قومی زبان

رہے ہے آج کل کچھ اس طرح چرخ کہن بگڑا

رہے ہے آج کل کچھ اس طرح چرخ کہن بگڑا مرے ہی آشیاں سے جیسے یہ نظم چمن بگڑا کہاں گزری ہے ساری رات کچھ ہم بھی سنیں آخر یہ رخ یہ چاندنی چھٹکی یہ تار پیرہن بگڑا برس کر رہ گئیں کلیاں چمن کے فرش رنگیں پر پکڑ کر شاخ جب کل شام وہ غنچہ دہن بگڑا تری نظروں ہی تک تھا سب سلیقہ اہل محفل کا ترے ...

مزید پڑھیے

جو خم پر خم چھلکاتے ہیں ہونٹوں کی تھکن کیا سمجھیں گے

جو خم پر خم چھلکاتے ہیں ہونٹوں کی تھکن کیا سمجھیں گے پھولوں میں گزرتی ہے جن کی کانٹوں کی چبھن کیا سمجھیں گے پتھر کے پجاری آنکھوں کی گہرائی کو پانا کیا جانیں قسمت پہ یقیں رکھنے والے ماتھے کی شکن کیا سمجھیں گے ہم دیوانے ہیں دیوانے بے کار سبق دیتے ہو ہمیں ہم موت کے معنی کیا جانیں ...

مزید پڑھیے

لمبی تھی عمر محبت کی برباد ہوئے ہوتے ہوتے

لمبی تھی عمر محبت کی برباد ہوئے ہوتے ہوتے کچھ رات کٹی پیتے پیتے کچھ رات کٹی روتے روتے ان پیاس بھری آنکھوں کے سوا اس جگ میں اپنا تھا ہی کیا سب کو دیکھا چلتے چلتے سب کو کھویا کھوتے کھوتے جب یاد کوئی آ جاتی ہے یوں دل کی کلی کھل جاتی ہے جیسے خوابوں کی دنیا میں بچہ ہنس دے سوتے ...

مزید پڑھیے

کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے جو بات تیری نگاہوں کی احتیاط میں ہے کچھ اس طرح سے چلے جا رہے ہیں کانٹوں پر کہ جیسے ہاتھ ہمارا تمہارے ہاتھ میں ہے دیئے جلے ہیں سجی جا رہی ہے کل کی دلہن عجیب حسن غم زندگی کی رات میں ہے کھڑی ہے سیل حوادث کے درمیاں اب تک بڑا ثبات مری عمر بے ثبات ...

مزید پڑھیے

ہم سفر راتوں کے سائے ہو گئے

ہم سفر راتوں کے سائے ہو گئے چاند تارے راستوں میں سو گئے قصۂ دل میں وفا کی بات پر اس نے یوں دیکھا کہ ہم چپ ہو گئے تم تو کوئی اجنبی ہو اجنبی جو ہمارے تھے وہ تم کیا ہو گئے منزلیں آواز دے کر تھک گئیں قافلے گرد سفر میں کھو گئے آج تک آنکھوں میں اک تصویر ہے گو اسے دیکھے زمانے ہو گئے

مزید پڑھیے

مائل جو آج کل نگہ نیم باز ہے

مائل جو آج کل نگہ نیم باز ہے وہ دل ٹٹولتے ہیں کہ کتنا گداز ہے تاریکیوں میں وقت کی رفتار کھو گئی یہ شام غم ہے یا تری زلف دراز ہے توڑے ہزار جام شرابوں میں ڈوب کر ملتا نہیں جو ان کی نگاہوں میں راز ہے اب وہ ستم کریں کہ کرم ہم کو کیا غرض دل ان کو دے کے عشق بہت بے نیاز ہے تم ننگ جان کر ...

مزید پڑھیے

سمٹے تو ایسے شمس و قمر میں سمٹ گئے

سمٹے تو ایسے شمس و قمر میں سمٹ گئے بکھرے تو ایسے خاک کے ذروں میں بٹ گئے منزل کہاں سفر ہی سفر ہو گئی حیات اتنا چلے کہ پاؤں سے رستے لپٹ گئے یہ وقت کا کرم ہے کہ رکتے نہیں ہیں دن کٹنا نہ چاہئے تھا جنہیں وہ بھی کٹ گئے اب دیکھنا ہے کون سنوارے گا تیرے پھول اک ہم ہی تیری راہ کا کانٹا تھے ...

مزید پڑھیے

گلشن بھی سجائے ہیں اس نے یہ جھلکا ہے شمشیر میں بھی

گلشن بھی سجائے ہیں اس نے یہ جھلکا ہے شمشیر میں بھی انساں کے لہو کا کھیل ہوا تخریب میں بھی تعمیر میں بھی جو فرق ہے وہ ہے ہاتھوں کا جو شوق عمل میں بڑھتے ہیں یوں ایک ہی نغمہ ایک تڑپ ہے ساز میں بھی شمشیر میں بھی چن چن کے خرد نے نوچا ہے پھولوں کی قباؤں کو لیکن کچھ دامن سالم رہ ہی گئے اس ...

مزید پڑھیے

سلسلہ جب تری باتوں کا جواں ہوتا ہے

سلسلہ جب تری باتوں کا جواں ہوتا ہے تب ہر اک جام بکف جانے کہاں ہوتا ہے اف رے وہ آہ جو سینے سے نکل بھی نہ سکے ہائے وہ درد جو آنکھوں میں نہاں ہوتا ہے خود فریبی ہے تھکن ہے کہ شکستہ پائی ہر قدم پر مجھے منزل کا گماں ہوتا ہے ان کی نظروں کا بڑھاوا ہے وگرنہ ہم سے حال دل کب کسی صورت میں ...

مزید پڑھیے

کسی کو حاصل فراغ ہستی کوئی ہے ممنون بے نوائی

کسی کو حاصل فراغ ہستی کوئی ہے ممنون بے نوائی نظام جمہوریت یہی ہے تو میرے مالک تری دہائی چمن میں افسردگی وہی ہے مگر فریب نظر تو دیکھو کہیں جو دو غنچے مسکرائے تو ہم نے سمجھا بہار آئی ہزار بدلا کرے زمانہ سو انقلاب آئیں فائدہ کیا مٹی نہ جب ان کی بے نیازی گئی نہ جب اپنی جبہہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2459 سے 6203