قومی زبان

دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آ جائے

دکھا رہا ہوں تماشہ سمجھ میں آ جائے کہ ایک بار اسے دنیا سمجھ میں آ جائے یہ لوگ جا تو رہے ہیں نئے زمانے میں دعا کرو انہیں رستہ سمجھ میں آ جائے غلط نہ جان کہ آنکھیں نہیں رہیں میری سو چھو رہا ہوں کہ چہرہ سمجھ میں آ جائے خدا کرے تجھے تہذیب مے کشی ہو نصیب خدا کرے تجھے نشہ سمجھ میں آ ...

مزید پڑھیے

عجیب ہوں کہ محبت شناس ہو کر بھی

عجیب ہوں کہ محبت شناس ہو کر بھی اداس لگتا نہیں ہوں اداس ہو کر بھی خدا کی طرح کوئی آدمی بھی ہے شاید نظر جو آتا نہیں آس پاس ہو کر بھی نمو کی روشنی لے کر اگا ہوں صحرا میں میں سبز ہو نہیں سکتا ہوں گھاس ہو کر بھی وجود وہم بنا مٹ گیا مگر پھر بھی تمہارے پاس نہیں ہوں قیاس ہو کر بھی یہ ...

مزید پڑھیے

محبت لازمی ہے مانتا ہوں

محبت لازمی ہے مانتا ہوں مگر ہم زاد اب میں تھک گیا ہوں تمہارا ہجر کاندھے پر رکھا ہے نہ جانے کس جگہ میں جا رہا ہوں مری پہلی کمائی ہے محبت محبت جو تمہیں میں دے چکا ہوں مرے چاروں طرف اک شور سا ہے مگر پھر بھی یہاں تنہا کھڑا ہوں کوئی تو ہو جو میرے درد بانٹے مسلسل ہجر کا مارا ہوا ...

مزید پڑھیے

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے

مل رہے ہو بڑی عقیدت سے خوف آتا ہے اتنی عزت سے ہم زیادہ بگاڑ دیتے ہیں بچ کے رہنا ہماری صحبت سے لوگ کردار بننا چاہتے ہیں جیسے ممکن ہے سب ریاضت سے اس کے دل میں اترنے لگتا ہوں جو مجھے دیکھتا ہے نفرت سے زہر ایجاد ہو گیا اک دن لوگ مرتے تھے پہلے غیرت سے پردہ داروں نے خود کشی کر لی صحن ...

مزید پڑھیے

ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرور

ایک سخن کو بھول کر ایک کلام تھا ضرور میرا تو ذکر ہی نہ تھا پر ترا نام تھا ضرور کانپ رہے تھے میرے ہاتھ چیخ رہے تھے بام و در زہر اگر نہیں تھا وہ آخری جام تھا ضرور یونہی نہیں تمام عمر سجدے میں ہی گزر گئی عشق کی اس نماز کا کوئی امام تھا ضرور یاد ابھی نہیں ہمیں ذہن پہ زور دے چکے تم ہی ...

مزید پڑھیے

اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے

اپنی خودداری تو پامال نہیں کر سکتے اس کا نمبر ہے مگر کال نہیں کر سکتے سیم جائے گا تو پھر نقش ابھاریں گے کوئی کام دیوار پہ فی الحال نہیں کر سکتے رہ بھی سکتا ہے ترا نام کہیں لکھا ہوا سارے جنگل کی تو پڑتال نہیں کر سکتے دوست تصویر بہت دور سے کھینچی گئی ہے ہم اجاگر یہ خد و خال نہیں ...

مزید پڑھیے

تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کی

تمام عمر جلے اور روشنی نہیں کی یہ زندگی ہے تو پھر ہم نے زندگی نہیں کی ستم تو یہ ہے کہ میرے خلاف بولتے ہیں وہ لوگ جن سے کبھی میں نے بات بھی نہیں کی جو دل میں آتا گیا صدق دل سے لکھتا گیا دعائیں مانگی ہیں میں نے تو شاعری نہیں کی بس اتنا ہے کہ مرا بخت ڈھل گیا اور پھر مرے چراغ نے بھی ...

مزید پڑھیے

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں

میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوں کسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوں ابھی تو اس سے ملنے کا بہانہ اور کرنا ہے ابھی تو اس کے کمرے میں نشانی چھوڑ آیا ہوں بس اتنا سوچ کر ہی مجھ کو اپنے پاس تم رکھ لو تمہارے واسطے میں حکمرانی چھوڑ آیا ہوں اسی خاطر مرے چاروں طرف پھیلا ہے ...

مزید پڑھیے

مانگتے مانگتے دعا مرے ساتھ

مانگتے مانگتے دعا مرے ساتھ بجھ گیا آخری دیا مرے ساتھ تو نے مجھ کو تسلی دینا تھی تو بھی اے شخص رو پڑا مرے ساتھ دل میں آیا خیال تجھ سے ملوں چل پڑا ایک راستہ مرے ساتھ کوئی جچتا نہیں علاوہ ترے ورنہ اک ہم سفر تو تھا مرے ساتھ بد نصیبی کہ عشق کر کے بھی کوئی دھوکہ نہیں ہوا مرے ...

مزید پڑھیے

دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا

دل مبتلائے ہجر رفاقت میں رہ گیا لگتا ہے کوئی فرق محبت میں رہ گیا اس گھر کے دو مکین تھے اک پیڑ اور میں یہ ہجر تو کسی کی شرارت میں رہ گیا اک بار منع کرتی ہوئی شام سے تو پوچھ جو بھی جدا ہوا وہ حقیقت میں رہ گیا ممکن تھا تجھ کو چھین ہی لیتا جہان سے لیکن میں کیا کروں میں محبت میں رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2413 سے 6203