قومی زبان

لوگ لڑتے رہے نام آئے طلب گاروں میں

لوگ لڑتے رہے نام آئے طلب گاروں میں ہم کہ چپ چاپ کھڑے تھے ترے بیماروں میں ظلم کے ہم ہیں مخالف مگر اک دن کے لئے شور ہر روز نیا اٹھتا ہے اخباروں میں آج کل شکوۂ ناپید ہے جس غیرت کا خوب بکتی ہے مرے شہر کے بازاروں میں فخر کیا کم ہے کہ نیلامیٔ یوسف میں نعیمؔ تہی داماں تھے مگر تھے تو ...

مزید پڑھیے

جو اس آنکھ سے نکلا ہوگا

جو اس آنکھ سے نکلا ہوگا آنسو میرے جیسا ہوگا اس کی یاد میں کھو کر خود کو ریزہ ریزہ چنتا ہوگا دل کے تہہ خانے میں کوئی سیڑھی سیڑھی اترا ہوگا شام ڈھلے اک ہوک سنی ہے یاد کا پنچھی لوٹا ہوگا دل کی اجڑی کھیتی میں بھی خواب سہانے بوتا ہوگا آؤ میخانے میں ڈھونڈیں کوئی تو ہم جیسا ہوگا

مزید پڑھیے

گن رہے ہیں دل ناکام کے دن

گن رہے ہیں دل ناکام کے دن پھر وہی گردش ایام کے دن دکھ سے آغاز اور غم پہ اخیر ہم نے پائے بڑے انعام کے دن ہے یہی سوچ کر آرام ہمیں مل گئے ہیں انہیں آرام کے دن اب نہیں کام کوئی دنیا کا گویا یہ دن ہیں بڑے کام کے دن ہیں وہ پھر سے مرے نزدیک نعیمؔ آئے اندیشۂ انجام کے دن

مزید پڑھیے

آکٹوپس

مذہب کا آکٹوپس پکڑ لیتا ہے فرد کو اس کے بازو پھیل جاتے ہیں ہر مسام ہر عضو پر یہ حاوی ہو جاتا ہے ہر ہر سانس پر عفریت بن کر نگل لیتا ہے جذبات کے ریشمی تھانوں کو مسل کر رکھ دیتا ہے دل سوختہ کی ہر خواہش کو سلیں رکھ دیتا ہے دل نازک پر اوپر سے نیچے تک بے شمار بے حساب جو مچلے شکار اس کا اور ...

مزید پڑھیے

عورت

تم مری آواز دبا نہیں سکتے مرے لکھے ہوئے الفاظ مٹا نہیں سکتے نہیں رکھ سکتے مجھے پابند سلاسل تم مری آواز دبا نہیں سکو گے ناخن شوق سے روزانہ کریدونگی میں ایک نئی دیوار تاکتا پرواز سے مسخر کروں گی نئے جہان پر کاٹ کر مرے پنجرے میں مقید نہیں کر سکتے تم خواب نوچ کر مری آنکھیں تسخیر نہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی تو نے کبھی خود کو سنوارا بھی نہیں

زندگی تو نے کبھی خود کو سنوارا بھی نہیں جھلملاتا ترے ماتھے پہ ستارا بھی نہیں سر ٹکایا ہی تھا دیوار پہ آنکھیں چھلکیں آج وہ وقت ہے تنکے کا سہارا بھی نہیں گاؤں کے کچے مکاں بوڑھے شجر یاد آئے شہر بے درد میں اب میرا گزارا بھی نہیں لفظ نے آہیں بھریں اور قلم بھی رویا درد کاغذ پہ ابھی ...

مزید پڑھیے

محبتوں میں ہتھیلی پہ لے کے سر آئے

محبتوں میں ہتھیلی پہ لے کے سر آئے بلا کشان جنوں کیسے بے خطر آئے تلاش وہ کرے خوشیاں کہ شوق ہے اس کا غموں کو لے کے جیوں مجھ کو یہ ہنر آئے میں جاگوں خواب سے تو سامنے اسے دیکھوں مرے نصیب میں ایسی کوئی سحر آئے ذلیل کر ہی دیا اس نے میرے جذبوں کو وہ جس پہ ہم تو سبھی کچھ نثار کر آئے یہ ...

مزید پڑھیے

ماہیٔ ریگ ہوں گھر میرا سمندر کر دے

ماہیٔ ریگ ہوں گھر میرا سمندر کر دے موج در موج کی طغیانی مقدر کر دے بے حسی کی ہے قبا روح کے تن پر یارب اس کو احساس کی خوشبو سے معطر کر دے اک زمانے سے دیا ہی نہ جلا اس گھر میں دل کو ایقان کی مشعل سے منور کر دے کتنا پایاب ہے گہرائی عطا کر یا رب دشت افکار کو اک روز سمندر کر دے وہ کسی ...

مزید پڑھیے

دیدۂ بینا ہے تو ہوگی ہی جلوہ آشنا

دیدۂ بینا ہے تو ہوگی ہی جلوہ آشنا قطرہ دریا آشنا تو صحرا ذرہ آشنا یوں تو کہنے کو سبھی ہیں ایک دنیا آشنا دل ہی جانے ہے یہاں اب کون کس کا آشنا عطر کتنے استعاروں نے کیا ان سے کشید شاخ پر ہیں جھومتے یہ پھول شعلہ آشنا اکتفا نان جویں پر اب کیا جاتا نہیں لذت کام و دہن ہے من و سلویٰ ...

مزید پڑھیے

تیری آنکھوں کے دو ستارے تھے

تیری آنکھوں کے دو ستارے تھے جن پہ ہم دو جہان ہارے تھے ساری تعریف تھی اسے زیبا جتنے بہتان تھے ہمارے تھے جتنی آنکھیں تھیں ساری میری تھیں جتنے منظر تھے سب تمہارے تھے دن وہی عمر بھر کا حاصل ہیں جو تری یاد میں گزارے تھے

مزید پڑھیے
صفحہ 2375 سے 6203