قومی زبان

شعور ذات کے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہوں

شعور ذات کے سانچے میں ڈھلنا چاہتا ہوں میں گرنے سے بہت پہلے سنبھلنا چاہتا ہوں لباس آدم خاکی بدلنا چاہتا ہوں میں اپنے جسم سے باہر نکلنا چاہتا ہوں تمہاری یاد کی بارش میں جلنا چاہتا ہوں میں سنگ و خشت ہوں لیکن پگھلنا چاہتا ہوں مرے اندر خزانے ہیں اگلنا چاہتا ہوں تہہ پاتال کو چھو کر ...

مزید پڑھیے

چشم و دل صاحب گفتار ہوئے جاتے ہیں

چشم و دل صاحب گفتار ہوئے جاتے ہیں راستے عقل کو دشوار ہوئے جاتے ہیں ہجر دیرینہ سے اب خوش تھے بہت میں اور وہ اب مگر فاصلے بیزار ہوئے جاتے ہیں وہ نگاہیں ہیں مغنی کی تھرکتی پوریں ساز سوئے ہوئے بیدار ہوئے جاتے ہیں شعر گوئی ترا منصب تو نہیں طفل سخن ہاں مگر ہجر میں دو چار ہوئے جاتے ...

مزید پڑھیے

فیصلہ ہو گیا ہے رات گئے

فیصلہ ہو گیا ہے رات گئے لوٹنے وہ گیا ہے رات گئے وہ سحر کا سفیر تھا شاید روشنی بو گیا ہے رات گئے عشق تو بھی ذرا ٹکا لے کمر دل بھی اب سو گیا ہے رات گئے وقت کانٹے نئے بچھائے گا راستے دھو گیا ہے رات گئے چین پڑتا نہیں نعیمؔ تجھے جانے کیا کھو گیا ہے رات گئے

مزید پڑھیے

بکھرا ہے کئی بار سمیٹا ہے کئی بار

بکھرا ہے کئی بار سمیٹا ہے کئی بار یہ دل ترے اطراف کو نکلا ہے کئی بار جس چاند کے دیدار کی حسرت میں ہے دنیا وہ شام ڈھلے گھر مرے اترا ہے کئی بار سن کر تجھے مدہوش زمانہ ہے مجھے دیکھ جس نے تری آواز کو دیکھا ہے کئی بار افسوس کہ ہے عشق یگانہ سے بہت دور یارو تمہیں ہر روز جو ہوتا ہے کئی ...

مزید پڑھیے

وقت کا سلسلہ نہیں رکتا

وقت کا سلسلہ نہیں رکتا لاکھ روکو ذرا نہیں رکتا یہ زمیں ہے خداؤں کا مدفن آدم کج ادا نہیں رکتا عشق وہ چار سو سفر ہے جہاں کوئی بھی راستہ نہیں رکتا رفتگاں آئینہ دکھاتا ہے کچھ بھی ہو ارتقا نہیں رکتا

مزید پڑھیے

ہر سچ بات میں ہم دونوں ہیں

ہر سچ بات میں ہم دونوں ہیں الزامات میں ہم دونوں ہیں قریہ قریہ بستی بستی موضوعات میں ہم دونوں ہیں سسی پنوں لیلیٰ مجنوں قصہ جات میں ہم دونوں ہیں خبروں کا عنوان ہو جو بھی تفصیلات میں ہم دونوں ہیں سارے مسلک ایک ہوئے ہیں سب کی گھات میں ہم دونوں ہیں جن حالات سے ڈرتے تھے ہم ان ...

مزید پڑھیے

منزل ہے تو اک رستۂ دشوار میں گم ہے

منزل ہے تو اک رستۂ دشوار میں گم ہے رستہ ہے تو پیچ و خم دل دار میں گم ہے جس دین سے ملتا تھا خدا خانۂ دل میں ملا کے سجائے ہوئے بازار میں گم ہے اجزائے سفر ورطۂ حیرت میں پڑے ہیں رفتار ابھی صاحب رفتار میں گم ہے سائل ہیں کہ امڈے ہی چلے آتے ہیں پیہم وہ شوخ مگر اپنے ہی دیدار میں گم ...

مزید پڑھیے

غیر کے گھر سہی وہ آیا تو

غیر کے گھر سہی وہ آیا تو غم ہی میرے لئے وہ لایا تو دشمنوں کو معاف کر ڈالا دوستوں سے فریب کھایا تو پیڑ کے گھونسلوں کا کیا ہوگا گھر اسے کاٹ کر بنایا تو پھر مرے سامنے تھی اک دیوار ایک دیوار کو گرایا تو کس قدر زور سے ہوئی بارش میں نے کاغذ کا گھر بنایا تو کیا کرو گے نعیمؔ سال نو پیش ...

مزید پڑھیے

جفائے عہد کا الزام الٹ بھی سکتا ہوں

جفائے عہد کا الزام الٹ بھی سکتا ہوں اسے یقین نہ تھا میں پلٹ بھی سکتا ہوں میں اپنے عشق میں شاہیں مزاج رکھتا ہوں پلٹ تو جاتا ہوں لیکن جھپٹ بھی سکتا ہوں جنوں میں ظلم کی گردن اتار لیتا ہوں تو اک نگاہ محبت میں کٹ بھی سکتا ہوں عدوئے شہر میں بارود ہوں محبت کا حدوں سے بات بڑھے گی تو پھٹ ...

مزید پڑھیے

ہو گئے ہم شکار پھولوں کے

ہو گئے ہم شکار پھولوں کے ہیں غضب اختیار پھولوں کے میری تنہائیاں بتاتی ہیں پھول ہوتے ہیں یار پھولوں کے ایک منزل ہے مختلف راہیں رنگ ہیں بے شمار پھولوں کے آج پھولوں کے عالمی دن پر اس نے بھیجے ہیں خار پھولوں کے پھول ہیں شعر بوئے گل دھن ہے ہم ہیں نغمہ نگار پھولوں کے

مزید پڑھیے
صفحہ 2374 سے 6203