قومی زبان

ہجرت

تم ہجرت کا کرب نہیں جانتے تم نے انتظار حسینؔ کے افسانے نہیں پڑھے ناصرؔ کاظمی کے اشعار میں چھپے ہوئے نوحے نہیں سنے جو ہندوستان کو بنتے دیکھا ہوتا گھروں کو جلتے دیکھا ہوتا عصمتیں لٹتی گردنیں کٹتی زندگی بکھرتی دیکھی ہوتی تو شاید تم ہجرت کا کرب جان لیتے فاسٹ فوڈ کے شوقین اپنے حال ...

مزید پڑھیے

آزادی

رستے میں پڑے روڑے پتھر پہرہ دیتے وردی والے دور سے آتا شور شرابہ نکڑ پہ پڑی خالی بوتل کار کے نیچے سوتا کتا اور غبار اڑاتی ہوائیں سب کچھ اچھا لگتا ہے جب چلنے کی آزادی ہو

مزید پڑھیے

ڈر

کیسے نکلے گا جیتے جی دل سے ڈر کا کا صاحب کب خوف کی وحشی گلیوں میں بھٹکی ہوئی ساعت لوٹے گی؟ کب اندیشوں کے سانپ مرے پیڑوں سے لپٹنا چھوڑیں گے؟ سہمے ہوئے شبدوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہوں کیسے بتلاؤں کیوں مجھ کو دن کے زہریلے ہاتھوں سے! شاموں کے سرخ آسیبوں سے، راتوں کی بے دل آنکھوں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں ستارے رہنے دے

آنکھوں میں ستارے رہنے دے جینے کے سہارے رہنے دے ہم کشتی جلا کر آئے ہیں اب روپ کنارے رہنے دے اس حسن سمندر کی جانب بہتے ہوئے دھارے رہنے دے یہ وقت تو اندھا سورج ہے کیوں رنگ تمہارے رہنے دے مت چھین پنپتی امیدیں کچھ پاس ہمارے رہنے دے وہ یاد تو آئے گا لیکن اب کون پکارے رہنے دے ہم ...

مزید پڑھیے

ہم کو آغاز سفر مارتا ہے

ہم کو آغاز سفر مارتا ہے مارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہے زندگی ہے مری مشکل میں پڑی عشق ہے کہ بے خبر مارتا ہے تری مجھ سے نہیں قربت نہ سہی مجھ کو تو حسن نظر مارتا ہے زندگی اس کی ہے محتاج مگر دے بھی سکتا ہے مگر مارتا ہے اک ہنسی گونجی تھی گھر میں میرے مجھ کو یادوں کا اثر مارتا ہے

مزید پڑھیے

زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے

زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے کہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہے حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے وہیں پہ گردشیں رک سکتی ہیں زمانے کی وہ جست بھرتا ہے اور پر جہاں سمیٹتا ہے اسے بتانا کہ تم جب کہیں بھی ٹوٹتے ہو تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ...

مزید پڑھیے

پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے

پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے میٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہے کسی کو دل پہ اجارہ کیسے ہو سکتا ہے من ہے مٹی گارا کیسے ہو سکتا ہے تارے نکلیں خوشبو مہکے رات رہے ہر پل اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے یہ سارے منظر تو اس کے ساتھ آئے اس سے میرا کنارا کیسے ہو سکتا ہے کیسے کوئی تنہا جی ...

مزید پڑھیے

وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہے

وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہے وہاں ہر خواب دفنایا گیا ہے مری الفت کو کیا سمجھے گا کوئی سبق نفرت کا دہرایا گیا ہے مرے اندر کا چہرہ مختلف ہے بدن پہ اور کچھ پایا گیا ہے ہوئی ہے زندگی افتاد ایسے ہوس میں ہر مزا پایا گیا ہے کہی ایسی ہے عنبرؔ اس کی ہر بات شکستہ دل کو تڑپایا گیا ہے

مزید پڑھیے

آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے

آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے قصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہے ساری دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا ہے حسن و عشق دعا سے پایا جا سکتا ہے جو مجھ میں ہو زلیخا تجھ میں یوسف کوئی عمروں کا سرمایہ لایا جا سکتا ہے اس کو کہنا مری آنکھوں کے کاسے میں دید کا اک سکہ تو دکھایا جا سکتا ہے ناداں ...

مزید پڑھیے

مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہے

مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہے تو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہے بغض اعدا خوۓ احباب سے کم واقف ہے جو مرے حلقۂ ارباب سے کم واقف ہے سطوت قصر شہی دھوکے میں رکھتا ہے کہ جو عظمت گنبد و حراب سے کم واقف ہے عشق کی چاہیے تعلیم ابھی اور اسے جو محبت ادب آداب سے کم واقف ہے زیست ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2377 سے 6203