قومی زبان

لائق دید وہ نظارا تھا

لائق دید وہ نظارا تھا لاکھ نیزے تھے سر ہمارا تھا ایک آندھی سی کیوں بدن میں ہے اس نے شاید ہمیں پکارا تھا شکریہ ریشمی دلاسے کا تیر تو آپ نے بھی مارا تھا بادباں سے الجھ گیا لنگر اور دو ہاتھ پر کنارا تھا صاحبو بات دسترس کی تھی ایک جگنو تھا اک ستارا تھا آسماں بوجھ ہی کچھ ایسا ...

مزید پڑھیے

رہتا ہے ہر وقت قلق میں

رہتا ہے ہر وقت قلق میں ٹھیک نہ ہوگا تیرے حق میں قائم ہے سرخی سے تعلق ان کے دامن اور شفق میں مجموعے پر نام ہے میرا ذکر ترا ہر ایک ورق میں یہ ہیں اونچے اڑنے والے پاؤں ہوا میں سر خندق میں بابو جی بھی پی لیتے ہیں مل جاتی ہیں غیبی رقمیں حق داروں کی چھٹی کر دو استغنا کے ایک سبق ...

مزید پڑھیے

ہاتھوں میں سجتے ہیں چھالے جیسی تیری مرضی

ہاتھوں میں سجتے ہیں چھالے جیسی تیری مرضی سکھ داتا دکھ دینے والے جیسی تیری مرضی بستی بستی گھور اندھیرا یا انگارے برسیں صحرا صحرا نرم اجالے جیسی تیری مرضی برحق ہے تو پتھر پتھر پھول کھلانے والے زرخیزی میں بنجر ڈالے جیسی تیری مرضی بھرتے ہیں ہنکاری تیری آتے جاتے بادل گونج رہے ...

مزید پڑھیے

بچے لائے انوکھی تتلی اور نرالے پھول

بچے لائے انوکھی تتلی اور نرالے پھول خوشبو دینے والی تتلی اڑنے والے پھول جس دن گلشن میں نفرت کی آندھی چلتی ہے شاخوں پر اگنے لگتے ہیں کالے کالے پھول اس کے پیروں میں کانٹے تھے چھالے ہاتھوں میں اوپر سے پریوں نے اس بچے پر ڈالے پھول ہمرا اور ثمرہ نے سالگرہ پر ایمن کی خوب چھڑائی آتش ...

مزید پڑھیے

کیا وصل کی ساعت کو ترسنے کے لیے تھا

کیا وصل کی ساعت کو ترسنے کے لیے تھا دل شہر تمنا ترے بسنے کے لیے تھا صحرا میں بگولوں کی طرح ناچ رہا ہوں فطرت سے میں بادل تھا برسنے کے لیے تھا روتی ہوئی ایک بھیڑ مرے گرد کھڑی تھی شاید یہ تماشہ مرے ہنسنے کے لیے تھا کچھ رات کا احساں ہے نہ سورج کا کرم ہے غنچہ تو بہرحال بکسنے کے لیے ...

مزید پڑھیے

دیواروں پر گیلی ریکھائیں روتی ہیں

دیواروں پر گیلی ریکھائیں روتی ہیں تینوں پر گھنگھرو کی بوندیں ناچ رہی ہیں پیروں میں مکڑی نے جالا تان رکھا ہے پر پھیلا کر چڑیاں کاندھے پر بیٹھی ہیں ڈول رہے ہیں آنکھوں میں پتھر کے سائے شریانوں میں بہتی ندیاں سوکھ چکی ہیں در پر ویرانی کا پردہ جھول رہا ہے کھونٹی سے تنہائی کی ...

مزید پڑھیے

اس نے ہم کو جھیل ترائی اور پہاڑ دئے

اس نے ہم کو جھیل ترائی اور پہاڑ دئے ہم نے ان سب کی گردن میں پنجے گاڑ دئے زنجیروں میں جکڑی اس منہ زور ہوا نے پھر توڑ دئے کھڑکی دروازے پر دے پھاڑ دئے شبنم شبنم موتی بو کر آشا بیٹھی تھی لشکر آیا کھیت جلائے پیڑ اکھاڑ دئے ریت بھری نہروں کو دیکھو بہنا بھول گئیں نفرت کی آندھی نے کتنے ...

مزید پڑھیے

اس کھردری غزل کو نہ یوں منہ بنا کے دیکھ

اس کھردری غزل کو نہ یوں منہ بنا کے دیکھ کس حال میں لکھی ہے مرے پاس آ کے دیکھ وہ دن ہوا ہوئے کہ بچھاتے تھے جان و دل اب ایک بار اور ہمیں مسکرا کے دیکھ پردہ پڑا ہوا ہے تبسم کے راز پر پھولوں سے اوس آنکھ سے آنسو گرا کے دیکھ یہ دوپہر بھی آئی ہے پرچھائیوں کے ساتھ ویسے نظر نہ آئیں تو مشعل ...

مزید پڑھیے

تنکوں کے ارمان لبیک لبیک

تنکوں کے ارمان لبیک لبیک طوفان طوفان لبیک لبیک بے دست و پا میں بے دست و پا تو جنگل بیابان لبیک لبیک وحشت کی بستی کوتاہ دستی میرا گریبان لبیک لبیک آزاد دیدہ مردم گزیدہ آئینہ حیران لبیک لبیک تتلی شگوفے جگنو ستارے سب تیری پہچان لبیک لبیک اونچا ہوا سر نیزہ بہ نیزہ یاروں کا ...

مزید پڑھیے

پیر مغاں کو قبلۂ حاجات کہہ گیا

پیر مغاں کو قبلۂ حاجات کہہ گیا میں بھی ہنسی ہنسی میں بڑی بات کہہ گیا تاریک راستے کا مسافر نہیں ہے وہ جو تیرے گیسوؤں کو سیہ رات کہہ گیا قاصد نے اس کی بات بنائی نہ ہو کہیں کس بے تکلفی سے جوابات کہہ گیا پھولوں نے ہنس کے ٹال دیا وقت پر ہمیں کانٹا مگر بہار کے حالات کہہ گیا میں، ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2436 سے 6203