قومی زبان

مری جاں پر یہ پتھر اس لیے بھاری زیادہ ہے

مری جاں پر یہ پتھر اس لیے بھاری زیادہ ہے محبت کم ترے لہجے میں غم خواری زیادہ ہے یہ سب سے مختصر رستہ ہے اس وادی میں جانے کا مگر اس پر سفر کرنے میں دشواری زیادہ ہے ہم اپنی راہ میں دیوار بن جاتے ہیں خود اکثر ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ خودداری زیادہ ہے محبت کے قریب آیا تو اندازہ ہوا مجھ ...

مزید پڑھیے

نئے مجرم ہیں پرانوں کی طرف دیکھتے ہیں

نئے مجرم ہیں پرانوں کی طرف دیکھتے ہیں مقتدی اپنے اماموں کی طرف دیکھتے ہیں خوف سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں بزدل فوجی ہم ندامت سے شہیدوں کی طرف دیکھتے ہیں اتنا پیارا ہے وہ چہرہ کہ نظر پڑتے ہی لوگ ہاتھوں کی لکیروں کی طرف دیکھتے ہیں ہجر راس آتا تو کیوں کرتے تجھے یاد میاں دھوپ لگتی ہے تو ...

مزید پڑھیے

دھرتی سے آکاش ملا دو

دھرتی سے آکاش ملا دو مجھ کو میرا آج پتا دو تن تو خود ہی مٹ جائے گا من پاپی ہے اس کو سزا دو میرا بچہ ضد کرتا ہے بابا مجھ کو سورج لا دو میں نے اپنا قتل کیا ہے سپنا ہے تعبیر بتا دو اپنا ماتم خود کر لوں گا مجھ کو میری لاش دکھا دو

مزید پڑھیے

جو روایت کا منکر ہو آئے

جو روایت کا منکر ہو آئے نقش ہائے بزرگاں مٹائے ان کے دل میں جگہ مل گئی ہے میری قیمت زمانہ لگائے میں سمندر پہ ہنستا رہوں گا یا مری تشنگی یہ بجھائے غم کی حرمت اسی میں چھپی ہے ایک آنسو بھی گرنے نہ پائے زندگی میرے قدموں تلے ہے موت مجھ پہ اب آنسو بہائے

مزید پڑھیے

گہرے سمندروں میں بالآخر اتر گئے

گہرے سمندروں میں بالآخر اتر گئے خوش فہمیوں کا زہر پیا اور مر گئے ہم عہد نو کے لوگ بھی اللہ کی پناہ کاسہ اٹھائے ہاتھ میں اپنے ہی گھر گئے کچھ لوگ اڑ رہے تھے ہواؤں کے دوش پر کیا جانے کس خیال سے ہم بھی ادھر گئے کل رات پی پلا کے بڑی مستیاں ہوئیں آخر کو تھک تھکا کے پھر اپنے ہی گھر ...

مزید پڑھیے

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی

کوئی پل جی اٹھے اگر ہم بھی دم نہ لے پائے گا یہاں دم بھی کار بے کار کا اثاثہ ہے مجھ سے بے جان کے سوا غم بھی کیا مرے بس میں کچھ نہیں رکھا غیب سے آئے گا اگر نم بھی جس جگہ اپنی بے بسی ہنس دے خاک کر پائے گا وہاں رم بھی اپنی بے اعتدالیوں کے سبب میں اگر بڑھ گیا ہوا کم بھی

مزید پڑھیے

دل درویش کی دعا سے اٹھا

دل درویش کی دعا سے اٹھا یہ ہیولیٰ سا جو ہوا سے اٹھا جسم الجھا مگر تھکن اتری پر جو اک کرب نہروا سے اٹھا نشۂ خواب بعد میں اترا پہلے خوشنودئی ولا سے اٹھا شہر سر مست میں شفق اتری اور منظر کوئی ورا سے اٹھا اس کو میں انقلاب کہتا ہوں یہ جو انکار کی فضا سے اٹھا

مزید پڑھیے

لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے

لوگ جنت میں جا رہے ہوں گے اور ہم سٹپٹا رہے ہوں گے تم بغاوت کی بات کرتے ہو ہم تو رسمیں نبھا رہے ہوں گے بے زبانی و نارسائی میں ہم خدا کو بلا رہے ہوں گے وہ کہیں گیت گا رہی ہوگی ہم کہیں تلملا رہے ہوں گے حسن مشہور ہو رہا ہوگا لوگ باتیں بنا رہے ہوں گے

مزید پڑھیے

دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے

دیکھو اس کا ہجر نبھانا پڑتا ہے وہ جیسا چاہے ہو جانا پڑتا ہے سنتے کب ہیں لوگ ہمیں بس دیکھتے ہیں چہرے کو آواز بنانا پڑتا ہے ان اندھے اور بہرے لوگوں کو سائیں ہونے کا احساس دلانا پڑتا ہے ابھی ہمارے اندر آگ نہیں بھڑکی ابھی ہمیں سگریٹ سلگانا پڑتا ہے کچھ آنکھیں ہی ایسی ہوتی ہیں جن ...

مزید پڑھیے

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا

بہت شدت سے جو قائم ہوا تھا وہ رشتہ ہم میں شاید جھوٹ کا تھا محبت نے اکیلا کر دیا ہے میں اپنی ذات میں اک قافلہ تھا مری آنکھوں میں بارش کی گھٹن تھی تمہارے پاؤں بادل چومتا تھا تمہاری ہی گلی کا واقعہ ہے میں پہلی بار جب تنہا ہوا تھا کھجوروں کے درختوں سے بھی اونچا مرے دل میں تمہارا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2412 سے 6203