قومی زبان

ابھی کچھ کام باقی ہیں

ابھی ٹھہرو ابھی کچھ کام باقی ہیں ذرا یہ کام نمٹا لیں تو چلتے ہیں ابھی تو نا مکمل نظم کا اک آخری مصرعہ کتاب ہجر میں تحریر کرنا ہے خس و خاشاک غم اسلاف میں تقسیم ہو جائیں تو سر سے بوجھ اترے قرض کا جامہ پہن کر اک نئے رستے پہ جانا کب مناسب ہے ابھی ٹھہرو ابھی ہم کو جزیرے میں ہوا کے سبز ...

مزید پڑھیے

خیال رکھنا

میں جا چکوں تو خیال رکھنا رفیق میرے، زمین کی ان دراز پلکوں سے اشک بن کر جڑے ہوئے ہیں خیال رکھنا کہ سارے موسم بس ایک دکھ کے پیامبر ہیں جو میرا دکھ ہے یہ میرا دکھ ہے کہ میں نے اس دکھ کی پرورش ہیں لہو کا لقمہ، بدن کا ایندھن کیا فراہم یہ دکھ مرا ہے، مرا رہے گا کہ آسمانوں کی سمت میرے سوا ...

مزید پڑھیے

لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیر

لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیر دونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیر کچھ لطف زندگی نہیں حاصل ترے بغیر پل بھر گزارنا بھی ہے مشکل ترے بغیر تو ہی نہیں تو کون کرے میری رہبری کٹتی نہیں حیات کی منزل ترے بغیر دل پر مرے ہی شاق نہیں ہے ترا فراق خاموش ہیں چمن میں عنادل ترے بغیر پھولوں ...

مزید پڑھیے

ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیں

ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیں ہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیں بلائے محشر بھی سہل ان کو عذاب دوزخ بھی ان کو آساں جو تیری الفت میں اپنے دل پر غم جدائی اٹھا چکے ہیں عدو سے جا کر کرو یہ باتیں وہیں گزارو تم اپنی راتیں تمہاری باتوں میں آ چکے ہم ...

مزید پڑھیے

کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلوم

کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلوم کیا مرا مدعا نہیں معلوم درد دل کی دوا نہیں معلوم اب امید شفا نہیں معلوم جب سے تم نے نگاہ پھیری ہے دل کو کیا ہو گیا نہیں معلوم شکوہ سمجھو نہ تم تو کہہ بھی دوں تم کو رسم وفا نہیں معلوم جان لینے کی ٹھان لی ہے کیا کیوں ہو مجھ سے جدا نہیں معلوم شکوۂ بخت ہے ...

مزید پڑھیے

دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہی

دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہی حسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہی یہ دل بدل گیا کہ زمانہ بدل گیا یا تیری آنکھ میں وہ مروت نہیں رہی تیری نظر کے ساتھ بدلتا رہا ہے دل دو روز بھی تو ایک سی حالت نہیں رہی تر دامنی سے ہاتھ نہ دھو اے دل حزیں کیا اب خدا کی جوش پہ رحمت نہیں رہی دیکھے گا ...

مزید پڑھیے

وہ کبھی مائل وفا نہ ہوا

وہ کبھی مائل وفا نہ ہوا میرا چاہا ہوا برا نہ ہوا مر گئے وصل دل ربا نہ ہوا مدعا حسب مدعا نہ ہوا اس سے مضموں بندھا نہ چوٹی کا زلف جاناں پہ جو فدا نہ ہوا قید مرقد ملی پس مردن جان دے کر بھی میں رہا نہ ہوا تو نے یا رب زباں تو دی مجھ کو شکر تیرا مگر ادا نہ ہوا دم نکلتا بتوں پہ کیا ...

مزید پڑھیے

نشاں کسی کو ملے گا بھلا کہاں میرا

نشاں کسی کو ملے گا بھلا کہاں میرا کہ ایک روح تھا میں جسم تھا نشاں میرا ہر ایک سانس نیا سال بن کے آتا ہے قدم قدم ابھی باقی ہے امتحاں میرا مری زمیں مجھے آغوش میں سمیٹ بھی لے نہ آسماں کا رہوں میں نہ آسماں میرا چلا گیا ترے ہم راہ خوف رسوائی کہ تو ہی راز تھا اور تو ہی راز داں ...

مزید پڑھیے

تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے

تیرے ہمدم ترے ہم راز ہوا کرتے تھے ہم ترے ساتھ ترا ذکر کیا کرتے تھے ڈھونڈ لیتے تھے لکیروں میں محبت کی لکیر ان کہی بات پہ سو جھگڑے کیا کرتے تھے اک ترے لمس کی خوشبو کو پکڑنے کے لئے تتلیاں ہاتھ سے ہم چھوڑ دیا کرتے تھے وصل کی دھوپ بڑی سرد ہوا کرتی تھی ہم ترے ہجر کی چھاؤں میں جلا کرتے ...

مزید پڑھیے

ضرورت کچھ زیادہ ہو نہ جائے

ضرورت کچھ زیادہ ہو نہ جائے سمندر اور گہرا ہو نہ جائے یہ دھن یہ موج لے ڈوبے نہ مجھ کو بگولا غرق صحرا ہو نہ جائے ہوائیں سر برہنہ پھر رہی ہیں قبائے گل تماشا ہو نہ جائے ابھی کچھ تیر ترکش میں بھی ہوں گے پرانا زخم اچھا ہو نہ جائے قیامت کی گھڑی ہے آج سورج سوا نیزے سے اونچا ہو نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2399 سے 6203