اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہے
اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہے اس کی باتیں شروع ہوتی ہیں آج کل رات بھر مرے دل میں کتنی صبحیں طلوع ہوتی ہیں
اس کے چہرے کا عکس پڑتا ہے اس کی باتیں شروع ہوتی ہیں آج کل رات بھر مرے دل میں کتنی صبحیں طلوع ہوتی ہیں
کاش ہم لوگ لڑ گئے ہوتے آپ کی دوستی کا رونا ہے دل سے گرد الم نہیں چھٹتی آنسوؤں کی کمی کا رونا ہے
مدتوں کور نگاہی دل کی نور عرفاں کو ترستی رہتی تو جو خورشید نہ بن کر آتی ذہن پر اوس برستی رہتی
فلک کا ایک تقاضا تھا ابن آدم سے سلگ سلگ کے رہے اور پلک جھپک نہ سکے ترس رہا ہو فضا کا مہیب سناٹا سڈول پاؤں کی پائل مگر چھنک نہ سکے کلی کے اذن تبسم کے ساتھ شرط یہ ہے کہ دیر تک کسی آغوش میں مہک نہ سکے میں سوچتا ہوں کہ یہ تیری بے حجاب ہنسی! مزاج زیست سے اس درجہ مختلف کیوں ہے یہ ایک شمع ...
میری بن جانے پہ آمادہ ہے وہ جان حیات جو کسی اور سے پیمان وفا رکھتی ہے میرے آغوش میں آنے کے لئے راضی ہے جو کسی اور کو سینے میں چھپا رکھتی ہے شاعری ہی نہیں کچھ باعث عزت مجھ کو اور بہت کچھ حسد و رشک کے اسباب میں ہے مجھ کو حاصل ہے وہ معیار شب و روز کہ جو اس کے محبوب کے ہاتوں میں نہیں ...
زندگی میں ترے دروازے پر اک بھکاری کی طرح آیا تھا اپنے دامن کو بنا کر کشکول تیری ہر راہ پہ پھیلایا تھا ایک مرحوم کرن کی خاطر مجھ کو تھوڑی سی ضیا بھی نہ ملی دم بہ دم ڈوبتے سیارے کو اپنے مرکز سے صدا بھی نہ ملی دفعتاً ایک دھماکے کے ساتھ کچے دھاگوں کے سرے چھوٹ گئے انگلیاں چھل گئیں ...
اے کلی تجھ کو ہمارا بھی خیال آ ہی گیا ہم تو مایوس ہوئے بیٹھے تھے صحراؤں میں اب ترا روپ بھی دھندلا سا چلا تھا دل میں تو بھی اک یاد سی تھی جملہ حسیناؤں میں تہہ بہ تہہ گرد سے آلود تھا دن کا دامن رات کا نام نہ آتا تھا تمناؤں میں رقص شبنم کی پرستار نگاہوں کے لیے دھوپ کے ابر تھے خورشید ...
رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کشکول گدائی کی طرح نادم ہے ایک اک سانس کسی نام کے ساتھ آتی ہے ایک اک لمحۂ آزاد نفس مجرم ہے کون یہ وقت کے گھونگھٹ سے بلاتا ہے مجھے کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب کون آیا ہے چڑھانے کو تمناؤں کے پھول ان سلگتے ہوئے لمحوں کی چتاؤں کے ...
مرے وطن تری خدمت میں لے کر آیا ہوں جگہ جگہ کے طلسمات دیس دیس کے رنگ پرانے ذہن کی راکھ اور نئے دلوں کی امنگ نہ دیکھ ایسی نگاہوں سے میرے خالی ہاتھ نہ یوں ہو میری تہی دامنی سے شرمندہ بسے ہوئے ہیں مرے دل میں سیکڑوں تحفے بہت سے غم کئی خوشیاں کئی انوکھے لوگ کہیں سے کیف ہی کیف اور کہیں سے ...
اسی روش پہ ہے قایم مزاج دیدہ و دل لہو میں اب بھی تڑپتی ہیں بجلیاں کہ نہیں زمیں پہ اب بھی اترتا ہے آسماں کہ نہیں؟ کسی کے جیب و گریباں کی آزمائش میں کبھی خود اپنی قبا کا خیال آتا ہے ذرا سا وسوسۂ ماہ و سال آتا ہے؟ کبھی یہ بات بھی سوچی کہ منتظر آنکھیں غبار راہ گزر میں اجڑ گئی ہوں ...