آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا
آساں نہیں ہے تنہا در اس کا باز کرنا لازم ہے پاسباں سے اب ہم کو ساز کرنا گر ہم مشیر ہوتے اللہ کے تو کہتے یعنی وصال کی شب یا رب دراز کرنا اس کا سلام مجھ سے اب کیا ہے گردش رو طفلی میں میں سکھایا جس کو نماز کرنا ازبسکہ خون دل کا کھاتا ہے جوش ہر دم مشکل ہوا ہے ہم کو اخفائے راز ...