قومی زبان

نظر سے جس کی اب مستور ہوں میں

نظر سے جس کی اب مستور ہوں میں اسی کی یاد سے معمور ہوں میں چٹانوں کی طرح مد مقابل مگر اندر سے چکنا چور ہوں میں شب ظلمت نہیں حوا کی بیٹی اجالا ہوں سحر کا نور ہوں میں محبت کا تقاضہ ہے مروت سمجھنا یہ نہیں مجبور ہوں میں وفا کا پیار کا پیکر ہوں لیکن جو ہو صیاد تو زنبور ہوں میں ہوا لے ...

مزید پڑھیے

بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں

بے لوث محبت کا صلہ ڈھونڈھ رہا ہوں ناداں ہوں یہ اس شہر میں کیا ڈھونڈھ رہا ہوں اک موڑ پہ ٹوٹے ہوئے کھنڈر سے مکاں میں گزرے ہوئے لمحوں کا پتا ڈھونڈھ رہا ہوں مدت سے یہ خنجر مرے سینے میں ہے اور میں رستے ہوئے زخموں کی دوا ڈھونڈھ رہا ہوں دیوانہ جسے سنگ تراشی کا جنوں ہے کہتا ہے کہ پتھر ...

مزید پڑھیے

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی

مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی ان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گی آگ گلشن میں لگا دی اور سوچا بھی نہیں ان گلوں کے ساتھ کتنی تتلیاں جل جائیں گی نفرتوں کی آندھیاں یوں ہی اگر چلتی رہی راکھ میں پنہاں ہیں جو چنگاریاں جل جائیں گی آسمانوں کو جلا کر ایک دن پچھتاؤ گے جل ...

مزید پڑھیے

سر برہنہ بھری برسات میں گھر سے نکلے

سر برہنہ بھری برسات میں گھر سے نکلے ہم بھی کس گردش حالات میں گھر سے نکلے دن میں کس کس کو بتائیں گے مسافت کا سبب بس یہی سوچ کے ہم رات میں گھر سے نکلے سر پہ خود اپنی صلیبوں کو اٹھائے ہم لوگ روح کا بوجھ لئے ذات میں گھر سے نکلے کب برس جائیں ان آنکھوں کا بھروسہ ہی نہیں کون بے وقت کی ...

مزید پڑھیے

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے

اب کسی کو کیا بتائیں کس قدر نادان تھے ہم وہیں کشتی کو لے آئے جہاں طوفان تھے کچھ تڑپتی آرزوئیں چند بے معنی سوال کارواں میں سب کے سر پر بس یہی سامان تھے ہم نے اس دنیا کے مے خانہ میں یے دیکھا فریب بس وہی پیاسے رہے جو صاحب ایمان تھے زلزلوں پر آ گیا الزام اچھا ہی ہوا ورنہ اس تخریب کے ...

مزید پڑھیے

دھوپ تھی صحرا تھا لیکن جسم کا سایہ نہ تھا

دھوپ تھی صحرا تھا لیکن جسم کا سایہ نہ تھا آدمی اس سے زیادہ تو کبھی تنہا نہ تھا کھینچتے تھے اپنی جانب ریگزاروں کے سراب دور تک صحرا میں لیکن آب کا قطرہ نہ تھا ایک مبہم خواب تھا آنکھوں میں اور دل میں جنوں ذہن میں لیکن عمارت کا کوئی نقشہ نہ تھا بھیڑ تھی بستی میں لیکن میں کسے ...

مزید پڑھیے

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ

یوں تو خود اپنے ہی سائے سے بھی ڈر جاتے ہیں لوگ حادثے کیسے بھی ہوں لیکن گزر جاتے ہیں لوگ جب مجھے دشواریوں سے رو بہ رو ہونا پڑا تب میں سمجھا ریزہ ریزہ کیوں بکھر جاتے ہیں لوگ صرف غازہ ہی نہیں چہروں کی رعنائی کا راز شدت غم کی تپش سے بھی نکھر جاتے ہیں لوگ مسئلے آ کر لپٹ جاتے ہیں بچوں ...

مزید پڑھیے

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو

جنوں ہے ذہن میں تو حوصلے تلاش کرو مثال آب رواں راستے تلاش کرو یہ اضطراب رگوں میں بہت ضروری ہے اٹھو سفر کے نئے سلسلے تلاش کرو یہ سر زمین سفر کے لئے بہت کم ہے چلو افق پہ نئے مرحلے تلاش کرو جو تھک گئے ہو یہ بوسیدہ زندگی جی کر تو زندگی کے الگ زاویے تلاش کرو جو چاہتے ہو کہ اخبار چل ...

مزید پڑھیے

وہ میرا دوست ہے اور مجھ سے واسطہ بھی نہیں

وہ میرا دوست ہے اور مجھ سے واسطہ بھی نہیں جو قربتیں بھی نہیں ہیں تو فاصلا بھی نہیں کسے خبر تھی کہ اس دشت سے گزرنا ہے جہاں سے لوٹ کے آنے کا راستہ بھی نہیں کبھی جو پھوٹ کے رو لے تو چین پا جائے مگر یہ دل مرے پیروں کا آبلہ بھی نہیں سنا ہے وہ بھی مرے قتل میں ملوث ہے وہ بے وفا ہے مگر ...

مزید پڑھیے

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے

اگر چراغ بھی آندھی سے ڈر گئے ہوتے تو سوچیے کہ اجالے کدھر گئے ہوتے یہ میرے دوست مرے چارہ گر مرے احباب نہ چھیڑتے تو مرے زخم بھر گئے ہوتے کوئی نگاہ جو اپنی بھی منتظر ہوتی تو ہم بھی شام ڈھلے اپنے گھر گئے ہوتے اگر وہ میری عیادت کو آ گیا ہوتا تو دوستوں کے بھی چہرے اتر گئے ہوتے ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2370 سے 6203