رہے ہے آج کل کچھ اس طرح چرخ کہن بگڑا
رہے ہے آج کل کچھ اس طرح چرخ کہن بگڑا مرے ہی آشیاں سے جیسے یہ نظم چمن بگڑا کہاں گزری ہے ساری رات کچھ ہم بھی سنیں آخر یہ رخ یہ چاندنی چھٹکی یہ تار پیرہن بگڑا برس کر رہ گئیں کلیاں چمن کے فرش رنگیں پر پکڑ کر شاخ جب کل شام وہ غنچہ دہن بگڑا تری نظروں ہی تک تھا سب سلیقہ اہل محفل کا ترے ...