو نہیں سکتا ہے کوئی کام روزے میں

کسی کا ہو نہیں سکتا ہے کوئی کام روزے میں جو روزے دار ہیں کرتے ہیں وہ آرام روزے میں اسے ڈپٹا اسے گھڑکا اسے پیٹا اسے کوٹا مچا رہتا ہے گھر میں صبح سے کہرام روزے میں خبر کر دو محلے میں اگر چھیڑا کسی نے بھی اسی دم میں مچا سکتا ہوں قتل عام روزے میں مجھے اچھی نہیں لگتی ہے تیری دل لگی ...

مزید پڑھیے

نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے

نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے نفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہے عالموں کا علم سے وہ ربط ہے اس دور میں ربط دھوبی کے گدھے کا جس طرح لادی سے ہے خواب غفلت سے وہی نسبت ہے میری قوم کو عاشقوں کا جو تعلق دل کی بربادی سے ہے شوہروں سے بیبیاں لڑتی ہیں چھاپہ مار جنگ رابطہ ان کا ...

مزید پڑھیے

کتابیں

سمجھتا ہے اسے سارا زمانہ کتابیں علم و حکمت کا خزانہ دلوں کا نور ہیں اچھی کتابیں چراغ طور ہیں اچھی کتابیں ہماری مونس و غم خوار ہیں یہ جہاد علم کی للکار ہیں یہ کتابیں کیا ہیں روحانی خدا ہیں سکوں دل کا دواؤں کی دوا ہیں ہماری کیوں نہ ہو منزل کتابیں رسولوں پر ہوئیں نازل کتابیں کتابوں ...

مزید پڑھیے

آتا ہے یاد مجھ کو

آتا ہے یاد مجھ کو اسکول کا زمانا وہ دوستوں کی صحبت وہ قہقہے لگانا انور عزیز راجو منو کے ساتھ مل کر وہ تالیاں بجانا بندر کو منہ چڑانا رو رو کے مانگنا وہ امی سے روز پیسے جا جا کے ہوٹلوں میں برفی ملائی کھانا پڑھنے کو جب بھی گھر پر کہتے تھے میرے بھائی کرتا تھا درد سر کا اکثر ہی میں ...

مزید پڑھیے

کوا اور کوئل

کسی کوے نے اک کوئل سے پوچھا بتا بہنا کہ ہے یہ ماجرا کیا غضب ہے یہ کہ ہم دونوں ہیں کالے خدا کے فضل سے ہیں عقل والے مگر دنیا کرے کیوں پیار تجھ سے رہیں چھوٹے بڑے بیزار مجھ سے ترا ہی نام ہے سب کی زباں پر ترا جادو تو ہے سارے جہاں پر جو شاعر ہیں لکھیں تیرا ترانہ بتا تیرا ہے کیوں عاشق ...

مزید پڑھیے

گڑیا کی شادی

منی بولی پیاری آشا کتنی بھولی میری گڑیا اچھا ہے تیرا بھی گڈا ہو جائے دونوں کا رشتہ آشا بولی گنجائش ہے لیکن میری فرمائش ہے ہاتھی لوں گی گھوڑے لوں گی میں کپڑے سو جوڑے لوں گی ٹی وی کولر اور اک موٹر سونے اور چاندی کے زیور دینے ہوں گے موٹے پیسے ملتے ہیں سیٹھوں کو جیسے مہمانوں کی خاطر ...

مزید پڑھیے

داستان گو

میر باقر علی تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دی شاہ گل فام گنجل طلسموں کی گتھیوں کو سلجھاتا صرصار جنگل کے شعلہ نفس اژدہوں سے نمٹتا بیابان حیرت کی بے انت وسعت کو سر کر کے پہرے پہ مامور یک چشم دیووں کی نظریں بچا سبز قلعے کی اونچی کگر پھاند کر مہ جبیں کے معنبر شبستان تک آن پہنچا ہے اور ...

مزید پڑھیے

پلوٹو

مرے پیارے بچے بڑا ظلم تم پر ہوا ہے بہ یک جنبش سر تمہیں اپنی مسند سے معزول ہونا پڑا ہے سمجھ میں نہیں آتا ایسی خطا کیا ہوئی تم سے مانا کہ تم اپنے بھائیوں سے ٹھگنے تھے یا پھر تمہارا ٹھکانا مقرر نہیں تھا تم اپنی حدوں سے بھٹک کر کسی اور کے دائرے میں در انداز ہوتے تھے میں جانتا ہوں ...

مزید پڑھیے

شکاگو

بڑے ملک کے اک بڑے شہر کی تنگ و تیرا گلی میں کھڑا ہوں فلک اونچے برجوں کے بھالوں سے کٹ کر افق تا افق کرچی کرچی پڑا ہے زمیں پاؤں کے نیچے بدمست کشتی کی مانند ہچکولے کھاتی ہے اور میں کھڑا سوچتا ہوں کہ دستار کو دونوں ہاتھوں سے تھاموں کہ فٹ پاتھ کی گرتی دیوار سے اپنے سر کو بچاؤں

مزید پڑھیے

نیند

ایک کبوتر نیل سمندر کے ساحل پر دم لینے کو اترا پل بھر لیکن خوابوں کی چھتری کو جال سمجھ کر ایسا پلٹا دھوپ چڑھے تک گھر نہیں لوٹا

مزید پڑھیے
صفحہ 293 سے 6203