قومی زبان

آئنے میں خود اپنا چہرا ہے

آئنے میں خود اپنا چہرا ہے پھر بھی کیوں اجنبی سا لگتا ہے جس پہ انسانیت کو ناز تھا کل اب وہ سب سے بڑا درندہ ہے فکر بھی ہے عجیب سا جنگل جس کا موسم بدلتا رہتا ہے کیسے اپنی گرفت میں آئے آگہی اک بسیط دریا ہے اس میں ظلمت پنپ نہیں سکتی ذہن سورج کی تاب رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے آئنے کی ...

مزید پڑھیے

آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہ

آ کے جب خواب تمہارے نے کہا بسم اللہ دل مسافر تھکے ہارے نے کہا بسم اللہ ہجر کی رات میں جب درد کے بستر پہ گرا شب کے بہتے ہوئے دھارے نے کہا بسم اللہ شام کا وقت تھا اور ناؤ تھی ساحل کے قریب پاؤں چھوتے ہی کنارے نے کہا بسم اللہ اجنبی شہر میں تھا پہلا پڑاؤ میرا بام سے جھک کے ستارے نے ...

مزید پڑھیے

یہ عہد کیا ہے کہ سب پر گراں گزرتا ہے

یہ عہد کیا ہے کہ سب پر گراں گزرتا ہے یہ کیا طلسم ہے کیا امتحاں گزرتا ہے وہ قحط لطف ہے ہر دم ترے فقیروں پر ہزار وسوسہ آتش بجاں گزرتا ہے جو خاک ہو گئے تیرے فراق میں ان کا خیال بھی کبھی اے جان جاں گزرتا ہے جب اس کی بزم سے چل ہی پڑے تو سوچنا کیا کہ عرصۂ غم ہجراں کہاں گزرتا ہے کبھی وہ ...

مزید پڑھیے

جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں

جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیں ان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیں اب جو تو چاہے جہاں چاہے ہمیں لے جائے کیا کریں ہم جو ترے ہاتھ میں آئے ہوئے ہیں میں اکیلا ہی نہیں آیا تجھے دیکھنے کو کچھ ستارے بھی مرے ساتھ میں آئے ہوئے ہیں اے مہ چار دہم تیری خوشی کی خاطر اک سیہ رات کی بہتات ...

مزید پڑھیے

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ

دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھ گزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھ ہم اہل درد پکارے گئے صحیفوں میں ہم اہل عشق اتارے گئے کتاب کے ساتھ پھر ایک شام پذیرائی چشم تر کی ہوئی پھر ایک شام گزاری گئی جناب کے ساتھ ہمیں یہ خوف اندھیرے نگل نہ جائیں کہیں سو ہم نے جسم کو ڈھانپا ہے آفتاب ...

مزید پڑھیے

یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی

یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گی غزل کو ہرگز غزل سنانا نہیں پڑے گی جو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میں بدن کی خوشبو مجھے بچانا نہیں پڑے گی تجھے بیاہوں تو دو قبیلے قریب ہوں گے کسی کو بندوق بھی اٹھانا نہیں پڑے گی میں اپنے لہجے کا ہاتھ تھامے نکل پڑا ہوں کسی کو آواز بھی لگانا ...

مزید پڑھیے

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں

بدن سے روح تلک ہم لہو لہو ہوئے ہیں تمہارے عشق میں اب جا کے سرخ رو ہوئے ہیں ہوا کے ساتھ اڑی ہے محبتوں کی مہک یہ تذکرے جو مری جان کو بہ کو ہوئے ہیں وہ شب تو کٹ گئی جو پیاس کی تھی آخری شب شریک گریۂ شبنم میں اب سبھو ہوئے ہیں تمہارے حسن کی تشبیب ہی کہی ہے ابھی چراغ جلنے لگے پھول مشک بو ...

مزید پڑھیے

امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں

امید صبح بہاراں خزاں سے کھینچتے ہیں یہ تیر روز دل ناتواں سے کھینچتے ہیں کشید تشنہ لبی قطرہ قطرہ پیتے ہیں یہ آب تلخ غم رفتگاں سے کھینچتے ہیں میں ان سے لقمۂ طیب کی داد کیا چاہوں جو اپنا رزق دہان سگاں سے کھینچتے ہیں سبو سے لذت یک گونہ لیتے ہیں لیکن خمار خاص لب دوستاں سے کھینچتے ...

مزید پڑھیے

تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی

تو نے کیوں ہم سے توقع نہ مسافر رکھی ہم نے تو جاں بھی ترے واسطے حاضر رکھی ہاں اب اس سمت نہیں جانا پر اے دل اے دل بام پر اس نے کوئی شمع اگر پھر رکھی یہ الگ بات کہ وہ دل سے کسی اور کا تھا بات تو اس نے ہماری بھی بظاہر رکھی اب کسی خواب کی زنجیر نہیں پاؤں میں طاق پر وصل کی امید بھی آخر ...

مزید پڑھیے

ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں

ہر سمت شور بندہ و صاحب ہے شہر میں کیا عہد تلخ حفظ مراتب ہے شہر میں ہر ناروا روا ہے بایں نام مصلحت اک کار عشق غیر مناسب ہے شہر میں کس حسن پر تجلی کی ہر چیز ہے اسیر ہیبت یہ کس کے حکم کی غالب ہے شہر میں اک خوف دشمنی جو تعاقب میں سب کے ہے اک حرف لطف جو کہیں غائب ہے شہر میں میں تنہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 295 سے 6203