قومی زبان

آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا

آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا لازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرنا گر ہم مشیر ہوتے اللہ کے تو کہتے یعنی وصال کی شب یا رب دراز کرنا اس کا سلام مجھ سے اب کیا ہے گردش رو طفلی میں میں سکھایا جس کو نماز کرنا ازبسکہ خون دل کا کھاتا ہے جوش ہر دم مشکل ہوا ہے ہم کو اخفائے راز ...

مزید پڑھیے

بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے

بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے آ گیا یاد تو اک بار ہنسے اور روئے شعر تر پڑھنے سے یاروں میں ہمیں کیا حاصل مگر اتنا ہے کہ دو چار ہنسے اور روئے شادی و غم کی جو اٹھ جائے جہاں سے رہ و رسم پھر تو کوئی بھی نہ زنہار ہنسے اور روئے ناتوانی نے کیا اس کو تو نقش قالیں کیا تری چشم کا ...

مزید پڑھیے

اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے

اہل دل گر جہاں سے اٹھتا ہے اک جہاں جسم و جاں سے اٹھتا ہے چلو اے ہم رہو غنیمت ہے جو قدم اس جہاں سے اٹھتا ہے جمع رکھتے نہیں، نہیں معلوم خرچ اپنا کہاں سے اٹھتا ہے گر نقاب اس کے منہ سے اٹھی نہیں شور کیوں کارواں سے اٹھتا ہے وائے بے طاقتی و بے صبری پردہ جب درمیاں سے اٹھتا ہے پھر وہیں ...

مزید پڑھیے

رخ زلف میں بے نقاب دیکھا

رخ زلف میں بے نقاب دیکھا میں تیرہ شب آفتاب دیکھا محروم ہے نامہ دار دنیا پانی سے تہی حباب دیکھا سرخی سے ترے لبوں کی ہم نے آتش کو میان آب دیکھا قاصد کا سر آیا اس گلی سے نامے کا مرے جواب دیکھا جانا یہ ہم نے وفات کے بعد دیکھا جو جہاں میں خواب دیکھا آفت کا نشانہ ہو چکا تھا میں دل کی ...

مزید پڑھیے

آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورت

آہ دیکھی تھی میں جس گھر میں پری کی صورت اب نظر آئے ہے واں نوحہ گری کی صورت نہ وہ انداز نہ آواز نہ عشوہ نہ ادا یک بہ یک مٹ گئی یوں جلوہ گری کی صورت اب خیال اس کا وہاں آنکھوں میں پھرتا ہے مری کوئی پھرتا تھا جہاں کبک دری کی صورت اس کے جانے سے مرا دل ہے مرے سینے میں دم کا مہمان چراغ ...

مزید پڑھیے

غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے

غصے کو جانے دیجے نہ تیوری چڑھائیے میں گالیاں بھی آپ کی کھائیں اب آئیے رفتار کا جو فتنہ اٹھا تھا سو ہو چکا اب بیٹھے بیٹھے اور کوئی فتنہ اٹھائیے میرا تو کیا دہن ہے جو بوسے کا لوں میں نام گالی بھی مجھ کو دیجے تو گویا جلائیے بولا کسی سے میں بھی تو کیا کچھ غضب ہوا اتنی سی بات کا نہ ...

مزید پڑھیے

اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہے

اس عشق و جنوں میں نہ گریبان کا ڈر ہے یہ عشق وہ ہے جس میں ہمیں جان کا ڈر ہے آساں نہیں دریائے محبت سے گزرنا یاں نوح کی کشتی کو بھی طوفان کا ڈر ہے بازار سے گزرے ہے وہ بے پردہ کہ اس کو ہندو کا نہ خطرہ نہ مسلمان کا ڈر ہے دل خون میں تڑپے ہے ترے تیر نگہ سے پر اس پہ بھی ظالم ترے پیکان کا ڈر ...

مزید پڑھیے

ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے

ہے ماہ کہ آفتاب کیا ہے دیکھو تو تہ نقاب کیا ہے میں نے تجھے تو نے مجھ کو دیکھا اب مجھ سے تجھے حجاب کیا ہے آئے ہو تو کوئی دم تو بیٹھو اے قبلہ یہ اضطراب کیا ہے اس بن ہمیں جاگتے ہی گزری جانا بھی نہ یہ کہ خواب کیا ہے مجھ کو بھی گنے وہ عاشقوں میں اس بات کا سو حساب کیا ہے سیپارۂ دل کو ...

مزید پڑھیے

لالہ و گل کا لہو بھی رائیگاں ہونے لگا

لالہ و گل کا لہو بھی رائیگاں ہونے لگا پنکھڑی پر قطرۂ شبنم گراں ہونے لگا رفتہ رفتہ آنکھ سے آنسو رواں ہونے لگا وقت کے خاکے میں نقش جاوداں ہونے لگا اس طرح تحریر کے الفاظ لو دینے لگے دیکھتے ہی دیکھتے کاغذ دھواں ہونے لگا سلسلے تحریر کے منزل بہ منزل طے ہوئے لفظ جو میں نے لکھا وہ ...

مزید پڑھیے

پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر

پہلو میں رہ گیا یوں یہ دل تڑپ تڑپ کر رہ جائے جیسے کوئی بسمل تڑپ تڑپ کر مجنون بے خرد نے دی جاں بہ ناامیدی لیلیٰ کا دیکھتے ہی محمل تڑپ تڑپ کر کہیو صبا جو جاوے مذبوح غم نے تیرے آسان کی شب اپنی مشکل تڑپ تڑپ کر اس پردگی نے اپنا آنچل نہیں دکھایا مر مر گئے ہیں اس کے مائل تڑپ تڑپ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2499 سے 6203