قومی زبان

کسی محل میں نہ شاہوں کی آن بان میں ہے

کسی محل میں نہ شاہوں کی آن بان میں ہے سکون جو کسی ڈھابے کے سائبان میں ہے میں اس مقام پر ہوں جیسے کوئی خالی ہاتھ نگاہ حسرت و ارماں لئے دکان میں ہے درندے شہر میں آباد ہو گئے سارے سنا ہے ساتھ کا جنگل بڑی امان میں ہے یہ جانتا ہے پلٹ کر اسے نہیں آنا وہ اپنی زیست کی کھنچتی ہوئی کمان ...

مزید پڑھیے

مجھے رفعتوں کا خمار تھا سو نہیں رہا

مجھے رفعتوں کا خمار تھا سو نہیں رہا ترے دوستوں میں شمار تھا سو نہیں رہا جسے اب سمجھتے ہو بار دیدہ و جان پہ کبھی راہ منزل یار تھا سو نہیں رہا تری یاد بھی تیری یاد تھی سو چلی گئی ترا غم ہی میرا قرار تھا سو نہیں رہا رہ دوستی کے مسافرو ذرا دیکھ کر اسی رہ کا میں بھی سوار تھا سو نہیں ...

مزید پڑھیے

درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میں

درد اور غم کے مارے نکلے رات سفر صحرا اور میں ایک ہی جنگ کے ہارے نکلے رات سفر صحرا اور میں دکھ کی چادر تان کے ہم نے ہجر کی رات گزاری تھی آنسو جگنو تارے نکلے رات سفر صحرا اور میں غرق ہوئے پھر موج فنا میں اک اک کر کے سب کے سب دیکھو فانی سارے نکلے رات سفر صحرا اور میں ہم نے جس کی ...

مزید پڑھیے

سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں

سیم و زر کی کوئی تنویر نہیں چاہتی میں کسی شہزادی سی تقدیر نہیں چاہتی میں مکتب عشق سے وابستہ ہوں کافی ہے مجھے داد غالبؔ سند میرؔ نہیں چاہتی میں فیض یابی تری صحبت ہی سے ملتی ہے مجھے کب ترے عشق کی تاثیر نہیں چاہتی میں قید اب وصل کے زنداں میں تو کر لے مجھ کو یہ ترے ہجر کی زنجیر نہیں ...

مزید پڑھیے

عشق کی کوئی تفسیر تھی ہی نہیں

عشق کی کوئی تفسیر تھی ہی نہیں واسطے میرے تقدیر تھی ہی نہیں کس لیے ہو کے مجبور تم آئے ہو بیچ دونوں کے زنجیر تھی ہی نہیں عالم رنگ و بو کو سجایا گیا اس تماشے میں تقصیر تھی ہی نہیں تیرے درشن کو آنکھیں ترستی رہیں خانۂ دل میں تصویر تھی ہی نہیں اس کو عنبرؔ گھسیٹا گیا تھا یوں ...

مزید پڑھیے

دیواروں پہ کیا لکھا ہے

دیواروں پہ کیا لکھا ہے شہر کا شہر ہی سوچ رہا ہے غم کی اپنی ہی شکلیں ہیں درد کا اپنا ہی چہرہ ہے عشق کہانی بس اتنی ہے قیس کی آنکھوں میں صحرا ہے کوزہ گر نے مٹی گوندھی چاک پہ کوئی اور دھرا ہے عنبرؔ تیرے خواب ادھورے تعبیروں کا بس دھوکا ہے

مزید پڑھیے

کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے

کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے دور تک خواہش اڑتی جاتی ہے دل وہ میرا عجب بہانوں سے توڑتی ہے کبھی بناتی ہے جوں ہی ہوتی ہوں گم کہانی میں تری تصویر ڈھونڈ لاتی ہے دس محرم کو پیاس کربل کی مجھ کو ہر بار ہی رلاتی ہے اپنی زر خیزیاں بڑھانے کو گیلی مٹی مجھے بلاتی ہے عشق عنبرؔ وہ بے قراری ...

مزید پڑھیے

کیوں میں بار دگر جاؤں

کیوں میں بار دگر جاؤں پھر سے اس کے در جاؤں تجھ آنکھوں سے جہاں دیکھوں بے رنگی سے ڈر جاؤں تو چاہے تو جی اٹھوں تو چاہے تو مر جاؤں میں بے انت سمندر ہوں کیسے دریا میں اتر جاؤں چادر شب ہوں میں تیری تو اوڑھے تو سنور جاؤں خواب نہ دیکھوں تو عنبرؔ شاید میں بھی مر جاؤں

مزید پڑھیے

باندیاں

میرے مالک کیا ہم باندیاں ہیں جو آگ میں جلا کر مار دی جائیں ہم وہ جوانیاں ہیں محبت کے نام پر جو مسل دی جائیں ہم وہ کلیاں ہیں ہوس کا نشانہ بنا کر جن کے پر نوچ لئے جائیں ہم وہ تتلیاں ہیں جو مصلحت کے نام پر قربان کر دی جائیں ہم وہ بیٹیاں ہیں جو شرعی جائیداد سے محروم کر دی جائیں ہم وہ ...

مزید پڑھیے

امید

ٹھہرو ذرا میں آتی ہوں سورج سے نور کی کرنیں لے کر کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لے کر کسی خوشبو بھرے جنگل سے تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں تم ٹھہرو میں آتی ہوں شام کے ڈھلتے منظر نامے سے میں تو جگنو پکڑنے ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں رات آئے تو مت ڈرنا ستاروں سے رستے پوچھ کر تم کو بتاتی ہوں خواب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2376 سے 6203