قومی زبان

ڈھونڈھتی پھرتی ہے اب اس کو نگاہ واپسیں

ڈھونڈھتی پھرتی ہے اب اس کو نگاہ واپسیں اس دریچے میں اک افسانی تبسم تھا کہیں ساری تشبیہات دفنا دیں بیاباں میں کہیں تیرا کیا دنیا میں کوئی بھی کسی جیسا نہیں توڑ کر اک حسن ہر دن تجھ کو رکھا ہے حسیں زندگی کیا اپنے بارے میں بھی اب سوچیں ہمیں اب تو اس صحرا کے ہر گوشے پہ ہوتا ہے ...

مزید پڑھیے

رکنا پڑے گا اور بھی چلنے کے نام پر

رکنا پڑے گا اور بھی چلنے کے نام پر گرتی رہے گی خلق سنبھلنے کے نام پر پھنستا گیا ہوں اور نکلنے کی سعی میں آفت مزید آئی ہے ٹلنے کے نام پر یہ کیا طلسم ہے کہ ابھرنے کے شوق میں آواز دب گئی ہے نکلنے کے نام پر دل کا شجر تو اور بھی پلنے کی آڑ میں مرجھا گیا ہے پھولنے پھلنے کے نام پر وہ جا ...

مزید پڑھیے

جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا

جہاں پہ ہوتا ہوں اکثر وہاں نہیں ہوتا وہیں تلاش کرو میں جہاں نہیں ہوتا اگر تمہاری زباں سے بیاں نہیں ہوتا مرا وجود کبھی داستاں نہیں ہوتا بچھڑ گیا تھا وہ ملنے سے پیشتر ورنہ میں اس طرح سے کبھی رائیگاں نہیں ہوتا نظر بچا کے نکلنا تو چاہتا ہوں مگر وہ کس جگہ سے ہے غائب کہاں نہیں ...

مزید پڑھیے

یاد پڑتا تو نہیں کب مرا دیکھا ہوا ہے

یاد پڑتا تو نہیں کب مرا دیکھا ہوا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ سب مرا دیکھا ہوا ہے اور اس بت کی پرستش میں نیا کچھ بھی نہیں اور کیوں دیکھوں اسے جب مرا دیکھا ہوا ہے موت کچھ میرے لیے لائے تو لائے شاید زندگی کا تو سبھی ڈھب مرا دیکھا ہوا ہے اس دفعہ عشق کے جنگل سے نکل آؤں گا راہ کا سارا فسوں ...

مزید پڑھیے

ایک تو کاوش جگر بھی کروں

ایک تو کاوش جگر بھی کروں اور پھر منت ثمر بھی کروں عشق میں خیر تھا جنوں لازم اب کوئی دوسرا ہنر بھی کروں سوچتا ہوں ترے تعاقب میں خود کو رسوائے بال و پر بھی کروں پہلے بن مانگے زندگی دے دی اور پھر شرط ہے بسر بھی کروں شعر لکھوں بھی اور لوگوں میں شاعری اپنی مشتہر بھی کروں لفظ و ...

مزید پڑھیے

پانے کی طرح کا نہ تو کھونے کی طرح کا

پانے کی طرح کا نہ تو کھونے کی طرح کا ہونا بھی یہاں پر ہے نہ ہونے کی طرح کا معلوم نہیں نیند کسے کہتے ہیں لیکن کرتا تو ہوں اک کام میں سونے کی طرح کا ہنسنے کی طرح کا کوئی موسم مرے باہر منظر مرے اندر کوئی رونے کی طرح کا ایسی کوئی حالت ہے کہ مدت سے بدن کو اک مرحلہ درپیش ہے ڈھونے کی طرح ...

مزید پڑھیے

آپ کو مجھ سے خفا مجھ سے خفا دیکھتا ہوں

آپ کو مجھ سے خفا مجھ سے خفا دیکھتا ہوں پھوٹتی کیوں نہیں آنکھیں مری کیا دیکھتا ہوں روز اس روح کی ویرانیاں کھل اٹھتی ہیں روز اس دشت میں اک آبلہ پا دیکھتا ہوں گل کھلاتے ہیں نیا روز یہ رشتے ناطے روز ہی خون کا اک رنگ نیا دیکھتا ہوں ایک سچ یہ ہے جو دنیا کو برتنے پہ کھلا ایک سچ وہ جو ...

مزید پڑھیے

مشکلیں خال خال چاہتے ہیں

مشکلیں خال خال چاہتے ہیں شوق میں اعتدال چاہتے ہیں کٹ کے اپنی جڑوں سے کچھ پودے سبز موسم کی شال چاہتے ہیں کم سے کم خود سے تو ہیں مخلص وہ جو ہمیں حسب حال چاہتے ہیں لاکھ جینا حرام ہو ہم پر ہم تو رزق حلال چاہتے ہیں کیا کمی آ گئی ہے چاہت میں زخم کیوں اندمال چاہتے ہیں آنکھ پتھرا گئی ...

مزید پڑھیے

وہ یک بہ یک اسے دل میں اتارنے کا عمل

وہ یک بہ یک اسے دل میں اتارنے کا عمل وہ اپنی ذات پہ شب خون مارنے کا عمل ہزار وسوسے دل میں اور اک دہکتا الاؤ حیات دشت میں راتیں گزارنے کا عمل بس ایک خوشۂ گندم اور ایسی دربدری وہ آسماں کو زمیں پر اتارنے کا عمل یہ عمر میز ہے گویا قمار خانے کی بس ایک جیت کی خواہش میں ہارنے کا عمل وہ ...

مزید پڑھیے

آسماں عشق کی عظمت کے سوا بھی کچھ ہے

آسماں عشق کی عظمت کے سوا بھی کچھ ہے کیا یہ صحرا مری وحشت کے سوا بھی کچھ ہے موند لوں آنکھ تو بے کار ہے سب رنگ جہاں کیا مری چشم عنایت کے سوا بھی کچھ ہے کچھ تو ہے جس کے بتانے سے ہوں قاصر لیکن اب ترے درد میں لذت کے سوا بھی کچھ ہے میری آنکھوں سے کوئی اس کا سراپا دیکھے تب کھلے گا کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2407 سے 6203