ابھی کچھ کام باقی ہیں
ابھی ٹھہرو ابھی کچھ کام باقی ہیں ذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں ابھی تو نا مکمل نظم کا اک آخری مصرعہ کتاب ہجر میں تحریر کرنا ہے خس و خاشاک غم اسلاف میں تقسیم ہو جائیں تو سر سے بوجھ اترے قرض کا جامہ پہن کر اک نئے رستے پہ جانا کب مناسب ہے ابھی ٹھہرو ابھی ہم کو جزیرے میں ہوا کے سبز ...