قومی زبان

دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے

دل میں کچھ ہے بیان میں کچھ ہے آپ کی داستان میں کچھ ہے میرے وہم و گمان سے بڑھ کر ان کے تیر و کمان میں کچھ ہے پاؤں رکھیے سنبھل کے بستی میں گھر میں کچھ سائبان میں کچھ ہے پیرو مذہب محبت ہوں دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہے جب دلوں میں رہے نہ گنجائش ماں نہ سمجھے مکان میں کچھ ہے رخ ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھوں میں حیا اور اشارہ بھی ہے

اس کی آنکھوں میں حیا اور اشارہ بھی ہے بند ہونٹوں سے مجھے اس نے پکارا بھی ہے اس نے کاندھے پہ ہمارے جو کبھی سر رکھا یوں لگا زیست میں کوئی تو ہمارا بھی ہے ریت بھی گرم ہے اور دھوپ بھی ہے تیز مگر اس کی پر کیف رفاقت کا سہارا بھی ہے چوم کر ہاتھ مرا دیتا ہے وہ دل کو کسک کیسا دشمن ہے کہ جو ...

مزید پڑھیے

شفاف سطح آب کا منظر کہاں گیا

شفاف سطح آب کا منظر کہاں گیا آئینہ چور چور ہے پتھر کہاں گیا روزن کھلا تھا دل کا ہوائیں بھی آئی تھیں لیکن قریب تر تھا جو دلبر کہاں گیا اک وہ کہ جس کو فرصت لطف و کرم نہیں اک میں کہ سوچتا ہوں ستم گر کہاں گیا سینے سے اس کا ہاتھ ہٹانا محال تھا جاتے ہوئے وہ ہاتھ ہلا کر کہاں گیا پہلے ...

مزید پڑھیے

تیری الفت کو جگا رکھا ہے

تیری الفت کو جگا رکھا ہے دل میں طوفان اٹھا رکھا ہے رنج و راحت ہیں گلے شکوے ہیں کیسا گھر بار سجا رکھا ہے اس کا احسان کہ اس کے دل نے فاصلہ ہم سے سدا رکھا ہے وقت کیوں ریت سا پھسلا جائے ہم نے مٹھی میں دبا رکھا ہے سامنے رہتے ہوئے بھی اس نے خود کو پردے میں چھپا رکھا ہے شاد ہر پل ہیں ...

مزید پڑھیے

سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی

سبھی تو ہیں مگر اب مہرباں کہاں ہے کوئی نظر میں پیار لیے درمیاں کہاں ہے کوئی اک اپنا سر ہی نہیں دل بھی میں جھکا دوں گا مگر بتاؤ ذرا آستاں کہاں ہے کوئی ستم گری کی حدیں اس نے توڑ ڈالی ہیں ہماری طرح مگر بے زباں کہاں ہے کوئی کبھی تو پورے شجر پر تھا اپنا کاشانہ ہمارے نام کا اب آشیاں ...

مزید پڑھیے

ناؤ ٹوٹی ہوئی بپھرا ہوا دریا دیکھا

ناؤ ٹوٹی ہوئی بپھرا ہوا دریا دیکھا اہل ہمت نے مگر پھر بھی کنارا دیکھا گرچہ ہر چیز یہاں ہم نے بری ہی دیکھی پھر بھی کہنا پڑا جو دیکھا سو اچھا دیکھا دیپ سے دیپ جلانے کی ہوئی رسم تمام ہم نے انسان کا انسان سے جلنا دیکھا جب سے بچے نے کھلونے سے بہلنا چھوڑا دس برس میں ہی اسے تیس کے سن ...

مزید پڑھیے

بال و پر رکھتے نہیں عزم سفر رکھتے ہیں

بال و پر رکھتے نہیں عزم سفر رکھتے ہیں شوق پرواز بہ انداز دگر رکھتے ہیں ہاتھ اٹھانے کی کوئی شرط دعا میں کب ہے تیرے عشاق نگاہوں میں اثر رکھتے ہیں بالارادہ نہ سہی یوں ہی کبھی آ جاؤ پیار کے رستے میں ہم چھوٹا سا گھر رکھتے ہیں یہ الگ بات کہ آتے ہیں نظر ذرہ صفت ورنہ قدموں میں تو ہم شمس ...

مزید پڑھیے

اندھا بھکاری

کتنے سورج ڈوبے کتنے موسم بیتے سانسیں جوڑیں دھاگے کی صورت میں آنکھیں پھوڑیں اک جھولی کو سیتے سیتے تیری گلی میں آیا تیرا گھر اونچا تھا تو نے بھی میری جھولی میں اک کھوٹا سکہ پھینکا تھا

مزید پڑھیے

پانی کا کھیل

پانی پر اک تصویر ہماری ابھری تھی اک تصویر زمانے کی اور کبھی یہ تصویریں آپس میں گڈمڈ ہو جاتیں اک دوجے میں گھل مل جاتیں پھر سے جدا ہو جاتی تھیں پانی کے اک قطرے نے ان آنکھوں میں دیکھو کیسا کھیل رچایا جانے کیسا پانی تھا اس پانی پر بہتے کیسے کیسے بازار لگے تھے کیسی کیسی تصویریں جانے ...

مزید پڑھیے

وقت کو کس نے روکا ہے

تجھ سے جانے کتنی باتیں کرنی تھیں تیرے بالوں کی اک لٹ کو تیرے ہونٹوں پر سے اپنے ہونٹوں تک لانا تھا تیرے سرہانے ان دیکھے خوابوں کی قطاریں تیری آنکھوں کے ساگر میں نیندوں کی کشتی میں تیرا مانجھی کتنے دیپوں کا یہ سفر جو نیا انوکھا، انجانا تھا لیکن صبح کی کرنوں کے طوفاں کا کوئی ٹھکانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2486 سے 6203